طالبان نے تمام شرطیں پوری کر دیں اب عالمی برادری تسلیم کرے: امیر خان متقی

طالبان نے تمام شرطیں پوری کر دیں اب عالمی برادری تسلیم کرے: امیر خان متقی

  

      انتالیا،کابل (آئی این پی)افغانستان کے وزیرخارجہ امیرخان متقی نے عالمی برادری خصوصاً امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان نے تمام شرطیں پوری کردی ہیں اور اب دنیا کو اس کی حکومت تسلیم کرلینا چاہئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کے وزیرخارجہ امیر خان متقی نے ترکی کے شہر انتالیا میں انتالیا ڈپلومیٹک فورم کے سہ روزہ اجلاس میں طالبان کو تسلیم کرنے پرزور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے منجمد اثاثے ریلیز اور طالبان کے ساتھ اشتراک عمل انجام دیا جانا چاہئے۔امیرخان متقی کے یہ بیانات ایسے میں سامنے آئے ہیں کہ انتالیا ڈپلومیٹک فورم کے اجلاس میں دنیا بھرکے وزرائے خارجہ اور عالمی اداروں کے نمائندے موجود ہیں اور انتالیا ڈپلومیٹک فورم کا اجلاس اتوار تک جاری رہے گا۔اگرچہ یہ اجلاس روس یوکرین جنگ کے بارے میں منعقد ہوا ہے تاہم افغانستان کے بارے میں گفتگو بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ اس اجلاس میں طالبان کے وزیرخارجہ امیرخان متقی افغانستان کے سلسلے میں مختلف مسائل اور اس ملک کے ساتھ دنیا کے اشتراک عمل کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ طالبان کے وفد نے اس اجلاس کے انعقاد سے پہلے قطر کے حکام اور افغانستان کے امور میں امریکی مندوب سے ملاقات کی۔ سات مہینے پہلے طالبان نے افغانستان میں اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی تھی تاہم عالمی برادری نیاس گروہ کی بین الاقوامی اصولوں کے منافی پالیسیوں بالخصوص خواتین کے سلسلے میں اس کے رویے کی بنا پر اب تک تسلیم نہیں کیا ہیملکی و بیرونی دباؤ کے باوجود طالبان نے اب تک خواتین کی تعلیم، ان کی ملازمت اور وسیع البنیاد حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں کوئی عملی کام انجام نہیں دیا ہے۔ترک شہر انطالیہ میں امریکی نمائندے اور افغان وزیر خارجہ کی ایک اہم ملاقات ہوئی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ترک شہر انطالیہ میں  افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی  نے تھومس ویسٹ سے جوافغانستان کے لیے مقرر خصوصی امریکی ایلچی ہیں اورقطری وزیرخارجہ سے ملاقات کی،تشریف لے گئے۔ ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تینوں افراد اس ملاقات میں بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔امیر خان متقی اور تھومس ویسٹ کی ملاقات کی بظاہر میزبانی قطر کے وزیر خارجہ عبد الرحمن الثانی کر رہے تھے۔ اس ملاقات میں خاص طور پر افغانستان کی سکیورٹی اور سیاسی صورتِ حال کو زیرِ بحث لایا گیا۔ اس پر بھی غور کیا گیا کہ افغان عوام کو اس وقت کس طرح کے انسانی بحران کی شدت کا سامنا ہے۔اس سہ فریقی ملاقات کے حوالے سے قطر کی جانب سے ایک خصوصی بیان بھی جاری کیا گیا لیکن اس میں بات چیت کی مکمل تفصیلات کو ظاہر نہیں کیا گیا

افغان وزیر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -