پیراگوئے کے صدارتی محل کو دیمک چاٹنے لگی،چمگادڑیں بھی حملہ آور ہوگئے

پیراگوئے کے صدارتی محل کو دیمک چاٹنے لگی،چمگادڑیں بھی حملہ آور ہوگئے

آسن سیان (این این آئی)تعمیرات کے ماہرین نے کہاہے کہ دیمک لگنے سے پیراگوائے کے صدارتی محل کے لیے خطرات پیدا ہو گئے ہیں اگر بچاو¿ کے اقدام کو مستحکم کرنے کے لیے مزید رقوم فراہم نہ کی گئیں تو پیلیسیے ڈی لوپز کا وجود تباہی کی رفتار کے رحم و کرم پر ہوگا، دیمک کے پھیلاو¿ کے روکنے کے لیے فوری اقدام کیے جائیں اور عارضی طور پر مغربی حصے میں قائم تمام دفاتر کو دوسرے حصوں میں منتقل کر دیا جائے،میڈیارپورٹس کے مطابق آرکیٹیکٹ گستاو¿ گلاوی نچ نے کہاکہ دیمک لگنے سے صدارتی محل کے فرش، آرائشیں اور ڈھانچے کے وہ تمام حصے خطرے کی زد میں ہیں جہاں دیمک تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ مغربی حصے میں روایتی فنِ تعمیر کی یادگار زیادہ تر عمارتوں کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا ہے-گلاوی نچ کا کہناتھا کہ انیسویں صدی کی یادگار ان عمارتوں پر صرف دیمک ہی نہیں چمگادڑیں بھی حملہ آور ہیں۔

، محل میں ا±ن حصوں کو بچانے کے لیے جن میں صدارتی دفتر، فوجی کابینہ اور تقریباتی کمرہ ہے، 2012 میں پہلے ہی پچاس لاکھ ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں،اس محل کی تعمیرات 1850 میں انگریز آرکیٹیکٹ کی نگرانی میں شروع کی گئیں اور 1892 میں مکمل ہوئی تھی-

مزید : عالمی منظر


loading...