ماں

ماں
ماں

  


ماں کا عالمی دن 11 مئی کو منایا گیا، اس سلسلے میں تقاریب کا انعقاد ہوا، جلسے جلوس ہوئے اور اخبارات میں مضامین لکھے گئے بلاشبہ ماں کی ہستی ہی ایسی شان والی ہے کہ اسے خراج تحسین پیش کیا جائے، ماں اپنی اولاد کے لئے شفقت کا گھنا سایہ اور ہمدردی کا سمندر ہے، ایک ماں کا دل اپنی اولاد کے دل کے ساتھ دھڑکتا ہے اور اولاد ہی ماں کی کل کائنات ہوتی ہے۔

ماں کی عظمت اور قدر کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب ماں اس دُنیا سے چلی جاتی ہے، حضرت موسیٰ ؑ اپنی ماں کی وفات کے بعد جب اللہ سے ہم کلام ہونے کوہ طور کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں ٹھوکر کھا کر گرنے لگے، غیب سے آواز آئی اے موسیٰؑ سنبھل کر چل اب تیرے پیچھے دُعا کرنے والی ماں نہیں ہے، اس مختصر واقعہ میں ایک بہت بڑا سبق جو ہے وہ یہ ہے کہ نہ صرف ہم دُنیا داروں کو ماں کی دُعا کی ضرورت ہے بلکہ ایک نبی بھی ماں کی دعا کا محتاج ہے۔ اس سے ماں کے بلند مرتبے کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

دُنیا میں جتنے بھی رشتے ہوں اور ان رشتوں میں جتنی بھی محبت ہو وہ اپنی محبت کی قیمت مانگتے ہیں مگر ماں کا رشتہ دُنیا میں صرف ایسا رشتہ ہے جو آپ کو کچھ دیتا ہی ہے اور اس کے بدلے میں آپ سے کچھ نہیں مانگتا۔ ماں خود گیلے بستر پر سوتی ہے اور اپنے بچے کو سوکھے بستر پر آرام کی نیند سلاتی ہے۔بقول سرسید احمد خان ماں ہزار استادوں سے بہتر ہے، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک انسان کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے، ماں انسان کی پہلی تربیت کرتی ہے اور اسے دنیا میں چلنے کا نہ صرف سلیقہ بتاتی ہے بلکہ زمانے کے رویوں، دنیا کے چلن اور وقت کی نبض کو سمجھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، ماں ہی اپنی اولاد کو رشتوں کی پہچان کراتی ہے، ان رشتوں کی اہمیت اور انہیں نبھانے کے لئے تیار کرتی ہے، اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ایک ماں پورے خاندان کو بکھرنے سے بچاتی ہے اور اپنی اعلیٰ تربیت سے خاندان کے رشتوں کی کڑی در کڑی جوڑ کر رکھتی ہے۔

اگر کوئی شخص دنیا میں جنت پانا چاہتا ہے تو ایک بار ماں کی عزت ، پاکیزگی، دور اندیشی، دعا اور محبت کو سمجھ لے تو تمام زندگی اپنی ماں کے احسانوں اور ایثار کا بدلہ نہ چکا سکے گا، ماں کے بغیر انسان کی اپنی زندگی ادھوری ہے، ماں کا حق باپ سے تین گنا زیادہ ہے کیونکہ ماں کا رشتہ اپنی اولاد سے براہ راست ہے، ماں نے اپنی اولاد کے لئے بڑی قربانیاں دی ہوتی ہیں، ایسی قربانیوں جو اذیتیں اٹھا کر اپنا ثبوت دیتی ہیں، ماں کی دعاﺅں سے ہر مشکل گھڑی آسان ہو جاتی ہے جو اولاد کے لئے ٹھنڈی چھاﺅں کا درجہ رکھتی ہے، یہ حقیقت ہے کہ جب اولاد کو دنیا میں کہیں بھی سکون نہ ملے تو وہ اپنی ماں کی آغوش میں آ کر اپنی آہوں اور سسکیوں کو نثار کر دے تو ایسی راحت محسوس کرے گا جو اس کو کہیں بھی نہ ملی ہو گی، اس حقیقت سے بھی انکار ناممکن ہے کہ ہمارے معاشرے کے اکثر گھروں کی صورتحال بدل رہی ہے، ہماری اولاد کی شخصیت سازی میں گھر کا ماحول ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جہاں ہمارے بچوں کی شخصیت اور کردار کی عمارت تعمیر ہوتی ہے، باپ کی نسبت ماں اپنے بچوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور بچے کا مستقبل ماں کی گود میں پرورش پاتا ہے۔

ماں کی عظمت کا اندازہ لگائیں کہ ماں بچے کے سونے سے پہلے اسے اپنی قوم کے بہادروں کے کارنامے سناتی ہے اور اس طرح اسے بہادری کے جذبات سے ہمکنار کر دیتی ہے، بچے کے دل اور دماغ میں جب اپنے ہیروز کے کارنامے محفوظ ہو جاتے ہیں تو پھر وہ بھی جوان ہو کر بہادری کے بے مثال کارنامے انجام دیتا ہے اور اس طرح ملک و قوم کی خدمت کرتا ہے ، آج ہم جو میجر عزیز بھٹی میجر طفیل شہید اور دوسرے شہیدوں کے کارنامے سن کر اپنا سر فخر سے بلند کر لیتے ہیں تو اس فخر کا اصل منبع ماں ہے، بہادری کی داستانوں کو قائم کرنے والا اصل سرچشمہ ماں ہے۔اولاد چاہے عمر کے کسی بھی حصے میں ہو ماں اس کے لئے فکر مند رہتی ہے، یہ دنیا کا وہ پرخلوص رشتہ ہے جس کا کوئی ثانی نہیں، یہی وہ ہستی ہے جو با آسانی خود کو اپنے بچے پر نثار کر سکتی ہے۔ وہ تو اسے ذرا بھی دکھ نہیں دینا چاہتی بھلا کسی مصیبت اور بیماری کو کیسے برداشت کر سکتی ہے۔

ماﺅں کا عالمی دن سب سے پہلے 1870ءمیں انسانی حقوق کی کارکن اور شاعرہ جولیا نے منایا، بعدازاں 1907ءمیں امریکی ریاست فلاڈیلفیا میں اینا نامی خاتون ٹیچر نے باقاعدہ طور پر اس دن کو اپنی ماں کی یاد میں منایا، اس دن اس نے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جس میں اس نے اپنی ماں کو اس کے پسندیدہ پھول پیش کئے۔ اینا کی کوششوں کو سراہتے ہوئے یہ تحریک پورے ملک میں پھیل گئی اور اس وقت کے امریکی صدر نے ماﺅں کے احترام میں مئی کے دوسرے اتوار کو نہ صرف مدر ڈے کے نام سے منسوب کیا بلکہ اسے ہر سال قومی سطح پر منانے کا اعلان بھی کیا۔ یوں ایک بیٹی کی ماں کے لئے محبت کی طاقت نے اپنے آپ کو ملکی سطح پر منوا لیا۔ اس طرح ہر سال یہ دن منایا جانے لگا، وقت گزرنے کے ساتھ دنیا کے کئی ممالک نے امریکہ کی تقلید کی اور اس دن کو ماﺅں کے دن کے طور پر چن لیا گیا۔جن میں ڈنمارک، ترکی، پاکستان، آسٹریلیا، بیلجیئم اور برطانیہ وغیرہ شامل ہیں، مغربی ممالک میں اس دن خصوصی طور پر ماں سے دور یا الگ رہنے والے لوگ اپنی ماں سے ملنے جاتے ہیں، انہیں تحائف پیش کرتے ہیں، اولڈ ہاﺅس منتقل کی جانے والی ماﺅں کے لئے یہ دن عید جیسا ہوتا ہے، جب ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی اولاد ان کو پھول پیش کرتی ہے۔

عجب بات ہے کہ اس دن ماں کی مامتا کے لئے زمین آسمان کے قلابے ملا دینے والے معاشرہ خود ہی اپنی ماں کو اولڈ ہاﺅسز میں ڈال دیتا ہے اور اس دن کے بعد ہی مائیں اپنے مقدرکے عذاب جھیل جھیل کر ایک دن دنیا ہی چھوڑ جاتی ہیں، بدقسمتی سے اب یہ سب کچھ صرف مغربی ہی نہیں بلکہ مشرقی معاشرے کا بھی حصہ بنتا جا رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں تو خاندانی نظام کی کمان گھر کے بزرگوں کے ہاتھ رہی ہے مگر اب مشترکہ خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ بہت سے گھرانوں میں اولاد بڑھاپے میں ماں باپ کو اپنے ساتھ رکھنے پر تیار نہیں۔ انہیں مختلف رفاہی اداروں میں بھیج دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک کے کئی شہروں میں بزرگوں کو پناہ دینے والے اداروں کا قیام عمل میں آ چکا ہے، جہاں گنجائش سے زیادہ بزرگ موجود ہیں۔ ان میں خصوصاً ایسی مائیں پائی جاتی ہیں جن کی آنکھوں میں اپنے بچوں کی دید کی پیاس جھلک رہی ہے۔

مزید : کالم


loading...