جغرافیہ اور  دفاع  (1)

جغرافیہ اور  دفاع  (1)
جغرافیہ اور  دفاع  (1)

  

آج کے کالم کے بہت سے عنوانات ہو سکتے تھے جن پر قلم اٹھانے کے لئے دِل بار بار مچلا اور میں نے بار بار اس کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا……ان میں سے چند ایک کی جھلکیاں قارئین کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔

ایک تو وزیراعظم کا11مارچ کو لوئر دیر کا وہ جلسہ تھا جس میں ان کے خطاب نے بہت سے سوال ذہن میں اجاگر کر دیئے۔پہلا سوال یہ تھا کہ عمران خان نے اپنے آرمی چیف کے کہنے کے باوجود مولانا فضل الرحمن کو ”ڈیزل“ کے خطاب سے پکارا۔سوال یہ ہے کہ کیا کوئی جمہوری وزیراعظم اپنے آرمی چیف کے مشورے کے خلاف جا سکتا ہے اور نہ صرف ”جا“ سکتا ہے بلکہ ”اخیر“ کر سکتا ہے؟ اخیر یا آخر تک جانے کا مطلب یہ بھی تو ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم اور پاکستان کے سپہ سالار کے افکار ایک دوسرے سے180 ڈگری تک مختلف اور معکوس ہیں۔ایک قطب شمالی پر فروکش ہے اور دوسرا قطب جنوبی پر بیٹھا ہے۔لیکن جو دلائل عمران خان نے مولانا کو ڈیزل کہنے کے بارے میں دیئے وہ اتنے مدلّل اور مسکت تھے کہ اُن کو جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا۔

اور مولانا ہی پر کیا منحصر ملک کے دو دوسرے چوٹی کے سیاسی رہنما بھی یہی راگ الاپتے نظر آتے تھے۔اسی روز (جمعہ) دنیا نیوز چینل پر ”دنیا کامران کے ساتھ“ ایک ٹاک شو میں نون لیگ، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کے متعدد بیانات پردہ سکرین پر لائے گئے جن میں ان تینوں حضرات نے ماضی میں اپنی فوج کے خلاف ہرزہ سرائیوں میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔اسی فوج کا آرمی چیف اگر کسی سیاسی پارٹی کے قائد کے خلاف زبان بندی کا مشورہ دیتا ہے تو یہ ایک ایسی مصلحت کوشی ہو سکتی ہے جس کے بارے میں مولانا ظفر علی خان نے فرمایا تھا:

نکل جاتی ہے سچی بات جس کے منہ سے مستی میں 

فقیہہِ مصلحت بیں سے وہ رندِ بارہ خوار اچھا

عمران خان ایک ایسا ہی رند ِ بارہ خوار ہے۔…… دوسرا موضوع جس پر لکھنے کو دلِ بے تاب  نے بہت اکسایا وہ پارلیمینٹ لاجز میں سیکیورٹی فورسز کا ”کلین اپ“ آپریشن تھا جس میں 60،70 انصار الاسلام کے باریش حضرات کو پکڑ  کر لاجز سے باہر نکالا گیا۔اس موضوع پر بھی الیکٹرانک میڈیا نے کھل کر نقد و نظر کیا،حسب ِ معمول فریقین کو اپنے ٹاک شوز میں مدعو کر کے ان کے موقف سنائے اور اس طرح ”حق ِ غیر جانبداریت“ ادا کیا…… اور تیسرا موضوع الیکشن کمیشن کا وہ  حکم تھا جس میں فرمایا گیا کہ وزیراعظم جمعہ والے لوئر دیر کے جلسے میں عوام سے خطاب نہیں کر سکتے۔ لیکن اس ”حکم“ کے خلاف وزیراعظم نے بلکہ ان کے جیدّ سیاسی زعماء اور وزرائے کرام نے بھی نہ صرف شرکت کی، بلکہ خطاب بھی کیا، ہر چند پاکستان کے اٹارنی جنرل نے الیکشن کمیشن کے حکم کو قانون سے ماوراء قرار دیا۔لیکن الیکشن کمیشن نے فی الفور ایک اور حکم دیا کہ نہ صرف وزیراعظم بلکہ ان کے سیاسی رفقائے کار بھی ایک مقررہ تاریخ پرکمیشن کے سامنے اصالتاً یا وکالتاً حاضر ہوں اور جواب دیں کہ انہوں نے کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کیوں کی۔ …… چوتھا موضوع ڈی چوک میں حکومتی جلسے کے مقابل اپوزیشن کا جلسہ تھا جس پر ”کھلے دِل سے“ کالم آرائی کی جا سکتی تھی۔ان کے علاوہ اِن دنوں لمحہ بہ لمحہ اور بھی بہت سے موضوعات ”برپا“ ہو رہے ہیں جو بے چارے ایک ہزار الفاظ پر مشتمل اخباری کالم کا مواد بن سکتے ہیں اور بن بھی چکے ہیں یا بن رہے ہیں اور قارئین کی نظروں سے گزر رہے ہوں گے۔…… اس وجہ سے راقم السطور نے اس تجزیاتی عبارت آرائی سے گریز کیا ہے اور حسب ِ معمول ایک ایسے موضوع کو کالم کا عنوان بنایا ہے جس کا تعلق امروز و فردا کی کسی سیاسی ہنگامہ آرائی سے نہیں۔

کیا کسی ملک کا جغرافیہ اس کو بیرونی حملہ آوروں سے بچا سکتا ہے؟……یہ سوال اگلے روز ایک قاری نے پوچھا اور ساتھ ہی یہ بھی سوال کیا کہ روس اور یوکرائن کے درمیان جو جنگ جاری ہے،اس کا تاحال کوئی فیصلہ اگر نہیں ہوا تو کیا اس عدم فیصلے میں بھی دونوں ممالک کے درمیان کسی جغرافیائی عنصرکا کوئی رول ہے؟……میں دوسرے سوال کا جواب پہلے دینا چاہوں گا۔

یوکرائن کو اگر جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو دو ہمسایوں کے درمیان ایک سینڈوچ ملک ہے۔اس کے مشرق میں روس ہے اور مغرب میں ناٹو ہے۔جہاں تک شمال کا تعلق ہے تو اُس جانب بیلا رس واقع ہے جو روس کا اتحادی ہے اور جنوب میں بحیرہئ بالٹک ہے جس کا مشرقی ساحل روس سے ملحق ہے۔ان کالموں میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ رقبے کے لحاظ سے یوکرائن یورپ کا سب سے بڑا ملک ہے۔روس چونکہ یورپ میں بھی ہے اور ایشیا میں بھی اس لئے اس کو یوریشیا کا ملک شمار  کیا جاتا ہے۔دنیا کا کوئی اور ملک (ماسوائے ترکی کے) دو براعظموں میں واقع نہیں۔ترکی کا ایک نہایت کم علاقہ یورپ میں ہے اور باقی  اناطولیہ(ایشیاء) میں ہے۔

یوکرائن کا شرقاً غرباً  طول800 میل(1200کلو میٹر) ہے اور شمالاً جنوباً360 میل(540 کلو میٹر) ہے۔ اس پہنائی میں کوئی ایسا پہاڑ یا دریا نہیں جو  ناقابل ِ عبور ہو۔ آب و ہوا بھی بہت خوشگوار ہے،بلکہ دنیا کی حسین ترین عورتیں یونان اور لبنان کے علاوہ اسی یوکرائن میں پائی جاتی ہیں۔…… روس، یوکرائن سے سائز اور عسکری قوت کے لحاظ سے کہیں بڑا اور طاقتور ملک ہے۔اگر آج 18روز گزر جانے کے بعد بھی ماسکو کیف پر قبضہ نہیں کر سکا تو یہ روس کی کمزوری نہیں بلکہ سٹرٹیجی ہے۔وہ چاہتا تو ایک ہفتے کے اندر اندر پورے یوکرائن کو روند سکتا تھا۔لیکن وہ عمداً ایسا نہیں کر رہا۔ یوکرائن کی ساری دفاعی تنصیبات اور عسکری پیداوار کے کارخانے ایک ایک کر کے تباہ کئے جا رہے ہیں تاکہ یوکرائن پر اگر قبضہ نہ بھی کیا جائے تواس کی دفاعی اساس کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا جائے۔دنیا کی تاریخ ِ جنگ میں روس پہلا ملک ہے جس نے اپنے حریف پر جنگ کی صورت حال میں ہر طرح کی سبقت حاصل ہونے کے بعد بھی قبضہ نہیں کیا۔کل کلاں اگر روس، یوکرائن کے تباہ شدہ ملک پر قبضہ ختم بھی کر دے تو یورپ اور امریکہ کو اس کی تعمیر نو کے لئے ایک اور مارشل پلان ترتیب دینا پڑے گا جس میں شاید کم از کم دس پندرہ برس لگ جائیں۔…… دوسرے لفظوں میں روس، یوکرائن کا قدرتی جغرافیہ تو تبدیل نہیں کر سکتا،البتہ اس کی سرزمین پر بنائے گئے صنعتی،زراعتی اور عسکری پیداوار کے صنعتی کارخانوں، زرعی فارموں اور عسکری پیداوار کی فیکٹریوں کو طویل عرصے تک مفلوج بنانا چاہتا ہے…… اور اس کی یہ سٹرٹیجی بظاہر کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے!

جغرافیائی محل وقوع اور دفاع کے باہمی تعلق کو دیکھنا ہو تو تاریخ ِ عالم پر نظر ڈالیں۔دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں تین چار ممالک کے نام لئے جاتے ہیں۔یونانی، مصری، چینی اور ہندوستانی تہذیبوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ سکندر اعظم کا تعلق یونان سے تھا۔وہ356 ق م میں پیدا ہوا اور مصر و ایران کو فتح کرتا ہندوستان میں داخل ہوا۔سکندری فوج نے کوئی سمندری راستہ اختیار نہیں کیا۔اس کی تمام تر فوج گھڑ سوار تھی۔یونان سے نکلا تو مصر و فارس کے ریگستانوں اور کوہستانوں کو گھوڑے کی پیٹھ پر عبور کیا۔…… اسی طرح چینی افواج بھی صدیوں تلک اپنے ہمسائے منگولوں کے زیر عتاب رہیں۔”دی آرٹ آف وار“ کے پیش لفظ میں بریگیڈیئر جنرل فلپس لکھتا ہے……”سب سے حیران کن انجینئرنگ کارنامہ جو اہل ِ چین نے انجام دیا وہ دیوارِ چین کی تعمیر تھی۔اس کو ”گریٹ وال“ (عظیم دیوار) بھی کہا جاتا ہے۔بہت سے مورخین نے شہنشاہ چِن ہوانگ۔ ٹی(Chin Hwang-Ti) کو اسی دیوار کا اصل معمار قرار دیا ہے۔لیکن جب وہ221 ق م میں تخت پر بیٹھا تو بعض تاریخی حوالے بتاتے ہیں کہ یہ دیوار اُس وقت بھی موجود تھی۔“اس دیوار نے اگرچہ چنگیز خان کو چین پر حملہ کرنے سے باز نہ رکھا لیکن اس کی یلغار میں منگول فوج کے ہزاروں گھڑ سوار ہلاک ہوئے۔یعنی دیوارِ چین وہ جغرافیائی فیچر تھا جس نے چین کے دفاع میں ایک اہم رول ادا کیا۔مصر کی قدیم تہذیب کا ذکر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے قصے کے بغیر ممکن نہیں۔دریائے نیل کو عبور کرنے میں اسرائیلی قوم کو جو تقریباً پیدل تھی، جب دریائے نیل کے جغرافیائی فیچر کو عبور کرنا پڑا تو اس کی مدد خدا کی طرف سے آئی۔خدا نے دریا کو دو نیم کر دیا اور اسرائیلیوں کو (حضرت موسیٰ علیہ السلام سمیت) وہاں سے نکال لیا۔

اب اپنے برصغیر کا ذکر کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -