یوکرین کو ہتھیار دینے پر روس کی امریکہ کو وارننگ، نیٹو کیخلاف اقدامات پر واشنگٹن کی ماسکو، بیجنگ کو دھمکیاں 

یوکرین کو ہتھیار دینے پر روس کی امریکہ کو وارننگ، نیٹو کیخلاف اقدامات پر ...

  

        واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکہ نے واضح کیا ہے کہ اگر روس نے نیٹو کو نشانہ بنایا تو اسے اس کا بھر پور جواب ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے چین کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ سمیت نیٹو نے روس پر جو پابندیاں لگائی ہیں اگر اس نے اس میں سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی تو وہ اس کے نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہے۔ امریکہ کا یہ سرکاری ردعمل وائٹ ہاؤس کے نیشنل سیکورٹی ایڈائزر جیک سلیون کے ساتھ اتوار کے روز دو الگ الگ ٹی وی انٹرویوز میں بیان کیا۔ جیک نے ”سی بی ایس نیوز“ کے ساتھ انٹرویو میں بتایا کہ صدر بائیڈن بار بار وضاحت کر چکے ہیں کہ امریکہ نیٹو ممالک کی سرزمین کی ایک ایک انچ کے دفاع کیلئے ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ایک اور انٹرویو میں جیک نے چین کو روس کی مدد سے احتراز کی تلقین کی۔ 

امریکہ

 کیف،ماسکو، پیرس، برلن،واشنگٹن (نیوزایجنسیاں)یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے روس سے آئندہ مذاکرات مقبوضہ بیت المقدس میں کرانے کی تجویز دی ہے۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق زیلنسکی نے روس اور یوکرین کے آئندہ مذاکرات مقبوضہ بیت المقدس میں کرائے جانیکی تجویز دی۔انہوں نے کہا کہ روس کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے اور جنگ کو جاری رکھیں گے، یوکرین کی آزادی ہی مستقبل میں مغربی دنیا کی آزادی کا تعین کریگی۔ادھرروس،یوکرین مذاکرات میں شریک یوکرینی وفد کے رکن، یوکر ینی صدر کے دفتر کے چیف مشیر پوڈولیاک نے کہاہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد، دونوں فریقین نے ویڈیو  لنک کے ذریعے مواصلات کا سلسلہ اور ایک ورکنگ گروپ قائم کیا،فی الحال، دونوں فریق متعلقہ معاہدے پر دستخط کرنے کے حوالے سے سمجھوتہ کرنے کے قریب ہیں۔فرانسیسی صدر ایمینوئیل میکرون اور جرمن چانسلر اولاف شولز نے گزشتہ روز روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ٹیلفون پر رابطہ کیا ہے جس میں اْنہوں نے روسی صدر سے یوکرین جنگ ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے فرانس کے صدارتی دفتر کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے تیار نہیں ہیں۔فرانسیسی صدارتی دفتر کے مطابق یہ ٹیلیفونک رابطہ تقریباً 90 منٹ تک جاری رہا۔ صدارتی دفتر نے اس بات چیت کو ایک مشکل اور سخت بحث قرار دیا ہے۔دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ امریکہ یوکرین کو مہلک ہتھیاروں کی فراہمی سے باز رہے۔پیوٹن کہتے ہیں روس امریکی ہتھیاروں کی فراہمی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ پیوٹن نے وارننگ دی کہ روس مہلک ہتھیاروں کی فراہمی پر سخت ایکشن لے گا۔دوسری جانب روس نے یو کرین کے جنوبی علاقے خیر سن کی آزادی کے لئے ریفرنڈم کا فیصلہ کرلیا، یوکرینی حکام کے مطابق روس ریفرنڈم کیلئے خیر سن کی کونسل پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ کونسل کے عہدیداروں کو تعاون کے لئے بلایا جا رہا ہے۔روسی فوجی دستے کیف کے مضافات میں پہنچ گئے، یوکرینی فوج کی جانب سے شدید مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔روسی فوج کے دستے کیف کے اطراف پہنچنے لگے، دارالحکومت کے مختلف مقامات سے گھیراؤ کاسلسلہ شروع ہوا تو یوکرینی افواج کی طرف سے شدید مزاحمت سامنے آئی، جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔امریکا نے یوکرین کیلئے 20 کروڑ ڈالرکی اضافی فوجی امدادکی منظوری دے دی۔امریکا جنوری 2021 سے اب تک یوکرین کو 1.2 ارب  ڈالرکی فوجی امداد دے چکا ہے۔ جنوبی اور مشرقی یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کے لیے نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔روسی فوج کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ مشرقی اور جنوبی یوکرین میں پھنسے پاکستانی روس جا سکتے ہیں۔علاوہ ازیں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے اعتراف کیا ہے کہ مغرب نے یوکرین سے نیٹو کی رکنیت کا وعدہ کرکے غلطی کی ہے۔  یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے فرانس کے ال سی آئی  ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے کچھ چیزوں کی پیشکش کی جس کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ خاص طور سے یوکرین کو نیٹو کی رکنیت کا وعدہ کیا جو ہرگز عملی جامہ نہیں پہن سکا۔انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غلطی تھی کہ ہم نے ایسے وعدے کئے جن پر عمل نہیں کرسکے۔ جوزف بورل نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ مغرب نے روس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں کچھ غلطیاں کی ہیں کہا کہ ہم نے روس کو یوکرین پر حملہ کرنے سے روکنے کے لئے مغرب سے ماسکو کو اور زیادہ  قریب کرنے کے مواقع کھودیئے ہیں۔

روس یوکرین جنگ

مزید :

صفحہ اول -