ناقص زرعی پالیسیاں، کاٹن زون میں گنے کی کاشت شروع، بیج مہنگا

  ناقص زرعی پالیسیاں، کاٹن زون میں گنے کی کاشت شروع، بیج مہنگا

  

          ملتان (سپیشل رپورٹر)حکومت پنجاب کی ناقص زرعی پالیسی کے باعث جنوبی پنجاب میں کاٹن زون قرار دیئے جانے والے 14اضلاع میں گنے کی کاشت کے رقبہ میں ریکارڈ اضافہ ہوگیا، کپاس کی فصل منافع بخش نہ ہونے پر 50فیصد کاشتکاروں نے کپاس کی کاشت ترک کرکے گنے کی کاشت شروع کردی، گناکابیج بھی مہنگا فروخت ہونے لگا۔تفصیل کے مطابق حکومت پنجاب کی ناقص زرعی پالیسی اور (بقیہ نمبر20صفحہ6پر)

شوگر ملز مالکان کی ملی بھگت سے جنوبی پنجاب کے ایسے اضلاع جنھیں کاٹن زون کا درجہ قرار دیا گیا ہے میں گنے کی کاشت کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے اس ضمن میں ملتان،لودھراں،خانیوال،مظفر گڑھ،وہاڑی،میلسی،پاکپتن،ساہیوال،بہاول پور،بہاولنگر،رحیم یار خان،راجن پور،ڈی جی خان،جھنگ سمیت دیگر علاقوں میں گنے کی کاشت جنگی بنیادوں پر کی جارہی ہے۔ کپاس کے 50 فیصد سے زائد کاشتکاروں نے گنا کاشت کرنا شروع کردیا ہے ضلع ملتان میں ساڑھے 4ہزار ایکڑ رقبہ پر گنا کاشت ہوچکا ہے اور مزید گنا کاشت ہونے کاامکان ظاہر کیا جارہا ہے شوگر ملز کے علاقوں میں گنا کی پیداوار کم آنے کی وجہ سے گنے کے کاشتکار کاٹن زون میں زمینیں مستاجری پر لے کرگنا کاشت کرنے لگے ہیں جس کی وجہ سے کپاس کے کاشتہ علاقوں میں آئندہ دوتین سالوں میں کپاس اور گندم کے کاشتہ رقبہ میں ریکارڈ کمی آنے کا اندیشہ ہے جس کے باعث  کپاس اور گندم بھاری مقدار میں درآمد کرنے کاامکان ظاہرکیا جارہا ہے کاشتکاروں کاکہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی شوگرملیں تیزی بڑھتی جارہی ہیں اور پاکستان میں شوگر کی ایکسپورٹ بھی بڑھائی جارہی ہے اس وجہ سے گناکی مارکیٹنگ کافی بہترہونے کی وجہ سے گنا کی کاشت ریکارڈ رقبہ پر کی جارہی ہے مذکورہ اضلا ع میں پونے دوکروڑایکڑ رقبہ پر گنا کاشت ہوچکا ہے مزید گنا کاشت ہورہا ہے ماہرین کے مطابق مارچ کے آخرتک کماد کاشت کیا جائے گا جس کی وجہ سے کماد کے بیج بلیک میں فروخت کیا جارہے 200 روپے کی بجائے350سوروپے فی من تک کماد کابیج فروخت کیا جارہا ہے۔

کاٹن وزن 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -