بھارت میں خاتون سیاستدان نے شراب کی دکان کے شیشے توڑ دیے

 بھارت میں خاتون سیاستدان نے شراب کی دکان کے شیشے توڑ دیے
 بھارت میں خاتون سیاستدان نے شراب کی دکان کے شیشے توڑ دیے
سورس: Facebook/UmaBharti

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک آدھ ریاست کے سوا بھارت میں اگرچہ شراب کو قانونی حیثیت حاصل ہے، تاہم گاہے اس پر پابندی کے حق میں آوازیں اٹھتی رہتی ہیں اور ان آوازوں میں بھارت کی معروف خاتون سیاستدان اوما بھارتی کی آواز بھی شامل ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے اپنی ریاست مدھیاپردیش میں شراب پر پابندی کی مانگ کر رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے آواز کے ساتھ ساتھ پتھر بھی اٹھا لیا اور شراب کی ایک دکان کے شیشے توڑ ڈالے۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق اومابھارتی سابق وفاقی وزیر اور مدھیا پردیش کی وزیراعلیٰ بھی رہ چکی ہیں اور بی جے پی سے وابستہ ہیں۔ حالیہ انتخابات میں مدھیاپردیش میں بی جے پی ہی فاتح جماعت قرار پائی ہے اور اسی کی حکومت قائم ہوئی ہے۔ اوما بھارتی کے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے جس میں وہ درجنوں لوگوں کے جلو میں شراب کی ایک دکان میں داخل ہوتی ہیں اور پتھر سے الماری کا شیشہ توڑ ڈالتی ہیں۔

اوما بھارتی نے اس ویڈیو کے ساتھ ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ”یہ مدھیاپردیش کے شہر بھوپال کا علاقہ برکھیڑا پٹھانی ہے۔ یہ مزدوروں کا علاقہ ہے جہاں شراب کی دکان کھول دی گئی ہے جس سے علاقے کی خواتین کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔میں مقامی انتظامیہ کو وارننگ دیتی ہوں کہ سات دن کے اندر یہ دکان بند کر دیں۔“ رپورٹ کے مطابق اوما بھارتی نے اپنی جماعت بی جے پی کی ریاستی حکومت کو بھی وارننگ دی ہے کہ اگر اس نے ریاست میں شراب پر پابندی نہ لگائی تو وہ حکومت کے خلاف تحریک شروع چلائیں گی۔دوسری طرف بھوپال پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ دکان میں توڑ پھوڑ کرنے پر اوما بھارتی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف کسی نے درخواست دی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -