دوسرا کے ایچ آئی ایوارڈ ز، شہر قائد کی خدمت کرنیوالے اداروں کو سراہا گیا

  دوسرا کے ایچ آئی ایوارڈ ز، شہر قائد کی خدمت کرنیوالے اداروں کو سراہا گیا

  

         کراچی(سٹاف رپورٹر)شہر قائد کی ترقی و فلاح اور سماجی بہبود کے لئے کام کرنے والے اداروں کی خدمات کے اعتراف میں گورنر ہاؤس، کراچی میں دوسرے کے ایچ آئی ایوارڈز کی تقریب منعقد ہوئی۔کے۔الیکٹرک کے دوسرے کراچی ایوارڈز کو نیپرا کی توثیق بھی حاصل تھی اور ان کا اجراء  #IAmKarachi کے تعاون سے کیا گیا تھا۔  تقریب میں 13 مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 40 فاتحین کو ثقافت اور ورثہ، کھیل، سماجی خدمات، حفاظت و دیگر اقدمات کے ذریعے سماجی ترقی کی کوششوں کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی گورنر سندھ عمران اسماعیل تھے جبکہ چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی، وزیر مملکت اور سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) کے چیئرمین محمد اظفر احسن بھی خاص مہمانوں میں شامل تھے۔عالمی وبا کے دوران دنیا بھر میں چھوٹے، بڑے تمام کاروبار کو خطرات اور عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا، لیکن یوٹیلیٹی نے مشاہدہ کیا کہ معاشرے کے مسائل حل کرنے والا شعبہ اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ اس دوران زیادہ تر نئے اقدامات فوڈ سیکیورٹی، حفظان صحت اور  آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے کے حوالے سے کیے گئے، لیکن دیگر چیلنجز سے نمٹنے والوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ تاہم کے ایچ آئی ایوارڈ میں منصفانہ اور غیرجانبدارانہ طریقے سے جیتنے والوں کو بجلی کے بلوں پر رعایت کی صورت میں 40 ملین روپے کی امداد دی جاتی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ”قومی ترقی کے لیے کراچی کی ترقی اہم ہے۔ ہم سب کو شہر کی رونقیں بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی کی ترقی کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ گرین لائن بی آر ٹی منصوبہ کے علاوہ وفاقی حکومت شہریوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور شہر قائد کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔“. کے ایچ آئی ایوارڈز کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ  ”کراچی ایوارڈز معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک بہترین اقدام ہے۔ پاور یوٹیلیٹی کے دیگر اقدامات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کے ”روشنی باجی پروگرام“ کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے خواتین حفاظتی سفیر بن کر گھر گھر جاکر بجلی کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہی فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے دیگر اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ کمیونٹیٹیز کی فلاح و بہبود اور معاشرے کی ترقی کے لیے کے الیکٹرک کی تقلید کریں۔“وزیرمملکت اور چیئرمین بورڈ آف انوسٹمنٹ محمد اظفر احسن نے اپنے خطاب میں کہا ”کے الیکٹرک کا شہر کی بہتری اور اس کی مستحکم ترقی میں کردار ادا کرنے والوں کو ایوارڈ دینا قابل ستائش اقدام ہے۔ ملک کا معاشی حب ہونے کے ناطے کراچی میں غیرملکی سرمایہ کاری کی بہت گنجائش ہے۔ تاہم اس کے لیے تسلسل کے ساتھ شہر کی بہتری کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ ہمیں شہر کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے اور اس کو ترقی دینے کے لیے اجتماعی اقدامات کرنا ہوں گے۔“چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی نے ایوارڈ جیتنے والے کو مبارکباد دیتے ہوئے کے ای کے اقدام کو سراہا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا  ”کے ای کو اپنے سروس والے علاقوں کی کمیونیٹیز کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے نئے نئے طریقے تلاش کرتے دیکھنا قابل ستائش ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پائیدار ترقی کے لیے  صارفین اور ماحول کے ساتھ بامعنی تعلقات قائم کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیپرا نے پاور سیکٹر کی ترقی کے لیےPower with Prosperityوڑن متعارف کرایا، اور ہم سی ایس آر اقدامات کے ذریعے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے دیکھ رہے ہیں“ دسمبر 2021 میں شروع کیے گئے کے ایچ آئی ایوارڈز کے دوسرے ایڈیشن کے لیے بھیجی گئی سینکڑوں درخواستوں کو شہزاد رائے، سدرہ اقبال، جہاں آرا سمیت 15 افراد پر مشتمل آزادJury نے #آئی ایم کراچی کے بانی اور موجودہ صدر سعد امان اللہ خان کی قیادت میں سخت جانچ پڑتال کی۔ ارنسٹ اینڈ ینگ گلوبل لمیٹڈ کی رکن فرم EY Ford Rhodes Chartered Accountantsنے آفیشل ایوارڈ آڈیٹرز کے طور پر اس عمل کی نگرانی کی اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا۔کے ایچ آئی ایوارڈز کی Juryکے صدر سعد امان اللہ خان نے کہا کہ دوسرے سال بھی کے ایچ آئی ایوارڈز کا حصہ بننے پر خوشی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے رواں سال نہ صرف ہمیں زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں بلکہ درخواست دہندگان کی جانب سے تجویز کردہ منصوبوں کا معیار اور جدت بھی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ کراچی کے ساتھ دلی وابستگی رکھتے ہیں۔ ہمیں اس سال کے فاتحین کو ایوارڈ دے کر بہت خوشی ہورہی ہے، جو اپنے اقدامات کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی خدمت کررہے ہیں۔ہم کے ایچ آئی ایوارڈ کو مزید ترقی دینے کے لیے کوشاں ہیں۔کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ”ہم کے۔الیکٹرک میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہمیں کراچی کی ترقی کیلئے بجلی کی فراہمی سے آگے بڑھ کر اقدامات کرنے ہوں گے۔ ہم ایک عظیم معاشرے کی تعمیر کیلئے کوشاں ہیں۔ کراچی جیسے شہروں کے لیے یہ کوئی آسان کام نہیں، اس کے لیے چوبیس گھنٹے کام کرنے والے سینکڑوں بڑے اور چھوٹے اداروں کا تعاون درکار ہوتا ہے۔ کے ایچ آئی ایوارڈز کے ذریعے ہم اپنے دائرہ کار کووسیع کر کے  ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا چاہتے ہیں جو اس بڑے شہر کی تبدیلی میں نمایاں کردار ادا کرے، جسے ہم اپنا گھر کہتے ہیں۔میں اس ایوارڈ کی شفافیت اور ساکھ کو یقینی بنانے کے لیے اپنے آڈیٹرز،جیوری ممبران کا مشکور ہوں۔ میں اس تقریب میں شرکت کیلئے گورنر سندھ اور چیئرمین نیپرا کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔“ اس موقع پر ایوارڈز جیتنے والوں نے بھی اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ظفر اور عطیہ فاؤنڈیشن چیریٹیبل ٹرسٹ کے ڈاکٹر شیر شاہ نے کے الیکٹرک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کے ایچ آئی ایوارڈز جیسے اقدامات کے ذریعے کے ای صحیح معنوں میں خیال رکھنے والے ادارے کے طور پر ابھری ہے جو کمیونیٹیز کی ترقی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے سماجی ترقی کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کرتی ہے۔ پبلک ہیلتھ شعبے کی فاتح سینا ہیلتھ ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کی عنبرین کاظم تھامسن نے کہا کہ ایوارڈ دینے پر ہم کے الیکٹرک کے شکر گزار ہیں، جس نے ہمیں بجلی کے بلوں میں چھوٹ کی صورت میں انعام بھی دیا۔ ان رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم معاشرے کی بہتری کے اقدامات کو مزید آگے بڑھائیں گے۔پائیداری اور ماحولیات کے شعبے میں ایوارڈ جیتنے والے ادارے ٹریش لیٹ کی بانی اور سی ای او انوشہ فاطمہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کے ایچ آئی ایورڈ کے ذریعے نہ صرف ہمیں مالی فائدہ ہوتا ہے بلکہ ہمارے کام کو پذیرائی ملنے کے ساتھ اسے پھیلانے کا موقع بھی ملتا ہے۔ کووڈ عالمی وبا کے اس دور میں ایسے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔ مسلسل دوسری بار کے ایچ آئی ایوارڈ جیتنے والی سٹیزن فاؤنڈیشن کے صدر اور سی ای او سید اسد ایوب احمد نے کہا کہ گزشتہ سال کے الیکٹرک کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے اور دوستانہ رہے اور کے ایچ آئی ایوارڈ کے فاتحین کی ہر طرح مدد کی گئی۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارا اور دیگر فاتحین کا تجربہ اس سال بھی ایسا ہی ہوگا۔

مزید :

صفحہ اول -