کراچی امن وامان رہائشی اعتبارسے غیرمحفوظ شہربن چکا ہے،عالمگیرخان 

 کراچی امن وامان رہائشی اعتبارسے غیرمحفوظ شہربن چکا ہے،عالمگیرخان 

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)فکس اٹ کے سربراہ اورتحریک انصاف کے ایم این اے عالمگیرخان نے کہاہے کہ کراچی امن وامان رہائشی اعتبارسے غیرمحفوظ شہربن چکا ہے،نالوں پر رہنے والوں کی جانوں کو محفوظ بنایا جائے،شہر میں مختلف علاقوں کے نالوں کی صفائی کی جائے،گیس جمع ہوتی ہے دھماکے ہوئے ہیں لوگ شہید ہوتے ہیں،کل تک مثال دی جاتی تھی کہ کراچی دیکھو،آج ھم لاہور دیکھنے کی مثال دے رہے ہیں،آج کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے کراچی پریس کلب پراحتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔عالمگیرخان نے کہاکہ کراچی میں 41 بڑے برساتی نالے ہیں ان پر جو لاکھوں لوگوں کی آبادی قائم ہے ان کی جان محفوظ بنائی جائے ہر سال جب بارشیں ہوتی ہیں تو نالوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی ان آبادیوں میں جانے سے بچے ڈوب جاتے ہیں اورعلاقہ مکین کو نقل مکانی کرنی پڑتی ہے،انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج کوئی انوکھا نہیں ہے یہ احتجاج کوئی ایسا نہیں کہ جو میں پہلی بار کررہا ہوں یہ احتجاج کوئی ایسا نہیں جو کراچی میں الگ سے کوئی ایسی بات کی جارہی ہے یہ احتجاج میں اس لیے کررہا ہوں کیوں کہ کراچی شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا گیا ہے جس کو ٹھیک کرنا ضروری ہے نالوں میں گیسز جمع ہوتی دھماکے ہوتے ہیں ہر مہینے ایک حادثہ پیش آتا ہے،کراچی کا حق کراچی کو دینا چاہئے تھا،پشاور اورلاہور والے کراچی کی مثالیں دیتے تھے اب پشاور اور لاہور خوبصورت سے خوبصورت ہوتے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نالوں کی صفائی کے لیے اپنی ڈیمانڈ وزیر اعلی ہاس کے باہر رکھی کہ خدارا کام کرلیں آپ کوئی ہل چل دکھا دیں آپ کو ئی عمل بتادیں آپ کوئی منصوبہ بتادیں اور اسی لیے میں نے اتنا صبر کیا کہ آگے سے یہ نہ کہیں کہ میں سیاست کررہا ہوں اسی لیے پہلی بار میں نے اتنا صبر کیا اور آج بھی میں صبر کے ساتھ کھڑا ہوں میں نے ان کو کہا کہ نالوں پر موجود کچرے کی صفائی کریں ان کو کہا کہ نالوں پر موجود تجاوزات کی منصوبہ بندی کریں لوگوں کو معاوضہ دیں گجر نالے میں محمودہ آباد نالے میں اورنگی ٹان نالے میں لوگوں کو معاوضہ دیا ان آبادیوں کو ہٹایا ان سے ڈیمانڈ کی کہ نالوں میں موجود جو یوٹیلیٹیز ہیں بجلی کی لائن، گیس کی لائن، پانی کی لائن اور سیورین کی لائن جو کسی بھی حادثے کا سبب بن سکتی ہیں ان کو ختم کیا جائے ان سے ڈیمانڈ کی کہ کراچی شہر میں موجود جتنے بھی انڈسٹریل ایریا میں فیکٹریز قائم ہیں ان کے اندر سیوریج ٹریٹمنٹ پلان نصب کریں تاکہ ان کا کیمیکل اور سارا انڈسٹریل ویسٹ نالوں میں جائے اور آبادیوں کو متاثر نہ کرے یہ سب قوانین میں لکھا ہوا ہے یہ سب کاغذ وں پہ لکھا ہوا ہے انہیں کی اسمبلیوں نے یہ سب قوانین پاس کیے ہیں لیکن عمل نہیں ہوتا

میں آج آیا ہوں یہاں پر اپنی فکس اٹ کی تنظیم کے ساتھ ہم وزیر اعلی سندھ کو پھر سے اپنے مطالبات کے ساتھ ڈیڈ لائن دینے آئے ہیں اگر آپ نے ہمارے مطالبات پر کام نہیں کیا تو پھر ہم وزیر اعلی ہاس کا گھیرا کریں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -