حکومت یونیورسٹیوں کے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے: کامران بنگش

    حکومت یونیورسٹیوں کے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے: کامران بنگش

  

      پشاور (سٹاف رپورٹر)انجینئرنگ یونیورسٹی کا سالانہ کنو کیشن 2022گذشتہ روز منعقد ہوا۔تقریب میں کل960طلباء /طالبات کو بی ایس سی، ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی (انجینئرنگ /نا انجینئرنگ)کی ڈگریاں دی گئیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم /پرو چانسلر یو ای ٹی کامران خان بنگش تھے جنہوں نے طلباء /طالبات میں ڈگریاں اورگولڈ میڈلز تقسیم کئے۔کنو کیشن میں 900بی ایس سی،48ایم ایس سی جبکہ18 پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دی گئیں۔ کامیاب طلباء کا تعلق سول، ایگریکلچر، کیمیکل، الیکٹریکل، انڈسٹریل، میکاٹرانکس، مائننگ،کمپیوٹر سسٹم، ٹیلی کمیونیکیشن، الیکٹرانکس انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس اور آرکیٹیکچر سے تھا۔ بی ایس سی انجینئرنگ میں نمایا ں پوزیشن ہولڈر48طلباء /طالبات کو گولڈ میڈلزجسے بھی نوازا گیا۔فاسٹ کیبل جانب سے شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے طلباء سردار عمر خطاب اور سید لقمان شاہ کو ٹاپ جی پی اے حاصل کرنے پر ایک ایک لاکھ روپے کیش انعام بھی دیا گیا۔صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش نے اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈگریاں لینے والے طلباء/ طالبات اور انکے والدین کو مبارکبا دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت یونیورسٹیوں کے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ اور طلباء کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور یونیورسٹیوں کو درپیش چیلنجز کو جلد حل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یو ای ٹی پشاور کے مالی مسائل کو حل کرنے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے 40ملین روپے کی گرانٹ جاری کی ہے۔ انہوں نے گریجویٹس کو ایک باوقار یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور ان پر زور دیا کہ وہ ملک و قوم کی خدمت کیلئے بے حد محنت کریں۔ انہوں نے بتایا کہ تجارت، صنعت کاری اور معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے حکومت خیبر پختونخوا نے 365 کلومیٹر طویل ڈیرہ اسماعیل خان-پشاور موٹروے اور 81 کلومیٹر سوات موٹروے (فیز II) کی تعمیر کے منصوبوں کی حال ہی میں منظوری دے دی ہے۔ یہ دونوں میگا پروجیکٹس تجارتی راہداری کے ساتھ ساتھ نوجوان انجینئرز کے لیے ملازمت کے نئے مواقع فراہم کریں گے۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخار حسین نے گریجویٹس اور ان کے والدین کو ان کی شاندار کامیابیوں پر مبارکباد پیش کی، اور کہا کہ ہمارے ملک کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم انہیں حقیقی چیلنجز کو سمجھنے کے لیے کس طرح تعلیم اور تربیت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور میں آٹھ سنٹرز آف ایکسی لینس ہیں جن کے حقیقی نتائج اب روابط اور مشترکہ منصوبوں کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔ یو ای ٹی  پشاور کو تقریباً 300 فیکلٹی ریسرچ پراجیکٹس سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یو ای ٹی پشاور نے نتائج پر مبنی تعلیمی نظام کو اپنایا ہے جس کے ذریعے اب تمام شعبہ جات اؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن ((OBE کے تحت تسلیم شدہ ہیں۔ انہوں نے روبوٹکس اور آٹومیشن، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، اور بگ ڈیٹا اینڈ کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان انرجی، سینٹر فار ایڈوانسڈ روبوٹکس اینڈ آٹومیشن لیب اور انوویٹیو سیکیورڈ سسٹمز لیب میں نیشنل سینٹرز آف ایکسیلنس کی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ ضرورت اس بات کی کہ ہم اپنے قومی وسا ئل کو ملکی ترقی کے لئے بروکار لائیں اورجو علم انہوں نے دوران تعلیم حاصل کیا اس کو عملی طور پر پاکستان کی ترقی کیلئے بروکار لائیں۔ اس طرح سے ا نجینئرنگ کے شعبے میں جدید تعلیم کو پروان چڑھانے میں مدد ملی گی اور طلباء کا حوصلہ بھی بلند ہوگا۔ 

مزید :

صفحہ اول -