ایران نے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات یکطرفہ طور پر روک دیے، پریشان کن خبر آگئی

ایران نے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات یکطرفہ طور پر روک دیے، پریشان کن خبر آگئی
ایران نے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات یکطرفہ طور پر روک دیے، پریشان کن خبر آگئی

  

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) عراقی حکومت کی کاوشوں سے سعودی عرب اور ایران میں گزشتہ سال سے مذاکرات کا عمل شروع ہوا تھا، جو گزشتہ دنوں ایرانی حکومت کی طرف سے یکطرفہ طور پر روک دیا گیا ہے۔ ایرانی ٹی وی چینل ’سحر ٹی وی‘کے مطابق ایرانی حکومت کی طرف سے مذاکرات معطل کرنے کے لیے سعودی حکومت کی طرف سے 81لوگوں کو دی گئی سزائے موت کو جواز بنایا گیا ہے۔ 

سعودی حکومت نے تاریخ میں پہلی بار ایک ہی دن اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو سزائے موت دی ہے۔ ان میں سے 41افراد سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی علاقوں قطیف اور الاحساءسے تھے، جبکہ 7کا تعلق یمن سے تھا۔ ان تمام لوگوں پر دہشت گردگروپوں سے تعلق کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور سزائے موت سنائی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق چند دن قبل ہی سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بغداد میں ہونے والے امن مذاکرات کا پانچواں دور شروع ہونے والا ہے۔ ان کے اس بیان کے چند دن بعد ہی ایران کی طرف سے مذاکرات روک دیئے جانے کی خبر سامنے آ گئی ہے۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کی طرف سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو سزائے موت دیئے جانے کے اقدام کی سختی سے مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت کا یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -