”کینسر کامریض“اورچورن

”کینسر کامریض“اورچورن
”کینسر کامریض“اورچورن

  

11مئی کوانتخابات کے دن کا سورج تقریباً 60 انسانی جانوں کی بھینٹ لے کر غروب ہوا....جب محفوظ اور روشن حویلیوں میں شہنائی بج رہی تھی تو کچے، نیم پختہ، غیر محفوظ گھروں میں کہیں کہیں ماتم بھی ہورہا تھا۔قبل ازیں وسط اپریل سے 9مئی تک خیبرپختونخوا میں کم ازکم108 افراد ہلاک اور290کے قریب زخمی ہوچکے تھے، اسی دوران بلوچستان میں19افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا اور 88زخمی ہوئے، جبکہ کراچی میں بدامنی کے آتش فشاں نے کم از کم 115افراد کی جانوںکا نذرانہ لیا اور 200سے زیادہ زخمی ہوئے۔ گویا مجموعی ہلاکتوں کی تعداد صرف تین ہفتوں یا25 سے کم روز میں 242اور زخمیوں کی تعداد578تھی۔

کیا یہی جمہوریت ہے؟.... اور یہی عوام کی رائے سے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت کی تشکیل کے لئے انتخابات کا قابل اطمینان طریقہ ہے؟ یا پھر ہم نے خود کو ایک قوم کے بجائے عدم برداشت کے حامل گروہوں میں تقسیم ایک منتشر ہجوم ثابت کیا ہے، کیونکہ ایسا لگ رہا تھا کہ پورا ملک کسی قبائلی خوں ریز جنگ کا میدان بن گیا ہے، جس کے تین بڑے محاذ کراچی، خیبرپختونخوا اور بلوچستان ہیں۔ کراچی میں جو کچھ ہوتا رہا اور نہایت مہذب، متمول اور تعلیم یافتہ لوگوں کے علاقے سے غریب اور کچی بستیوں تک جس طرح ”زور آور “نے کمزور وںکو زیر کرکے صد فیصد مطلوبہ نتائج حاصل کئے،اس نے پورے انتخابات کی کریڈیبلٹی کے لئے بڑا سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ کراچی نہ صرف آبادی کے لحاظ سے، بلکہ معاشی و کاروباری سرگرمیوں کے تعلق اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کی اقتصادی شہ رگ ہونے کے حوالے سے ملک کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اس کی اہمیت پورے صوبہ بلوچستان سے کہیں زیادہ ہے، جو رقبے کی نوعیت کا سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن یہاں فوج کی زیر نگرانی پُر امن اور شفاف انتخابات کا انعقاد صرف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے یا ایک خواہش کے طو رپر باقی ہے۔

اس ساری خرابی کی اصل وجہ صرف یہ ہے کہ انتظامیہ،عدلیہ ، پولیس، رینجرز اور فوج کوہزاروں مسلح افراد سے اُلجھنااور تصادم میں آنا قبول نہیں ہے، چنانچہ ریاست کے مقتدر مراکز نے ریاست میں کسی بڑے بحران کے خوف سے اس اہم اوربڑے شہر کو ”جیسا ہے اور جہاں ہے“ کی بنیاد پر قبول کرلیا ہے، چہ جائیکہ وفاقی اور صوبائی نگران حکومتوں سے، جن کی تعمیر و تشکیل میں ہی اک صورت خرابی کی مضمر تھی اوراس کے اجزائے ترکیبی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے تھے کہ انتخابات کیسے ہوں گے، یہ توقع رکھنا صریحاً حماقت ہی کہی جاسکتی ہے کہ وفاقی اورصوبائی حکومتیں پُر امن اور شفاف انتخابات کی ضمانت بن سکتی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے چیئرمین کی طرح وفاق اور سندھ کی نگران حکومتوں کے بوڑھے اور ناتواں سربراہ ”غیر جانبداری“ کے لئے کسی غیر ضروری، غیرمعمولی اقدام کا بوجھ برداشت کرنے سے بہتر یہ سمجھتے تھے کہ اچھی اور تسلی دینے والی گفتگو تواتر کے ساتھ کی جاتی رہے، چنانچہ بے ہنگم الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اور ان کی تعریف کرکے، تعریف وصول کرتے ہوئے یہ کام ”پُرامن اور شفاف“ انداز سے ہوتا رہا۔

17اپریل کے اخبار میں سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد کا انٹرویو شائع ہوا، جس میں انہوں نے واضح الفاظ کے ساتھ اعتراف کیا تھا کہ” سیکیورٹی کی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے“ .... اس کے ساتھ ہی بتایا تھا کہ کراچی، کوئٹہ، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں فوج تعینات کریں گے، لیکن شاید فوج کو پُرامن اور شفاف انتخابات کے لئے بروئے کار لانے کا فیصلہ کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو منتقل نہیں کیا گیا تھا۔ صرف ٹھنڈے کمروں میں زبانی تسلیوں سے خوش رکھا گیا تھا، چنانچہ انتخابات سے چار روز قبل آرمی چیف نے7مئی کو کراچی میں تسلیوں سے جنم لینے والی خوش فہمی دورکردی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کراچی میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں واضح الفاظ کے ساتھ کہا :”فوج پولنگ سٹیشنوں کے اندر تعینات نہیں کی جائے گی“....آرمی چیف کی فیصلہ کن گفتگو سے پتہ چل گیا کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کی خواہش پوری نہیں ہوسکے گی اور30اپریل کو17سیاسی پارٹیوں کا یہ مطالبہ بھی ناقابل قبول ہے کہ کراچی میں انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں۔

رینجرز اور پولیس کی کراچی میں ناکامی کا ذکر سپریم کورٹ میں بھی ہوچکا ہے اور اس شہر کی بدامنی کا روزنامچہ بھی اخبارات کے ذریعے ان کی ناکامی کی داستان سناتا چلاآرہا ہے۔ رینجرز کو کراچی میں عارضی اور وقتی طور پر بلایا گیا تھا، مگر اسے تقریباً 25برس کا عرصہ ہوچکا ہے۔ شاید فوج اسی سبب گریزاں ہے کہ اگر وہ ناکام ہوگئی تو پھر کیا ہوگا؟ لہٰذا وہ کراچی کی سمت اور اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والے اہم موقع پر بھی خود کو زیادہ سے زیادہ سڑکوں پر گشت کے نمائشی اقدامات تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔12مئی کی شب سندھی ٹی وی چینل نوابشاہ میں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان مسلح تصادم میں2افرادہلاک اور 13 افرادکے زخمی ہونے کے بعد شہر کو لاقانونیت سے بچانے کے لئے فوج کو طلب کرنے اور کرفیو جیسی صورت کا حال بیان کررہا تھا، دوسری طرف خیرپورمیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے تصادم میں ایک شخص کے قتل پر شٹر بند ہڑتال اور متاثرہ افراد کی لاشوں سمیت دھرنا دینے کی خبر تشویش کا باعث تھی ۔

 تیسری طرف میہڑ میں انتخابی دھاندلی پرہڑتال جبکہ دادو میںہائی وے پر 8گھنٹے سے جاری دھرنے کے سبب کراچی سے لاڑکانہ جانے والی ٹریفک کے لئے مشکلات کی خبر تھی۔ چوتھی طرف جیکب آباد میں الٰہی بخش سومر واور مسلم لیگ (ن)کے دیگر لیڈروں نے پیپلز پارٹی کی دھاندلیوں اور دھونس پر پانچ گھنٹے تک ہزاروں افراد کے ساتھ دھرنا دیا۔ اسی طرح سکھر، لاڑکانہ ، بدین، تھرپارکر اور دیگر مقامات کی خبریں انتخابات کے سلسلے میں عدم اطمینان کو عیاں کررہی تھیں۔ حد تو یہ ہے کہ دادو میں پیپلزپارٹی کے اُمیدواروں کی جیت کی خوشی میں فائرنگ کرنے والوں نے ایک شخص رجب علی ببر کو موت کے گھاٹ اُتاردیا۔ جس معاشرے میں بندوق کے زور پر الیکشن لڑاجاتا ہو، وہاں سیاسی رقابت میںجان لینے کی طرح خوشی میں کسی کی جان لے لینا تعجب خیز نہیں ہے۔ جب محافظ چارہ گروں کو چارہ گری سے گریز ہو اور مسیحا کینسر کے مریض کو پیٹ کے درد کا چورن دے کر اطمینان کا اظہار کریں تو پھر انسانی جان و مال کے دشمنوں اور معاشرے کے سماجی ماحول کو سیاسی دھاک کے لئے تلپٹ کرنے والوں کی بندوقیں ہی گونجتی اور بھونکتی ہیں۔ کراچی سے کشمور تک آج کا سندھ یہی کہانی سنارہا ہے۔  ٭

مزید :

کالم -