انجینئر خلیل احمد خاں (مرحوم)

انجینئر خلیل احمد خاں (مرحوم)
انجینئر خلیل احمد خاں (مرحوم)

  


 برادر محترم خلیل احمد خاں کا2مئی2014ءکو امریکہ میں انتقال ہو گیا۔ وہ اردو اور انگریزی ادب کے مشہور نقاد اورادیب، غالب شناس اور مشہور ماہر تعلیم عزت مآب پروفیسر حمید احمد خاں مرحوم کے فرزند عزیز تھے۔ پروفیسر صاحب اسلامیہ کالج میں پرنسپل تھے، جب انہیں جامعہ پنجاب کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ انہیں اللہ نے چھ بہترین بیٹوں کی نعمت سے نوازا تھا۔ پروفیسر صاحب کے سب بیٹوں میں اعلیٰ انسانی اقدار بہ مقدار وافر موجود ہیں۔ ان کے تمام بیٹوں میں اپنے نامور والد گرامی کے تمام اوصاف حمیدہ بدرجہ کمال موجود ہیں۔ خلیل احمد خاں کی ذات گرامی بھی ان تمام خوبیوں سے مزین تھی، جو اعلیٰ درجے کے انسان میں موجود ہوتی ہیں۔ وہ لاہور کے مردم خیز خطہ میں22دسمبر 1947ءکو پیدا ہوئے۔خلیل احمد خاں نے اپنی تعلیم سنٹرل ماڈل سکول لاہور سے حاصل کی اور میٹرک کا امتحان درجہ اول میں اسی درس گاہ سے پاس کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ کالج لاہور کی اعلیٰ درس گاہ سے فیض یاب ہوئے۔ ایف ایس سی کا امتحان اسی درس گاہ سے امتیازی نمبروں کے ساتھ درجہ اول میں پاس کیا اور بعدازاں وہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے بہترین انجینئر بن کے نکلے۔ وہ ایم بی اے کی تعلیم حاصل کرنے امریکہ تشریف لے گئے۔ اپنی خدا داد ذہانت سے امریکی اساتذہ کو بہت متاثر کیا۔ بہت جلد وہ ابو ظہبی کی مشہور امریکی کمپنی ”ایڈناک“ میں بطور انجینئر تعینات ہوئے۔ محنت لگن ایمانداری اور ذہانت کی بنا پر”ایڈناک“ کے اعلیٰ ترین عہدیداروں میں شامل ہو گئے۔

خلیل احمد خاں ”ٹیبل ینس“ کے بہترین کھلاڑی تھے۔

انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں متعدد مقابلے جیتے اور آج بھی ان کا نام گورنمنٹ کالج کے ریکارڈ میں سنہری حروف سے لکھا ہے۔ فن ِ تقریر میں بھی گورنمنٹ کالج لاہور کی طرف سے انہوں نے ملک بھر کی درس گاہوں میں اپنے کالج کی نمائندگی کی اور ٹرافیاں جیتیں اور کالج کا نام روشن کیا۔ سچی بات کا بلاخوف اظہار ان کی شخصیت کا اہم حصہ تھا۔ وہ علامہ اقبال کے اس مصرعے کی زندہ تصویر تھے۔

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق

کمزوروں اور بیماروں کی مدد کرنا ان کا نصب العین تھا، مدد بھی اس انداز میں کرتے کہ دوسرے کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ وہ طاقتور کو کمزور پر حملہ آور نہ دیکھ سکتے۔ بسا اوقات کمزور انسان کی مدد کے لئے میدان میں خود اُتر آتے اور کمزور انسان کی جنگ کو اپنی جنگ تصور کرتے۔ بہت سے پاکستانی نوجوانوں کو ابوظہبی میں ملازمت دلوائی اور ان کی ملازمتوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا۔

خلیل احمد خاں کو چند ماہ قبل ہی طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال لے جایا گیا تو انکشاف ہوا کہ وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔گیارہ ماہ تک وہ اس بیماری سے بہت پامردی سے لڑتے رہے۔ انہیں معلوم تھا کہ اس بیماری سے وہ شفایاب نہ ہو پائیں گے، مگر وہ موت سے بالکل خوفزدہ نہ ہوئے، بلکہ اپنے بڑے بھائی سعید احمد خاں صاحب سے کہنے لگے کہ میرے تمام کام مکمل ہیں اور مَیں موت کاسامنا کرنے کے لئے تیار ہوں، ان کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ ہمیشہ سایہ فگن رہتی تھی۔ اقبال کے مردِ مومن کی مسکراہٹ!

وہ اپنی کمٹمٹ کے پکے انسان تھے، جو بات کرنے کا وعدہ کرتے جان پرکھیل کر پوری کرتے۔ مجھے ان کی موت کا یقین نہیں آتا۔ ایسے اچھے انسان سے مَیں بہت باتیں کرنا چاہتا تھا، مگر گردش ِ زمانہ نے موقع نہ دیا۔

خبر کیا تھی جدائی اس طرح محروم کر دے گی

محبت عمر بھر کی ورنہ مَیں اک پل میں کر لیتا

مزید : کالم


loading...