بھارتی فوجیوں نے کپواڑہ میں ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا

بھارتی فوجیوں نے کپواڑہ میں ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا

  

       سرینگر، جموں، اسلام آباد (این این آئی)غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں ضلع کپواڑہ میں ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کر دیاجس سے جمعرات سے مقبوضہ علاقے میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد آٹھ ہو گئی کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوان کو ضلع کے علاقے نیوچاما میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا بھارتی فوج نے صحافیوں کو بتایا کہ کپواڑہ میں نصف شب کے بعد مشترکہ کارروائی شروع کی گئی آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں فوجی آپریشن جاری تھا اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔دوسری جانب غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جسمانی طورپر معذورافراد کی تنظیم”ہینڈی کیپڈ ایسوسی ایشن“ نے اپنے مطالبات کے حق میں جموں میں ایک احتجاجی ریلی نکالی کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہینڈی کیپڈ ایسوسی ایشن نے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں منگل کو سول سیکرٹریٹ کاگھیراؤ کرنے کا انتباہ دیا  معذور افراد کی ایک بڑی تعداد جموں کے ڈوگرہ چوک کے قریب جمع ہوئی اور احتجاج درج کرایا۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرشید بٹ نے کی۔بعد ازاں مظاہرین نے پانامہ چوک کے قریب ڈویژنل کمشنر آفس کی طرف مارچ کیا اور ایڈیشنل ڈویژنل کمشنر جموں کو مطالبات کی ایک یادداشت پیش کی عبدالرشید بٹ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ”ڈس ایبلیٹیزایکٹ 2016“ پر عملدرآمد، معذور افراد کیلئے خصوصی بھرتی مہم، ماہانہ وظیفہ1000 روپے سے بڑھا کر 4000 روپے کرنے اور تمام سرکاری ملازمتوں میں معذور افراد کے لیے کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔اسلام آبادسے این این آئی کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے موت اور تباہی کا بھیانک رقص جاری ہے کیونکہ بے گناہ نوجوانوں کا قتل بھارتی فوجیوں کا معمول بن چکا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے  جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز پلوامہ، گاندربل اور ہندواڑہ کے علاقوں میں مزید 4 کشمیری بھارتی گولیوں کا شکاربن گئے اور آج کپواڑہ میں بھارتی فوجیوں نے ایک اورکشمیری کو شہید کردیا جس سے جمعرات سے سفاک فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیریوں کی تعداد 8ہوگئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض فوجیوں نے1989 سے اب تک 95ہزار980 سے زائد کشمیریوں کوشہید کیا ہے رپورٹ میں کہا گیا کہ ہر قتل کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں نئی قوت پیدا کرتا ہے کیا وقت نہیں آیا کہ دنیا مقبوضہ جموں وکشمیر میں فسطائی مودی کی بربریت کا نوٹس لے؟رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بے گناہ کشمیریوں کا قتل عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے اورمقبوضہ علاقے میں روزانہ قتل و غارت بھارت کے غیر قانونی قبضے کا نتیجہ ہے۔ دوسری جانب غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی طور پر نظر بندکل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ نے بھارتی ریاستی دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور علاقے میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی ہے۔  کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شبیر احمد شاہ نے نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوجیوں کے مسلسل تشدد اور خونریزی نے کشمیریوں کی بقاء کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے جو بھارت کے وحشیانہ مظالم کا شکار ہیں۔حریت رہنما نے پلوامہ، ہندواڑہ اور گاندربل کے علاقوں میں نوجوانوں کے حالیہ قتل کو بھارتی حکومت کی منظم نسل کشی مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے کی صورت حال کا جائزہ لیں اور وہاں کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو روکنے میں مدد کریں۔انہوں نے ضلع اسلام آباد کے علاقے کوکرناگ میں ایک دینی مدرسے کو سیل کرنے اوراین آئی اے اہلکاروں کی طرف سے طالبات کو ہراساں کرنے کی بھی مذمت کی۔

کشمیر

مزید :

صفحہ آخر -