آلو ٹماٹر کی قیمت دیکھنے نہیں پاکستانیوں کو ایک قوم بنانے کیلئے سیاست میں آیا: عمران خان 

آلو ٹماٹر کی قیمت دیکھنے نہیں پاکستانیوں کو ایک قوم بنانے کیلئے سیاست میں ...

  

      اسلام آباد،حافظ آباد(ڈسٹرکٹ رپورٹر+ نمائندہ پاکستان، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج حکومت کے خلاف لوگوں کے ضمیر خریدنے کی سازشیں کی جارہی ہیں اور پیسے کے زور پر حکومت گرانے کی کوششیں جاری ہیں جب ایساہو تو قوم کو سازشی عناصر کا مقابلہ کرنا چاہئے۔وہ یہاں میونسپل اسٹیڈیم میں ایک جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ قوم کو لیڈر اٹھاتا ہے جب لیڈر جھک جاتا ہے قوم گر جاتی ہے۔ میں مغرب کو جانتا ہوں جو لوگ انکے جوتے پالش کرتے ہیں وہ انکو حقارت سے دیکھتے ہیں جو اپنی قوم کے مفادات کے لئے کھڑے ہوتے ہیں وہ انکی عزت کرتے ہیں۔ نواز شریف اور زرداری کے دورمیں چارسو ڈرون حملے ہوئے لیکن انہوں نے اسکی مذمت تک نہ کی۔میں نے امریکہ اور برطانیہ جاکر ڈروں حملوں کی مخالفت کی جس پر بیس سفیروں نے مجھے کہا کہ آپ ڈرون حملوں کی مخالفت کیوں کرتے ہو۔میں سیاست میں اس لئے نہیں آیا کہ آلو اور ٹماٹر کی قیمت کا پتا کروں۔بلکہ میں پاکستانیوں کو ایک قوم بنانے کے لئے آیا ہوں۔میں بائیس کروڑ کا وزیر اعظم ہوں میری ذمہ داری ہے کہ میں ملکی مفادات کا تحفظ کروں۔جو دورہ نواز شریف نے چودہ چودہ لاکھ ڈالر میں کیا میں نے صرف ایک لاکھ میں کیا۔انہوں نے کہا کہ لندن میں ہمارا ایک دہشت گرد جس نے ملک میں قتل وغارت کی وہ آرام سے بیٹھا ہے۔ہم نے غریب کو دس دس لاکھ کا ہیلتھ کارڈ دیا۔ پناہ گاہیں بنائیں، احساس سنٹر بنائے۔پانچ پانچ لاکھ کا قرضہ بلاسود کاروبار کے لئے دیا۔بیس لاکھ کا قرضہ بلاسود گھر بنانے کے لئے دے رہے ہیں۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن دے رہے ہیں۔احساس راشن پروگرام شروع کررہے ہیں۔ جس سے دو کروڑ خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ہم نے ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا۔ اس ٹیکس کے  باعث ہم نے پیٹرول اور ڈیزل کی دس روپے قیمت کم کی اور بجلی کی فی یونٹ قیمت میں بھی پانچ روپے کی کمی کی۔ہم نے جو انڈسٹریل پیکج دیا ہے وہ ملک کو تبدیل کرکے رکھ دے گا۔ ہم پچاس سال میں پہلی بار دس ڈیم بنارہے ہیں۔جو قوم اپنے نظریے سے ہٹ جاتی ہے وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے۔انہوں نے ہا کہ پاکستان کا نظریہ نبی کریمﷺ کا ریاست مدینہ والا نظریہ تھا جوں جوں ہم نبی کریم ﷺ کے نظریے سے پیچھے ہٹتے چلے گئے ہم نیچے آتے گئے۔ میں نے قوم کی تربیت کے لئے رحمت الالعالمین ﷺ اتھارٹی بنائی ہے جس کا مقصد نوجوانوں اور بچوں کو یہ بتانا ہے کہ ہمارے پیارے نبی کریمﷺ کی سیرت کیا تھی۔اور انکا راستہ کیا تھا۔ ہم سب کو ایک نصاب پڑھائیں گے۔ہم نے26لاکھ نوجوانوں کے لئے سکالر شپ رکھے ہیں جو میرٹ پر دیئے جارہے ہیں۔ہم ٹیکنالوجی کے لئے دو یونیورسٹیاں بنارہے ہیں۔جن میں دنیا کی تمام ٹیکنالوجیز موجود ہوں گی۔ تاکہ پاکستان اپنے جہاز بناسکے۔آپ دیکھیں گے کہ ہم ان دونوں یونیورسٹیوں سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی کہ ہمارے وزیر اعظم جب امریکی صدر کے سامنے بیٹھتا ہے تو اسکی ٹانگیں کانپ رہی ہوتی ہیں اور اس نے ہاتھ میں پرچی پکڑی ہوتی ہے۔کہ کہیں میرے سے کوئی چیز غلط نہ ہوجائے اور امریکہ ناراض نہ ہوجائے لیکن ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے چندہزار مسلمانوں کے ہوتے ہوئے دوسپر طاقتوں کو خط لکھے۔ آپﷺ نے ان سے امداد طلب نہیں کی بلکہ فرمایا کہ میں اللہ کا پیغام لیکر آیا ہوں اور دنیا کی یہ دونوں طاقتیں چند سالوں میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کو ترقی وخوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لئے سچائی کا ساتھ دینا ہوگا۔ جلسہ گاہ سے شاہ محمود قریشی، ایم این اے شوکت بھٹی نے بھی خطاب کیا جبکہ وفاقی وزیر شفقت محمود اسد عمر اور وزیر اعلی پنجاب عثما ن بزدار نے بھی شرکت کی عمران خان نے کہا قوم آنیوالے دنوں میں حکومت گرنے کے بجائے 3 چوہے شکار ہوتے دیکھے گی،، یہاں کا وزیراعظم امریکی صدر کے سامنے بیٹھے تو”کانپیں ٹانگ“رہی ہوتی ہیں،یورپی یونین پر ٹھیک تنقید کی تھی۔دریں اثنا: وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی سینئر قیادت کو طلب کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پرویز خٹک، علی زیدی، فواد چوہدری اور شفقت محمود کو مشاورت کے لیے بنی گالہ طلب کر لیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ اجلاس میں قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی اور وزیراعظم قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی حتمی منظوری دیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر سیاسی مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی سینئر قیادت کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی سیاسی صورت اور اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق حکمت عملی پر مشاورت کی گئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنایا جائیگا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ناراض پارٹی ارکان سے رابطے جاری ہیں اور اتحادی جماعتیں ہمارے ساتھ ہیں۔اس موقع پر عمران خان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ اپوزیشن کو کسی طور پر این آر او نہیں دیں گے، اپوزیشن کو عوام کی نہیں اپنے کیسز کی فکر ہے، اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد میں حکومت کا ساتھ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ چوہدری برادران پر چھوڑ دیا۔نجی ٹی وی نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ وزیر اعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد میں حمایت کے حوالے سے مسلم لیگ (ق) پنجاب کے صدر اور اسپیکر صوبائی اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کو پیغام بھجوادیا ہے۔اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اگر پرویز الٰہی کو وزیر اعلی پنجاب بننا ہے تو اپنی جماعت کو تحریک انصاف میں ضم کر دیں۔وزیر اعظم نے کہا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کے لیے دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کی حیثیت سے ہی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں، بصورت دیگر ان کے پاس اپوزیشن کے ساتھ جانے کے لیے راستے کھلے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کا آج حتمی مشاورتی اجلاس ہورہا ہے جس میں وزیر اعظم کے بھجوائے گئے اس اس پیغام پر بھی غور کیا جائیگا۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -