لاہور ، ریس کورس پارک میں میلہ جشن بہاراں میں مضر صحت کھانوں کی بھرمار، انتظامیہ خاموش

لاہور ، ریس کورس پارک میں میلہ جشن بہاراں میں مضر صحت کھانوں کی بھرمار، ...
لاہور ، ریس کورس پارک میں میلہ جشن بہاراں میں مضر صحت کھانوں کی بھرمار، انتظامیہ خاموش

  

لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن) میلہ جشن بہاراں ریس کورس میں مضر صحت کھانوں کی بھرمار سے شہری پریشان ہو گئے جبکہ   پنجاب فوڈ اتھارٹی نے چپ سادھ لی ۔

تفصیلات کے مطابق میلہ جشن بہاراں ریس کورس میں  مہنگے داموں اشیاء خورد نوش کی فروخت سے  عوام  کو لوٹنا معمول بن گیا ، شکایات کے ازالے کیلے کوئی سیل قائم نہیں  کیا جاسکا ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کیلے جشن بہاراں ریڈ زون قرار دیدیا گیا ۔  ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نے رپورٹ طلب کرلی ۔

ریس کورس پارک میں جشن بہاراں کے نام سے فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا  جس میں پی ایچ اے کی جانب سے رواں سال 46 لاکھ روپے کے عوض 60 کنال اراضی پرائیویٹ کنٹریکٹر کے حوالے کردی گی جس پر 80 سے زائد سٹال قائم کیے گیے ہیں ، ان سٹال پر ہوزری ، الیکٹرانک ، فاسٹ فوڈ ، دہی بھلے ، منی ریسٹورنٹ ، پھل  ،  مشروبات ، برگر پوائنٹس ، چائے خانہ سمیت کھانے پینے کے سینکڑوں پوائنٹس قائم کیے گیے ہیں ۔ روزنامہ "پاکستان "کی جانب سے کیے جانے والے سروے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ  ریس کورس کے جشن بہاراں میلہ میں مہنگے داموں اشیاء خورد نوش کی بھرمار ہے ، جس کی وجہ سے  دکانداروں اور صارف میں لڑائی جھگڑے کے بھی درجنوں واقعات سامنے آچکے ہیں جبکہ  پارک میں پی ایچ اے کی جانب سے کسی قسم کا شکایات سیل نہ ہونے کے باعث شکایات کا اندراج بھی نہیں کرایا جا سکا۔

سروے میں  مزید معلوم ہوا کہ ریس کورس کے جشن بہاراں میں2 عدد پٹھورے 160روپے میں ، چپلی کباب 150، ایک درجن گول گپے 150، مکئی کی روٹی بمعہ سرسوں کا ساگ 250،روغنی نان 60 روپے،چکن بروسٹ 700،دہی بھلے پلیٹ 150،سادہ برگر 100،چاۓ کا کپ 50 روپے، چکن بریانی پلیٹ 200 روپے،ڈیرھ لیٹر پانی کی بوتل 80 روپے، ہاف لیٹر پانی  کی بوتل 50 روپے، سافٹ ڈرنک ہاف لیٹر 70روپے اور سافٹ ڈرنک 1.5 لیٹر 150 روپے میں فروخت کی جارہی ہے جس کی بنیادی وجہ ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کی مبینہ غفلت اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کی عدم دسیتابی بتائی جارہی ہے ۔

 جبکہ ریس کورس میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی عدم توجہی اور لاپرواہی کے باعث مضر صحت اشیائے  خورو نوش کے علاوہ جعلی مشروبات کی بڑی فراہمی سے عوام کی صحت بھی خطرے میں پڑ چکی ہے ۔

ستم بالا ستم یہ کے پینے کا پانی بھی انتہائی  مضر صحت ہے دوسری جانب کھانے پینے کے علاوہ جس جگہ فیملیز کھانے کیلئے جاتی ہیں وہاں پر سروسز چارجز کی مد میں الگ سے عوام الناس سے پیسے بٹورے جارہے ہیں جس کی روک تھام کیلے کوئی ایس او پیز مرتب نہیں کیے جاسکے ۔ کورونا ایس او پیز کی احتیاط کیلئے بھی پی ایچ اے کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کیے گیے ، شہریوں کی کثیر تعداد کی جانب سے مضر صحت کھانوں ، اور مہنگے داموں اشیاء خورد نوش کو فروخت کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں ۔

روزنامہ" پاکستان" سے بات کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر مجتبیٰ ارفعت خان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ سے جواب طلب کرلیا ہے ، روزنامہ" پاکستان "کی نشاندہی کا نوٹس لیا جائے گا دوسری جانب پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حکمت عملی بنائی جارہی ہے ترجمان پی ایچ اے کا کہنا تھا کہ شکایات سیل کا جلد قائم کردیا جائے گا۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -