مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کااجلاس، 84ارکان کی شرکت، عمران کو گھر بھیجنے کی تیاری مکمل، اتحادیوں کیساتھ کچھ ایشوز فائنل ہو گئے: شہباز شریف

مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کااجلاس، 84ارکان کی شرکت، عمران کو گھر بھیجنے ...

  

        اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان مسلم لیگ(ن)کی پارلیمانی پارٹی  اجلاس میں   پارٹی کے تمام 84ارکان قومی اسمبلی شریک ہوئے، پارلیمانی پارٹی  اجلاس کے  بعد جاری کردہ اعلامیے کے مطابق  اتوار کو  نون لیگ  پارلیمانی پارٹی کا اجلاس  صدر نون لیگ   شہبازشریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں  ان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا،   پارلیمانی پارٹی  اجلاس میں  پارٹی کے تمام 84ارکان قومی اسمبلی شریک ہوئے،  اجلاس  میں بتایا گیا کہ نوازشریف کی راہنمائی میں تمام فیصلوں کا اختیار شہبازشریف کو تفویض کردیاگیا،  اعلامیے کے مطابق  پارلیمانی پارٹی نے   توثیق کی کہ قائد محمد نوازشریف اور شہبازشریف کے ہر فیصلے پر لبیک کہیں گے،شہبازشریف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے تمام فیصلے کریں گے،  اعلامیے کے مطابق  نون لیگ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کہا گیا کہ تحریک عدم اعتماد عوام کامطالبہ ہے، کامیابی یقینی ہے، قوم کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی مزید قبول نہیں، عوام حکومت سے نجات، مہنگائی سے ریلیف اور قومی مفادات کی تکمیل چاہتے ہیں۔اعلامیے کے مطابق  اجلاس کے بعدشہبازشریف کا اراکین کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ شہبازشریف نے  ن  لیگی ایم این ایز کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت کردی ہے۔ذرائع کے مطابق  شہبازشریف کی زیر صدارت  مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں  وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد سمیت ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کیلئے حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے ن لیگ کے ایم این ایز کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت کردی۔ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی   اجلاس  میں شہبازشریف نے کہا   کہ اپنے اپنے گروپس کے سربراہ کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ کوئی غیر معمولی واقعہ ہو تو فوری وٹس ایپ گروپ میں بتائی اپنے لیڈر کو آگاہ کریں۔  اجلاس کے بعد  گفتگو کرتے ہو ئے  سابق ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا ہے کہ  پارلیمانی پارٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار نواز شریف اور شہباز شریف کو دے دیا  ہے،عمران خان کو گھر بھیجنے کے امکانات زیادہ ہیں ہماری تیاری پوری ہے۔  انہوں نے کہا  مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ہاؤس فل تھا،تمام ممبران نے شرکت کی۔تیاریاں پوری ہیں، پارلیمانی پارٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار نواز شریف اور شہباز شریف کو دے دیا ہے۔قائد ن لیگ جو فیصلہ کرینگے وہ سب کو قبول ہوگا۔حکومتی اتحادیوں سے معاملات چل رہے ہیں کچھ ایشوز فاینل ہوگئے ہیں۔عمران خان کو گھر بھیجنے کے امکانات زیادہ ہیں ہماری تیاری پوری ہے۔اپوزیشن کے اراکین پورے ہیں،اجلا س کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ آج شہباز شریف کی جانب سے مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا،آج عشائیہ میں مسلم لیگ ن کے 84 ارکان شریک ہوئے،پارلیمانی پارٹی نے صدر مسلم ن کو مکمل فیصلہ کا اختیار دیدیا ہے،مسلم لیگ ن اپوزیشن کے ساتھ تحریک عدم اعتماد کامیاب بنائے گی،عمران خان کی تقریر میں عیاں ہے وہ گھر جانے والے ہیں،پارلیمانی پارٹی نے قومی اسمبلی اجلاس فوری بلانے کا کہا ہے،نمبر گیم ہماری تحریک عدم اعتماد جمع کروانے سے پہلے ہی پوری تھی،تحریک عدم اعتماد والے دن انہیں پارلیمنٹ جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی،کسی آرٹیکل 63 میں جو پارلیمنٹ جانے والے کو نااہل کرنے کا نہیں لکھا،ارکان اپنا اختیار استعمال کرلیں گے اسکے بعد انکے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ کستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے وزیراعظم کے خطاب کو اعتراف شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران صاحب آپ واقعی آلو ٹماٹر کی قیمت ٹھیک کرنے نہیں آئے تھے بلکہ ملک اور عوام کا کباڑہ کرنے آئے تھے اور آپ نے یہ کام پورا کرلیا ہے، اب گھر جائیں۔وزیراعظم کے حافظ آباد میں تحریک انصاف کے جلسہ سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عمران صاحب آپ تو سقوط کشمیر، سی پیک کو روکنے، کرپشن میں پاکستان کے 24 درجے بڑھانے آئے تھے، یہ تباہی آپ نے کر دی ہے، اب گھر جائیں، پاکستان کے دوستوں کو ناراض کرنے آئے تھے، وہ ایجنڈا آپ نے پورا کردیا، عمران صاحب آپ پاکستان کی معاشی خود مختاری آئی ایم ایف کے حوالے کرنے آئے تھے، وہ ایجنڈا آپ نے پورا کر دیا، آپ ڈالر کی قیمت 125 سے 180 کرنے آئے تھے، معیشت کی یہ تباہی آپ نے پوری کامیابی سے کر دی ہے، فارن فنڈنگ کی کالی دولت کی مدد سے جو گند ڈالنے آئے تھے، وہ آپ پھیلا چکے، اس گندگی کو صاف کرنے کا وقت آگیا ہے۔

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -