سرحدایگریکلچرل اینڈ رورل ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن اور اصلاحی جرگہ کا مشترکہ اجلاس 

  سرحدایگریکلچرل اینڈ رورل ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن اور اصلاحی جرگہ کا مشترکہ ...

  

شیرگڑھ(نامہ نگار)محنت کش لیبر فیڈریشن،  کسان بورڈ،  سرحدایگریکلچرل اینڈ رورل ڈیویلپمنٹ ارگنائزیشن اور اصلاحی جرگہ  کا مشترکہ اجلاس زیر صدارت رضوان اللہ صوبائی صدر کسان بورڈ منعقد ہوااجلاس میں فیصلہ ہوا کہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ245 روپے فی کلوگرام تمباکو ریٹ تمام کاشتکاروں کو بلکل منظور نہیں مہنگائی کی وجہ سے کاشتکاروں کااستحصال ہو رہا ہے۔  لہذا تمباکو فی کلوگرام ریٹ 280 روپے مقرر کیا جائے۔  کھاد کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ریٹ کے مطابق کاشتکاروں کو کھاد کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔  جناب رضوان اللہ صدر کسان بورڈ نے تمام تنظیموں پر زور دیا کہ کاشتکار متحد ہو کر موجودہ حالات کا مقابلہ کریں ایک طرف مہنگائی اور دوسری طرف ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی مرضی کے مطابق تمباکوخودساختہ ریٹ مقرر کرنے کی ظالمانہ فیصلے کر رہی ہیں۔  کھاد کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ جس سے کاشتکاروں کا جینامشکل ہو رہا ہے۔  چونکہ تمباکو ایک نقداور فصل ہے لہذا حکومت کو چاہئے کہ برآمداد کے لئے اسان طریقے اپنائے جائیں۔تاکہ کاشتکاروں کی تمباکو عالمی منڈی تک آسانی سے پہنچ سکیں۔جناب ابراراللہ صدر محنت کش لیبر فیڈریشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مارکیٹ میں سمکل سگریٹ کو روکا جائے تاکہ ٹیکس چوروں کا خاتمہ کیا جا سکیں۔  انہوں نے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں مستقل ورکرز کو ختم کرکے کنٹریکٹ پر غیر قانونی ورکرز کو بھرتی کر رہے ہیں جوکہ ظلم ہے۔  انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جن فیکٹریوں سے ورکرز برخاست یا معطل کئے ہیں ان ورکرز کو فورا بحال کئے جائیں۔جناب حسین آحمد صاحب جنرل سیکرٹری سرحد ایگریکلچرل اینڈ رورل ڈیویلپمنٹ ارگنائزیشن نے کھاد سے متعلق معلومات اجلاس کو اگاہ کیا۔  ملک میں کھاد کی اچھی اقسام دستیاب ہیں لیکن حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے کاشتکاروں تک معلومات نہیں پہنچ رہی حکومت کو چاہئے کہ کھاد سے متعلق پروجیکٹ شروع کریں اور کاشتکاروں کو سستی کھاد کی ترسیل کو یقینی بنائیں جناب ظہورخان،  فرہاد علی،  غفورخان اور سہراب خان نے اجلاس کوبتایا کہ ووچرکیش کرنے میں کاشتکاروں کو بہت مشکلات پیش آرہی ہیں۔  ملٹی نیشنل کمپنیاں کاشتکاروں کو مہنگے قیمت پر زبردستی زرعی ادویا،  کھاد  اور لکٹری وغیرہ دے رہی ہے۔  اور اگر کوئی یہ زرعی ادویات، کھاد وغیرہ  نہ خریدیں تو کمپنی تمباکو ایگریمنٹ کینسل کرتے ہیں۔کاشتکار اور مزدور عہدیداروں نے فیصلہ کیا کہ اگر حکومت نے تمباکو نرخ 280 روپے فی گلوگرام مقرر نہیں کیا اور کھاد،  زرعی ادویات  کی قیمتیں کم نہیں کی تو پورے خیبرپختون خواہ میں احتجاجی جلسے جلوس کریں گے،  اسلام آباد کی طرف کاشتکار مارچ کریں گے اور آخر میں تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں کا گیرا کریں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -