دفتر کھلا ہے ۔۔۔۔۔!

دفتر کھلا ہے ۔۔۔۔۔!
 دفتر کھلا ہے ۔۔۔۔۔!

  



پچھلے دنوں ہمیں ایک کام کے سلسلے میں سرکاری دفتر میں جانے کا اتفاق ہو دفتر کے ہال میں کوئی بیس سے پچیس افراد بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف نظر آئے۔ میں نے ہال کے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن کسی ملازم نے ہماری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ سمجھا ۔اچانک مجھے ہال کے سامنے ایک بندہ نظر آیا۔ مجھے یہ بندہ کچھ متحرک لگا۔لہٰذا معلومات کیلئے میں اس کے پاس پہنچا۔رسمی سلام دعا کے بعدمیں نے اپنے کام سے متعلقہ شخص کے بارے میں پوچھا ۔پہلے اس نے میرا سر سے پاؤں تک جائزہ لیا اور بولا ۔۔۔آپ کی نظر تو ٹھیک ہے دیکھ نہیں رہے اس وقت دفتر میں کوئی آدمی موجود نہیں ہے ۔مجھے یہ تو پتہ تھا کہ میری بینائی اللہ کے فضل سے ابھی تک ٹھیک ہے تاہم اس بندے کی نظر کے حوالے سے شک ہونے لگا ۔میں نے مصومیت سے ہال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب یہ پچیس ، تیس لوگ کون بیٹھے ہیں۔ کیا یہ ملازم نہیں ہیں یہاں کے؟

کہنے لگا ۔۔جناب والا!آپ صحیح کہتے ہیں، اس دفتر میں تیس آدمی ہیں، کام صرف تین کرتے ہیں اور وہ آج تینوں نہیں آئے۔ تو آپ یہی سمجھیں کہ آج اس دفتر میں کوئی بندہ نہیں ہے۔ مجھے اس کی یہ حق گوئی اچھی لگی،،،اور میں نے تھوڑا سا شرارت کے انداز میں پوچھا۔۔۔ویسے یہ دفتر کھلا ہے؟جلدی سے کہنے لگا آپ اسے بند ہی سمجھیں۔ میں نے ایک اور سوال کیا، تو پھر یہ کب کھلتا ہے؟۔کہنے لگا ۔۔۔کھلنے کو تو یہ اتوار کو بھی کھلا رہتا ہے۔ میں اپنے کام کو بھول گیا اور مجھے اس شخص کی باتیں مزیدار لگنے لگیں۔ میں نے تھوڑا سا رازدارانہ انداز میں پوچھا! کہ اس سرکاری دفتر کے ملازمین کے آنے کا ٹائم وغیرہ کیا ہے۔ کہنے لگا۔۔ان کے آنے کا کوئی ٹائم نہیں، ،، ہاں جانے کا ٹائم ضرور فکس ہے۔مثلاً ،جب بھی کسی کے بچے کی سکول سے چھٹی کا وقت ہو،،،یاگھر سے بیوی کا بلاوہ آجائے۔۔۔یا ان کا کوئی چلتا پھرتا دوست ادھر آنکلے ،،،پھر ان کو کوئی نہیں روک سکتا۔

ایسے ہی میرے ذہن میں آیا کہ ایک اور سوال پوچھ لوں ۔۔۔کیا یہ لوگ دفتر میں کسی وقت کام کاج بھی کرتے ہیں۔۔۔موصوف نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا بالکل ،،،دفتر کے کام کے علاوہ یہ دنیا کا ہر کام کرتے ہیں۔ ویسے بھی یہ بچارے کام تو گھر پر کرتے ہیں۔ کپڑے دھوتے ہیں،کھانا پکاتے ہیں،بچوں کی دیکھ بھال اورکبھی کبھی تو کام والی چھٹی پر ہوتو گھر کی صفائی بھی ان کے ذمے سونپ دی جاتی ہے۔ایسے ہی لوگ انہیں کام چور کہتے ہیں۔ کام تو یہ گھر پر کرتے ہیں یہاں تو تھوڑا آرام کیلئے آتے ہیں۔ اب اتنی مشکل سے یہ آرام کیلئے وقت نکالتے ہیں اور حکومت کتنی بے حس ہے کہ ان کے آرام کرنے کی تنخواہ مسلسل مطالبات کے باوجود بڑھانے کی طرف نہیں آتی۔میں اس شخص کی باتوں سے خاصہ لطف اندوز ہورہا تھا کہ وہ چپکے سے کھسک گیا اور مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ شخص یہاں کا ملازم نہیں بلکہ میری طرح کسی کام کیلئے آیا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک شخص نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا پوچھا کہ فلاں شخص موجود ہے؟ میں نے فوری جواب دیا دیکھ نہیں رہے کہ دفتر میں کوئی آدمی نہیں ہے۔ کہنے لگا۔۔۔اندھے لگ تو نہیں رہے۔۔۔لیکن بات اندھوں والی کررہے ہو۔ یہ سامنے پچیس لوگ کون بیٹھے ہیں؟میں نے فوراً جواب دیا۔۔۔جناب یہ پچیس لوگ واقعی بیٹھے ہیں لیکن شاید آپ کو پتہ نہیں ۔۔۔کہ اس دفتر میں کام کرنے والے صرف تین لوگ ہیں اور وہ تینوں چھٹی پر ہیں۔ مجھے یقین تھا کہ اس کے بعد وہ یہی سوال کرے گا کہ دفتر کھلا ہے؟لہٰذا میں نے اسے اپنی جگہ پر کھڑا کیا اور جان چھڑاتے ہوئے نکل گیا۔۔۔چند قدم چلنے کے بعد مڑ کر دیکھا ۔۔۔تو وہی شخص کسی اور کو بتا رہا تھا کہ۔۔۔دفتر کھلا ہے ۔۔۔لیکن تم اس کو بند ہی سمجھو۔۔۔***

مزید : کالم


loading...