مظفر نگر میں ایک بار پھر فسادات بھڑکانے کی سازش

مظفر نگر میں ایک بار پھر فسادات بھڑکانے کی سازش
مظفر نگر میں ایک بار پھر فسادات بھڑکانے کی سازش

  


بھارتی شہر مظفر نگر میں ایک بار پھر ہندو مسلم فسادات کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرتے ہوئے ایک مسلم نوجوان کو بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا ہے جس سے پورے علاقہ میں سخت کشیدگی پیدا ہو گئی ہے اور غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا وہاں چیتاموبائل فورس کے اہلکار بھی موجود تھے لیکن وہ وہاں سے خاموشی سے غائب ہو گئے اور مجرموں کو پکڑنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ بعد ازاں مشتعل افراد نے احتجاج کرتے ہوئے ضلع ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں توڑ پھوڑ بھی کی۔ بھارتی میڈیاکے مطابق یہ واقعہ مظفر نگر شہر میں کوتوالی علاقہ کے بھگت سنگھ روڈ پر واقع سائبر کیفے میں پیش آیا ہے۔مذکورہ علاقہ میں حالات سخت خراب ہونے پر پورے شہر کی پولیس کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ شہید کیاجانے والا اٹھارہ سالہ نوجوان محمداویس شاملی روڈ کا رہنے والا ہے۔ ہندو انتہا پسندوںنے جب اویس اور ایک دوسرے شخص کو گولیاںماریں تو افراتفری پھیل گئی اورلوگوں نے دوکانیں بند کر دیں ۔ شہید نوجوان کے بارے میںمعلوم ہوا ہے کہ وہ دسویں کلاس کا طالب علم تھا اور بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ اسکی لاش جب گھر پہنچی تو ہر طرف کہرام مچ گیا اور ایک بار پھر شدید احتجاج کیا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ کوشل راج شرما اور ایس ایس پی ہری نارائن سنگھ نے مجرموں کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے تاہم ابھی تک کسی مجرم کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

بھارتی ریاست اترپردیش کے مظفر نگر ضلع میں گذشتہ برس اگست اور ستمبر میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں ستر سے زائد مسلمان شہید اور ایک لاکھ سے زائد افرادنے اپنے گھر بار چھوڑ کر وہاں سے ہجرت کی اور مدرسوں، اسکولوں، عیدگاہوں اور دیگر مقامات پر ڈیرے ڈالنے پر مجبورہوئے۔ان فسادات سے متاثرہ ہرشخص اپنے سینے میں ظلم کی ایک الگ داستان چھپائے بیٹھا ہے۔ مظلوم مسلمانوں میں سے کوئی اپنے بیٹے کو کھوچکا ہے تو کسی کی بیٹی غائب ہے۔کئی مائیں ایسی ہیں جن کی جوان بیٹیوں کوہندو انتہا پسند زبردستی اغواءکر کے لے گئے۔کوئی عورت اپنے شوہر کے قتل پر آنسو بہارہی ہے تو کسی کا جوان بیٹا چھن گیا ہے۔ہزاروں مسلمانوں کے اثاثے لٹ گئے۔ درجنوں شیر خوار بچے چھین کرانہیں والدین کے سامنے قتل کر دیا گیا۔ہزاروں مسلمان تاحال فساد متاثرہ کیمپوں میں پناہ گزیں ہیں اور کسی صورت اپنے گھروں کو واپس جانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔یہ فسادات ہندو انتہا پسند جاٹوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوئے تھے اور ریاست میں سماجوادی پارٹی کی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ مرنے والے زیادہ تر مسلمان تھے’تب سے یہ الزام بھی گردش کر رہا تھا کہ فسادات ایک منظم منصوبہ بند ی کے تحت کرائے گئے اور ان کا مقصد پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلمانوں کے خلاف جذبات بھڑکانا تھا۔یہ بات اس لحاظ سے حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے کہ ہندو انتہا پسند تنظیم بی جے پی کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کے جلسوںمیں نہ صرف ان فسادات کے مجرم سنگیت سوم اور سریش رانا جیسے مقامی لیڈر شریک ہوتے رہے ہیں بلکہ انہیں اسٹیج پر بلا کر باقاعدہ گلپاشی کی جاتی رہی ہے۔

 آگرہ جلسہ کے دوران بھی یہی کچھ کیاگیا تھا۔بی جے پی فسادات کے بعد سے مسلسل ہندو انتہا پسند جاٹوں کی سرپرستی کر رہی ہے یہی وجہ ہے کہ آ ج تک مظفر نگر فسادات کے اصل مجرموں کو گرفتار نہیں کیا گیا جب کبھی مسلمانوں کے شدید احتجاج پر پولیس مجرمو ں کی گرفتاری کیلئے جاٹوں کے گاﺅں کا گھیراﺅ کر تی ہے’ وہ پولیس کو مار بھگاتے ہیں اور اہلکار بھی محض کاغذی کاروائی کر کے واپس آجاتے ہیں وگرنہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ پولیس گاﺅںمیں داخل نہ ہو سکے اور مجرموں کو حراست میں نہ لیا جا سکے۔ بھارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاست اترپردیش سیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اس لئے یہاں خاص طور پر ہندو مسلم فسادات کروانے اور ایک خاص قسم کا ماحول پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ مظفر نگرفسادات کے دوران ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے پولیس کی سرپرستی میں نہ صرف گھروںمیں لوٹ مارکی گئی بلکہ والدین کے سامنے ان کی معصوم بچیوں کی اجتماعی عصمت دری کے دل دہلا دینے والے واقعات بھی پیش آئے جنہیں سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کی طرح دنیا بھر میں ہندو مسلم فسادت کے حوالہ سے چشم کشا رپورٹیں شائع ہوتی رہتی ہیں لیکن معصوم بچوں اور عورتوں سمیت مسلم نوجوانوں اور بوڑھوں پر بدترین مظالم ڈھانے والے چونکہ ہندو ہیں اس لئے کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہے۔ کسی مسلمان ملک میں چھوٹا سا کوئی واقعہ ہوجائے تو طوفان بپا کر دیا جاتا ہے مگر بھارت میں ہونے والے ان فسادات پر کبھی اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر حقوق انسانی کے عالمی اداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

 بھارت میں مسلمانوں کو قدم قدم پر پریشانیوں کا سامناہے۔ تعلیم و صحت کے میدان میں وہ سب سے پیچھے ہیں۔ عبادات میں ان کو آزادی نہیں ہے۔ ہندو انتہا پسند سرکاری دفاتر سمیت چوکوں و چوراہوں میں بھی زبردستی مندر تعمیر کر رہے ہیں اور اس حوالہ سے سرکاری سرپرستی میں بھر پور مہم چلائی جارہی ہے لیکن مسلمانوں کیلئے نئی مساجد تعمیرکرنا تو درکنار’ جو پہلے سے بنی ہوئی ہیں ان کا تحفظ کرنا بھی انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔ بی جے پی، کانگریس اور دیگر تنظیمیں ایک دوسرے سے بڑھ کر مسلم دشمنی کا مظاہرہ کر کے ہندوﺅں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوششیں کرتی رہی ہیں۔ابھی دو دن قبل کینیڈا کی معروف سماجی لیڈرکرکیٹرین لاروچ کی قیادت میں بھارت آنے والی ایک ٹیم نے مظفر نگر فسادات سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اورحالات کا بغور جائزہ لینے کے بعدہندو انتہا پسندوں کے ملوث ہونے کا اقرار کیاہے اور کہا ہے کہ یہ فسادات انسانیت کو شرمسار کردینے والے تھے۔ ان فسادات میںمسلمان ہی نہیں بلکہ انسانیت مری ہے۔ مذکورہ سماجی ورکرکا تعلق مونٹیریل یونیورسٹی کینیڈا سے ہے اور وہ مظفر نگر فسادات کے حوالہ سے ریسرچ بھی کر رہی ہیں۔ان کے دورہ کے دوران مسلم وائس آف انڈیاکے رہنمااور مقامی صحافی بھی ہمراہ تھے۔

اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ سیاست کی وجہ سے پہلے اس قسم کے حالات پیدا کئے جاتے ہیں، عوام کو مشتعل کیا جاتا ہے ، اور پھر فساد رونما ہوتا ہے جس کا فائد ہ سیاسی لوگ اٹھاتے ہیں جو انتہائی شرمناک پہلو ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ میں اس بات کو تسلیم کیاجاچکا ہے کہ یہ فسادات ایک جعلی ویڈیو کی بنیاد پر برپا کئے گئے اور مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی جس کی ذمہ دار اترپردیش حکومت ہے جس نے لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری ادا نہیں کی۔برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد سے بھارت میں ہزاروں مسلم کش فسادات میں لاکھوں کی تعداد میں نہتے اور بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا رہا ہے لیکن ہزاروں قاتل درندوں کو ہمیشہ بھارت میں برسر اقتدار طبقہ کی مکمل مدد و حمایت حاصل رہی ہے۔ پچھلے ادوار کی طرح آج بھی جن ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں وہ کھلے عام بے خوف و خطر گھوم پھر رہے ہیں۔دودن قبل بھی مظفر نگر میں فسادات کی آگ بھڑکانے کی خوفناک سازش کی گئی ہے اس کے پیچھے بھی یہی ہندو انتہا پسند تنظیمیں ہیںجو الیکشن کے دوران آسام اور دیگر علاقوںمیں بھی یہی کھیل کھیلنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ممالک اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھارت سرکار پر دباﺅ بڑھائیںکہ وہ سرکاری سرپرستی میں فسادات بھڑکانے کا سلسلہ بند کریں تاکہ بھارتی مسلمانوں کی عزتیں اور ان کے جان و مال محفوظ ہو سکیں۔

مزید : کالم


loading...