کچھ کالم نویسی کے بارے میں!

کچھ کالم نویسی کے بارے میں!
کچھ کالم نویسی کے بارے میں!

  


یہ سطور جو میں لکھ رہا ہوں اور آپ پڑھ رہے ہیں ان کو صحافتی اصطلاح میں کالم کہا جاتا ہے۔کالم انگریزی زبان کا لفظ ہے اس لئے از روئے گرامر اس کے ساتھ عربی فارسی کے کوئی اسمائے معرفہ یا نکرہ یا کوئی فعل یا اس کے مشتقات نہیں لگائے جا سکتے۔یعنی کالم رائٹنگ تو کہا جا سکتا ہے، کالم نویسی کہنا یا لکھنا غلط ہوگا۔لیکن ہماری زبان میں کالم نویسی اور کالم نگاری ایک عرصے سے مستعمل ہیں اور چونکہ غلط العام یا غلط العوام ہیں اس لئے درست تسلیم کئے جاتے ہیں۔

ویسے تو کالم نویس کے لئے موضوعات کی کوئی قید نہیں، لیکن ہم نے شائد ازخود ان موضوعات کو مقید کررکھا ہے۔ہم زیادہ تر حالاتِ حاضرہ پر قلم توڑنے کو کالم نگاری کا نام دیتے ہیں اور وہ بھی پاکستان کے سیاسی حالاتِ حاضرہ پر....شاذ ہی کوئی کالم نگار بین الاقوامی حالاتِ حاضرہ پر قلم اٹھانے کی زحمت گوارا کرتا ہے۔ یہ روش ہماری اجتماعی قومی فکر کی تنگ دامانی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔پاکستان کے حالاتِ حاضرہ چونکہ حالاتِ گزشتہ سے کبھی بھی بہتر نہیں رہے، اس لئے ہمارے کالم، یاس و ناامیدی، غم و الم، نالہ و فریاد اور تنقید و تنقیص سے لبریز رہتے ہیں۔

پرنٹ میڈیا کے کالم نویسوں کو الیکٹرانک میڈیا نے بہت آسانیاں فراہم کردی ہیں۔رات کو جو کچھ ٹیلی ویژن چینلوں پر دیکھا اور سنا، صبح ہوئی تو اسی کی جگالی کردی، بلکہ میری طرح اسی شب، قلم تھاما اور فرضِ کفایہ ادا کرنے بیٹھ گئے....اللہ اللہ خیر سلا۔

ہم جیسے ریٹائرڈ حضرات کو ویسے بھی بیکاریءجنوں میں سر پیٹنے کے شغل کے سوا اور کچھ نہیں آتا۔اس لئے سمعی و بصری معاونات (از قسم ریڈیو اور ٹیلی ویژن) پر جو کچھ سنتے اور دیکھتے ہیں، اسی کو سمعی و بصری کیفیات سے تحریری کیفیت میں منتقل کرکے ثوابِ دارین حاصل کرتے اور فارغ ہو جاتے ہیں۔

پرنٹ میڈیا میں لائن اور لینگتھ کی کوئی حد مقرر نہیں ۔بعض کالموں کا عرصہ ءقرات پانچ منٹ ہوتا ہے، جبکہ بعض دس پندرہ منٹ کی قرا¿ت پر پھیل جاتے ہیں۔ جو قارئین، کالم بینی کے مرضِ مزمن میں مبتلا ہوتے ہیں، وہ اخبار کا ادارتی صفحہ از اول تا آخر صرف 2،3 منٹ میں ختم کر لیتے ہیں۔پورے پیراگراف کو سرسری نظر سے کھنگالنا اور اول و آخر کو مزید سرسری نظر سے فارغ کردینا ایک فن ہے.... ہاں اگر کوئی کالم کسی قاری کے دل میں کھب جائے، اس کی تحریر فکر انگیز نکات کی حامل ہو، اس کی ساخت و پرداخت میں ایک تسلسل پایا جائے، اس کا موضوع اور مواد دلنشیں ہونے کے ساتھ معلومات افزا بھی ہو تو پھر وہ کالم قاری کا دامن پکڑ لیتا ہے۔

بعض اوقات کالم نگار کی ایک سطر ایسی ہوتی ہے جو پورے موضوع کا نچوڑ اور گویا پوری کتاب کا خلاصہ بن جاتی ہے۔ایسی سطر قاری کو روک لیتی ہے، وہ اسے بار بار پڑھتا ہے، اجمال میں تفصیل ڈھونڈتا ہے، جزو میں کل کی تلاش کرتا ہے اور الفاظ کی محدودیت میں معانی کی وسعت کو ماپنے کی کوشش کرتا ہے۔وہی سطر حاصلِ کالم کہلاتی ہے اور قاری کو بارِ دگر ایسے کالم نویس کی تحریر کا جویا بنادیتی ہے۔

ہم اصنافِ نظم میں جس شعر کو سہل ممتنع کہتے ہیں، اصنافِ نثر میں بھی بعض سطور ایسی ہوتی ہیں جو کہاوتیں اور مقولے بن جاتی ہیں۔شیخ سعدی کی گلستاں میں نثر کے کئی ایسے ٹکڑے ملتے ہیں جو نظم سے کہیں زیادہ دلآویز اور معنی خیز ہیں۔لیکن جس طرح ہر روز ،روزِ عید نہیں ہوتا اور ہر شب ، شبِ برات نہیں ہوتی اسی طرح اچھے سے اچھے کالم نویس یا نثر نگار کی ہر تحریر، دامنِ نظر کی دامنگیر نہیں ہوتی۔زود نویسی اور کثیرنویسی میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہوتا ہے کہ کالم نگار قاری کو پکڑ کر رکھے اور اسے طائرانہ نظر ڈالنے کی اجازت نہ دے۔جو کالم نویس روزانہ ایک کالم تحریر فرمانے کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو حضرت موسیٰ کی قوم کا من و سلویٰ یاد رکھنا چاہیے....ہر روز بریانی اور پلاﺅ کھاتے کھاتے بھی انسان اُکتا جاتا ہے۔ اسی لئے تو کھکھڑی، کھیرا اور پیاز کی طلب کرتا ہے....انسان، چونکہ پیالہ و ساغر نہیں ہوتا، اس لئے گردشِ مدام سے گھبرا جاتا ہے!

انگریزی زبان کی ایک خوبی(یا خامی)یہ بھی ہے کہ ایک ایک لفظ کے کئی کئی معانی ہیں اور اگرچہ Spellingsوہی رہتے ہیں Meaningsکہاں سے کہاں نکل جاتے ہیں، مثلاً اسی لفظ کالم (Column) ہی کو لیجئے۔اس کے پانچ سات مختلف معانی ہیں جبکہ ہجے ایک ہی ہیں۔

عسکری اصطلاح میں کالم، سپاہیوں کے اس گروپ کو کہا جاتا ہے جو ایک دوسرے کے پیچھے رواں دواں رہتے ہیں۔سنگل کالم اور ڈبل کالم کی اصطلاحیں صحافت میں عام استعمال کی جاتی ہیں لیکن فوج میں بھی سنگل کالم کی اصطلاح اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی درہ اتنا تنگ ہو کہ اس سے گزرنے کے لئے ٹروپس کو ایک قطار(سنگل فائل) کی شکل میں گزرنا پڑا۔پورے کالم کو کسی درے (Defile)سے گزرنے کے لئے وقت کا حساب بھی رکھنا پڑتا ہے.... اسی طرح فوجی گاڑیوں کی قطار کو بھی کالم کہا جاتا ہے بالخصوص اس وقت جب ایک گاڑی کے پیچھے دوسری گاڑی جا رہی ہو۔آپ نے خود بھی شہروں میں سڑکوں پر سے گزرتے گاڑیوں کے قافلوں (کانوائے) کو دیکھا ہوگا۔وہ بھی ایک کے بعد ایک گاڑی کی فارمیشن اختیار کرتے ہیں اور دو گاڑیوں کے درمیان ایک مخصوص فاصلہ بھی رکھا جاتا ہے۔

لفظ کالم ”طب“ کی اصطلاح میں بھی استعمال ہوتا ہے۔کالم کا ٹوٹ جانا اور ورٹیکل کالم وغیرہ کی اصطلاحیں میڈیکل پروفیشن میں عام مستعمل ہیں۔

اسی طرح فنِ تعمیر میں بھی کالم ایک ایسے ستون کو کہا جاتا ہے جو بالکل سیدھا اور عمودی ہوتا ہے اور جو عمارت کو سہارا دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔بالکونی اور چبوترا وغیرہ کو سپورٹ دینے کے لئے کالم کی تعمیر کا رواج رومن دور میں بھی تھا اور آج بھی ہے۔قدیم یونان کی پارلیمان کی عمارت کے ستون تو گویا جمہوری اداروں کی تعمیرات کا ایک سنگ میل بن چکے ہیں۔

تھرما میٹر میں آپ جو ایک سفید سی پارے کی باریک لکیر دیکھتے ہیں اس کو بھی کالم ہی کا نام دیا جاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ”سدھائی اور عمودی شکل“ وہ دو حالتیں ہیں جو کسی بھی کالم کا جزوِ خاص کہی جا سکتی ہیں۔

صحافت کی اصطلاح میں کالم کے دو معانی ہیں.... ایک تو اخبار کے صفحے کا وہ حصہ جو عمودی شکل میں صفحے کو چھ، سات یا آٹھ حصوں میں برابر تقسیم کرتا ہے۔دو کالموں کے درمیان یا تو ایک لکیر ڈال دی جاتی ہے یا سپیس خالی چھوڑ دی جاتی ہے، تاکہ دو کالموں میں امتیاز کیا جاسکے اور الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ گڈمڈ نہ ہوں....اور دوسری صحافتی اصطلاح وہ ہے جو ہماراآج کا موضوعِ ہے۔انگریزی لغت میں اس کی جو تشریح کی گئی ہے وہ یہ ہے:

A Feature article that appears regularly in a publication such as a newspaper.

یعنی ایک ایسا آرٹیکل جو کسی اخبار میں باقاعدگی سے شائع ہوتا ہو، کالم کہلاتا ہے۔

ایک اور انگریزی لغات میں اس کی تعریف یوں کی گئی ہے :

An Article giving opinions or perspectives

یعنی کالم ایک ایسا آرٹیکل ہے جو مختلف آرا اور مختلف تناظر میں کسی اخبار کا حصہ بنے۔

آرٹیکل اور کالم میں بھی فرق ہے۔آرٹیکل ایک غیر افسانوی،(نان فکشنل) تحریر ہوتی ہے جس میں ذاتی رائے کو دخل کم ہوتا ہے جبکہ کالم میں آپ ذاتی آرا کو شامل کر لیتے ہیں، بلکہ پورا ”مضمون“ ہی اسی ذاتی رائے پر استوار کر لیتے ہیں۔

اگر غیر ملکی میڈیا پر نظر ڈالیں تو وہاں کالم، آرٹیکل، مقالہ، مضمون وغیرہ کی وہ تقسیم جو میں نے سطور بالا میں آپ کے سامنے رکھی ہے، صاف نظر آئے گی، لیکن نجانے ہم نے چند مخصوص سیاسی حالات پر لکھنے کو ہی ”کالم“ کیوں سمجھ رکھا ہے۔کالم کے مندرجات کی گہرائی اور گیرائی کو تو جانے دیں، ہم اپنا 90فیصد فکرو فن صرف ایک محدود سے موضوع کی تکرارپر ضائع کردیتے ہیں.... سیاسیات کے علاوہ لاکھوں موضوعات ایسے بھی ہوتے ہیں جو قاری کو انفارم اور ایجوکیٹ کرنے میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں....ہمیں ان کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے۔ ٭

مزید : کالم


loading...