حکمران کیسے ہونے چاہئیں؟

حکمران کیسے ہونے چاہئیں؟
حکمران کیسے ہونے چاہئیں؟

  

عام انتخابات ہو چکے ہیں، جن میں وفاق اور صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتوں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اب نئی حکومتیں بنیں گی اور حکومتوں میں نئے وزراءلئے جائیں گے۔ راقم نے امام کے تقرر کے لئے جن شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، اس پر ایک وقیع مضمون اپنی کتاب ”مسلم خوابیدہ اُٹھ، ہنگامہ آراءتو بھی ہو“ میں رقم کیا ہے۔ یہ کتاب اکادمی ادبیات اسلام آباد سے انعام یافتہ ہے اور حکومت پنجاب نے بھی اپنے سارے کالجوں اور لائبریریوں کے لئے منظور کی ہے۔ اگر ان شرائط پر عمل کر کے دیانت دار اور صالح افراد پر مشتمل حکومت بنائی جاتی ہے تو اس سے ملک و قوم کا فائدہ ہوگا۔ ایک خوش حال اور پائیدار حکومت کی تشکیل کے لئے جن امور پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ملکی احوال کی اصلاح کے لئے انہیں درست انداز سے نافذ العمل بنانا ہے۔ ان کے مندرجہ ذیل شرائط و اوصاف کا ہونا ضروری ہے:

٭....امامت کی اہلیت کے لئے کون سی شرائط کا ہونا ضروری ہے؟

٭....امام (صدر مملکت) میں کون سی صفات ہونی چاہئیں؟

٭....وزارت کی اقسام (وزارتِ تفویض اور وزارتِتنفیذ کیا ہیں؟

٭....وزیر میں کیا صفات ہونی چاہئیں؟

امام ابو الحسن علی بن محمد بن حبیب البصری البغدادی الماوردی المتوفی 450 ہجری، اپنی مشہور کتاب ”الاحکام السلطانیہ“ میں فرماتے ہیں کہ: نبوت کی جانشینی کے لئے امامت ہے تاکہ دین کی حفاظت اور دنیا کا انتظام برقرار رہے، کسی نہ کسی شخص کا امت میں اجماع امت (بہرے اس سے مستثنیٰ کر دئیے گئے ہیں) امام مقرر کیا جانا واجب ہے۔ اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا اس مسئلے کا وجوب ازروئے عقل واجب ہے، کیونکہ تمام ارباب خردفطری طور پر اپنے معاملات ایسے رہبر کے سپرد کر دینا چاہتے ہیں جو انہیں ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے روکے اور مخاصمت باہمی میں ان کے درمیان فیصلہ کرے،اگر ذی اقتدار افراد نہ ہوں تو عالم میں شخصی اقتدار پھیل جائے اور تہذیب و اجتماع کا شیرازہ بکھر جائے۔ جاہلی شاعر کہتا ہے (ترجمہ) جب لوگوں پر ذی اقتدار لوگ نہ رہیں تو انہیں اقتدار شخصی کبھی مفید نہیں ہوتا، اسی طرح جب جاہل سردار بن جائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان میں ارباب اقتدار ہی نہیں ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا وجوب عقل سے نہیں، بلکہ شرع سے ثابت ہے، اس لئے کہ امام احکام شریعہ کو قائم کرتا ہے اور عقل اس بات کو جائز رکھتی ہے کہ ان کے زبردستی تسلیم کرائے جانے کا ارادہ نہ ہو، اس لئے عقل سے اس کا وجوب ثابت نہیں ہوتا۔ علاوہ بریں عقل اس بات کو ضروری سمجھتی ہے کہ ہر عاقل خودکو باہمی ظلم و علیحدگی سے بچائے اور تقسیم حقوق و میل جول میں متقضائے عقل کے بموجب عمل کرے ،مگر اس وقت خود اپنی ہی عقل سے کام لے سکتا ہے۔ دوسرے کی اسے ضرورت نہیں، البتہ شریعت نے دین کے معاملے میں تمام امور کی باگ ایک شخص مجاز کو تفویض کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، ترجمہ: ”اے ایمان والو! اطاعت کرواللہ کی ،اس کے رسول کی اور اپنے حکمرانوں کی“.... اس آیت سے اللہ نے ہم پر اپنے حکام کی اطاعت فرض کر دی ہے اور یہ حکام وہ امام ہیں جو ہم پر مقرر کئے گئے ہیں۔ جب امامت کا وجوب ثابت ہوگیا تو یہ اپنے حکم میں جہاد اور حصول علم کی طرح فرض کفایہ ہے، اگر کوئی ایک امام بن گیا تو تمام لوگوں سے اس کی ذمہ داری ساقط ہو جائے گی اور اگر کوئی شخص اس ذمہ داری کو لینے کے لئے تیار نہیں ہوا تو اب لازمی طور پر جمہور میں سے دو قسم کے لوگ ہوں گے، ایک اہل اختیار جو کسی کو امام منتخب کریں، دوسرے اہل امامت کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی اس منصب کے لئے خود کو پیش کرے۔ ان کے علاوہ باقی قوم کے افراد پر امامت کے انعقاد کی تاخیر میں کوئی الزام نہیں۔جب معلوم ہوگیا کہ صرف یہی دو قسم کے لوگ انعقاد امامت میں ضروری ہیں تو دیکھا جائے گا کہ اس بارے میں جن صفات کا ہونا ضروری خیال کیا گیا ہے، وہ بھی ان میں پائی جاتی ہیں؟ اہل اختیار میں دو صفتوں کا اعتبار کیا جاتا ہے، پہلے حق پثر وہی (پثر وہ بمعنی تحقیق کرنا، کھوج لگانا) مع اپنے پوری شرطوں کے، جس سے انہیں معلوم ہو کہ کون امامت کا اس کی تمام شرطوں کے ساتھ مستحق ہے۔ تیسرے دانا و مفکر کیونکہ یہ باتیں بہترین اہلیت رکھنے والے آدمی کے انتخاب میں ممد ہوتی ہیں۔امامت کی اہلیت کے لئے کیا شرائط ہونی چاہئیں؟

امامت کی اہلیت کے لئے ان سات شرطوں کا ہونا ضروری سمجھا گیا ہے ۔ پہلی پثردہی (اپنی تمام شرطوں کے ساتھ)، دوسری علم (امام ایسا عالم ہو کہ وہ عام ہدایات اور غیر معمولی واقعات کے وقت اجتہاد کر سکے)تیسری، صحت حواس و نطق (چوتھی، صحت اعضاءتاکہ وہ اسے حرکت سے نہ روکے اور باآسانی اٹھنے بیٹھنے میں خارج نہ ہو، پانچویں، عقل و فراست (جو رعیت کی نگہبانی اور مصالح ملکی کے روبکار لانے میں معین ہو، چھٹی شجاعت و دلیری (جس سے ملک کی حفاظت اور دشمن سے جہاد کیا جائے)، ساتویں اعلیٰ حسب نسب (ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ایک دن مَیں نے عمرؓ کو بہت بے چین پایا اور فرمانے لگے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ مَیں خلافت کے بارے میں کیا کروں؟ مَیں نے علیؓ کا نام لیا، عثمانؓ کا نام لیا۔ طلحہؓ کا نام لیا، زبیرؓ کا نام لیا، سعد بن وقاصؓ کا نام لیا، پھر عبدالرحمن بن عوفؓ کا نام لیا، مگر آپؓ سب پر کئی وجوہات کی بناءپر راضی نہ ہوئے) بالآخر فرمایا:”اے ابنِ عباسؓ! خلافت کا وہ شخص اہل ہے جو قوی ہو، مگر سخت نہ ہو، مسکین مزاج ہو، مگر کمزور نہ ہو، خرچ کرنے میں محتاط ہو، مگر بخیل نہ ہو، سخی ہو، مگر مسرف نہ ہو“۔

صدرِ مملکت میں کون سی صفات ہونی چاہئیں؟

ایک اچھے صدر میں پاکیزہ صفات کا پایا جانا ضروری ہے، مثلاً اس کا دامن کبیرہ گناہوں سے داغدار نہ ہو۔ احسان و فضل کی صفات سے متصف ہو۔ حکومت کی ذمہ داریوں کو بجالانے کی ہمت اور قوت ہو۔ عفو و درگزر کرنا جانتا ہو۔ جبر و استبداد سے بچتا رہے۔ سیاست کو ٹینشن فری یعنی تناو¿ سے پاک رکھے۔ متفی،خدا ترس اور پرہیز گار ہو۔ جب مسند حکومت پر بیٹھے تو اپنے رب کی یاد سے غافل نہ ہو۔ جب ملک کے خزانوں کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہوں تووہ ان خزانوں کو اپنے ذاتی آرام و آسائش اور عیش و عشرت میں صرف نہ کرے۔ بدکاری اور فسق و فجور پروان نہ چڑھنے دے۔ زمام حکومت ہاتھ آنے کے باوجود اپنا سر نیاز اپنے رب کے حضور عاجزی وانکساری سے جھکائے رکھے۔ غریبوں اور مسکینوں پر دست شفقت رکھے۔ رعایا کی ضروریات زندگی پوری کرنے والا ہو۔ وزیر اور مشیر سلاطین اور ان کے امراءوزراءکی سیرت ہمارے لئے مشعل راہ ہونی چاہئے۔ آپ کو عالی ہمتی، بلند حوصلگی، فن سپہ گری میں مہارت، قبائے شاہی کے اندر درویشی، عبادت میں مشغولیت، علمی ذوق و شوق، وسعت مطالعہ کے ایسے نادر نمونے ملیں گے جن کی نظیر ملنی مشکل ہوگی۔ ان میں سے چند ایک کے اسمائے گرامی یہ ہیں: سلطان شمس الدین التمش، سلطان غیاث الدین بلبن، ناصر الدین محمود، فیروز تغلق، شیر شاہ سوری، اورنگزیب عالمگیر، عبدالرحیم خان خاناں، یہاں صرف شیر شاہ سوری کے معمولات زندگی پر تھوڑی سی روشنی ڈالی جاتی ہے۔

 تہائی رات رہتی کہ بیدار ہو جاتا، غسل کرتا، نوافل پڑھتا، نماز فجر سے پہلے اوراد ختم کر لیتا۔ مختلف صیغوں کے حسابات دیکھتا، روزانہ کا نظام عمل بناتا۔ پھر نماز فجر کے لئے وضو کرتا۔ جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا۔ پھر اذکار و اوراد میں مشغول ہو جاتا۔ نمازِ اشراق پڑھتا۔ لوگوں کی ضروریات معلوم کرتا۔ افواج شاہی اور اسلحہ کا معائنہ کرتا۔ ملک کی روزانہ آمدنی اور مالیہ کا معائنہ کرتا۔ پھر ارکان سلطنت اور سفراءحاضر ہوتے۔ مناسب ہدایات دیتا۔ دوپہر کے کھانے پر علماءاور مشائخ بھی دستر خوان پر ہوتے۔ دو گھنٹے اپنے ذاتی کام کرتا۔ قیلولہ کرتا، نماز با جماعت پڑھتا۔ قرآن مجید کی تلاوت کرتا پھر امورِ سلطنت میں مشغول ہو جاتا۔ سفر و حضر میں اس نظام الاوقات میں کوئی تبدیلی نہ ہوتی۔

وزارت کی اقسام

وزارت کی دو قسمیں ہیں۔ وزارتِ تفویض (Delegation of Power) اور وزارت تنفیذTo enforce وزارت تفویض کے یہ معنی ہیں کہ امام کسی شخص کو وزیر بنا کر اُمور سلطنت کی باگ اس کے ہاتھ میں دے دے، جنہیں وہ اپنی رائے اور صوابدید سے انجام دے۔ اس قسم کی وزارت کے جواز کی ممانعت نہیں ہے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ اپنے بنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں ان کی زبانی فرماتا ہے:ترجمہ، یعنی میرے خاندان میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بناتا کہ اس کی مدد سے مَیں اپنی کمر مضبوط کر لوں اور اسے اپنے کام میں شریک کر لوں....جب نبوت میں وزارت جائز ہے تو امامت میں بدرجہ اولیٰ جائز ہے، کیونکہ امام جس کے سپرد تمام امت کے معاملات کی انجام دہی ہے وہ خود اپنے اختیارات کو تقسیم کئے بغیر ان معاملات کو انجام نہیں دے سکتا۔ نیز تدبیر حکومت میں ایک شخص کا اور شریک ہو جانا شخص واحد کے مقابلے میں زیادہ مفید ہے، کیونکہ اس صورت میں امام اپنے وزیر سے معاملات ملکی میں امداد اور مشورہ لیتا رہے گا اور اس طرح غلطیوں اور نفرتوں سے زیادہ محفوظ رہے گا۔(جاری ہے)     ٭

مزید :

کالم -