وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دو چار ہو گی: صدیق آفریدی 

وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دو چار ہو گی: صدیق آفریدی 

  

        جمرود(نمائندہ خصوصی) وزیر اعظم عمران خان کو Absolutely not کی سزاء دی جارہی ہے،اپوزیشن بوکھلاہٹ کی شکار ہوگئی ہے، تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دو چار ہوگی،پی ٹی آئی کے جملہ ورکرز اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑے ہیں،پاکستان تحریک انصاف تحصیل جمرود کے ورکرز کا مشترکہ میٹنگ زیر سرپرستی سابقہ امیدوار برائے تحصیل چیئرمین محمد صدیق آفریدی کے منعقد ہوئی جس کے بعد انہوں نے پارٹی ورکرز کے ہمراہ جمرود پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ہم عمران خان کے قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور ہر مشکل گھڑی میں چئیرمین کے شانہ بشانہ کھڑے رہینگے.انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے پہلے دن سے عمران کو وزیراعظم قبول نہیں کیا ہے اور ان کے خلاف مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں لیکن عمران خان نے پہلے بھی مقابلہ کرکے اپوزیشن کو شکست دیا ہے اور اب بھی اپوزیشن کو شکست دیں گے. انہوں نے کہاکہ ہمیں عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد ہیں اور ان کے شانہ بشانہ ہر رکاوٹ کے مقابلے میں چٹان کی طرح کھڑے رہینگے. عمران خان نے پاکستانی عوام میں سیاسی شعور اجاگر کی. ملک کے مستقبل کیلئے لانگ ٹرم بڑے منصوبے شروع کئے ان منصوبوں سے پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی. عمران خان نے پاکستانیوں کے امنگوں کے مطابق  آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی بڑے مگرمچھوں کا احتساب شروع کیا صحت کارڈ، رحمت العالمین اتھارٹی، احساس پروگرام اور دیگر بے شمار انقلابی اقدامات شروع کئے جس سے اپوزیشن کے اوسان خطاء ہوچکے ہیں اور ان کو 2023 کے الیکشن میں بھی اپنی ہار واضح نظر آرہی ہے اس لئے اپوزیشن بوکھلاہٹ کی شکار ہوچکی ہیں. انشائاللہ تحریک عدم اعتماد میں عمران خان بھر پور مقابلہ کریں گے اور اپوزیشن کو شکست فاش دیں گے. تحریک عدم اعتماد سے پہلے اسلام آباد میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا جس میں جمرود سے پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز اور لیڈرشپ بھر پور شرکت کریں گے یہ ایک تاریخی جلسہ عام ہوگا اور عمران خان تاریخی خطاب فرمائے گے اپوزیشن سے درخواست ہے کہ عمران خان کو Absolutely not، آزادانہ خارجہ پالیسی، امریکی غلامی سے نجات دلانے اور پبلک سپریمیسی لانے جیسے اقدامات اٹھانے پر عمران خان کو سزا نہ دیں بلکہ عمران خان کو سپورٹ کریں کیونکہ یہ سب اقدامات محفوظ، خود دار، ترقی یافتہ اور ایک نئی پاکستان بنانے کیلئے کئے جارہے ہیں اپوزیشن لیڈران اپنے نسلوں کی بجائے آنے والے عام پاکستانی نسلوں کے بارے میں سوچیں ورنہ پاکستان میں رہنے اور سیاست کرنے کیلئے ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا.

مزید :

پشاورصفحہ آخر -