گھر بنانے کیلئے ایمنسٹی سکیم میں توسیع کی جائے: بلڈرز اینڈ ڈویلپرز

  گھر بنانے کیلئے ایمنسٹی سکیم میں توسیع کی جائے: بلڈرز اینڈ ڈویلپرز

  

          لاہور (میاں اشفاق انجم،تصاویر،ایوب بشیر) ایف بی آر ریٹس میں 150سے250فیصد اضافے سے ملک بھر میں خرید و فروخت کو بریک لگ گئی ہے۔وزیراعظم کے تعمیراتی پیکیج اور گھر بنانے کی ایمنسٹی سکیم کی وجہ سے پراپرٹی سے منسلک 40شعبوں میں کام شروع ہو گیا تھا۔ ایف بی آر کی طرف سے ٹیبلز ریٹس مسلط کرنے سے بحران جنم لے رہا ہے حکومتی ریونیو میں بھی کمی ہو گئی ہے۔وزیر خزانہ سٹیک ہولڈر سے مشاورت کے ساتھ پرانے ریٹس بحال کریں،گھر بنانے کی ایمنسٹی سکیم میں توسیع کریں۔ان خیالات کا اظہار ڈی ایچ اے کے سابق سینئر نائب صدر کرنل (ر) محمد صدیق،سابق سیکرٹری چودھری مقرب وڑائچ، پاک بزنس گروپ کے چیئرمین میجر غلام محی الدین، الخدمت گروپ کے قائد حسین اختر عباسی، رب نواز محمد، جوبلی ٹاؤن کے زبیر چودھری، سیکرٹری ویلفیئر ڈی ایچ اے علی اکبر بھٹی، سنٹرل پارک کے مظہر سعید باجوہ، میاں ایوب،سوئے اصل کے یٰسین چشتی کا روزنامہ”پاکستان“ میں اظہارِ خیال۔کرنل صدیق نے ایف بی آر ریٹس میں اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقرب وڑائچ نے سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لینے کی درخواست کی ہے۔ میجر غلام محی الدین نے ایف بی آر ریٹس کو کاروباری دشمن فیصلہ قرار دیا ہے۔حسن اختر عباسی، رب نواز محمد، محمد زبیر چودھری نے گھروں کیلئے ایمنسٹی سکیم دوبارہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔علی اکبر بھٹی نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔مظہر سعید باجوہ، میاں ایوب، یٰسین چشتی نے صنعتوں کے لئے ایمنسٹی سکیم کو تاریخی قرار دیا ہے اور گھر بنانے کے لئے ایمنسٹی میں 31مارچ2023ء تک توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔

بلڈرز اینڈ ڈویلپرز

مزید :

صفحہ آخر -