اور انقلاب آ گیا....

اور انقلاب آ گیا....
اور انقلاب آ گیا....

  


گزشتہ روز عوامی تحریک کے جلسے میں وہ سب کچھ ہوا، جس کی علامہ طاہر القادری توقع کر رہے تھے اور ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا، جس کی توقع بالکل نہیں کی جا سکتی تھی کہ ایک دولہا اپنی شادی چھوڑ کر سہرا لگا کر باراتیوں سمیت ریلی میں شامل ہو گیا۔ مبینہ طور پر اس کا شہ بالا بھی ساتھ تھا۔ ایک چینل نے دولہا کی اس خواہش کو بھی نشر کیا کہ اس نے اپنی شادی کو انقلاب سے مشروط کر دیا ہے۔ عوامی تحریک کے اس کارکن نے برصغیر کے ماضی کے ان سیاسی کارکنوں کی یاد تازہ کر دی جواپنی ذات کو نظر انداز کر کے اپنی پارٹی یا نظریئے کے لئے ساری زندگی وقف کر دیتے تھے۔ برصغیر میں بڑی سیاسی تبدیلیاں لانے میں ان حقیقی سیاسی کارکنوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا اب ایسے سیاسی کارکن نظر نہیں آتے۔ اکثر سیاسی لیڈروں کو کارکن معقول تنخواہ پر بھرتی کرنا پڑتے ہیں، جو جلسے میں نعرے لگاتے کم اور کھانے کی میز پر نسلوں کی بھوک ختم کرنے کے لئے دھینگا مشتی کرتے ہوئے زیادہ نظر آتے ہیں۔ پارٹی یا نظریئے کی بجائے کھانے کے ساتھ ایسی والہانہ محبت کے مظاہرے اب سیاسی جلسوں میں اکثر دکھائی دیتے ہیں۔

ہمارے ایک دوست بڑے زبردست سیاسی کارکن ہیں۔ حقیقی معنوں میں ان کے دل میں عوام کا درد ہے۔ وہ ایک دن دودھ خریدنے کے لئے گھر سے نکلے اور تیسرے دن واپس آئے، کیونکہ گھر سے باہر انہیں اپنے کچھ خاص ووٹر مل گئے،جو انہیں لے کر ملتان چلے گئے۔ ملتان سے وہ فیصل آباد چلے گئے اور یوں تین دن بعد ان کی واپسی ہوئی۔ ہم نے ایک ایسے سیاسی کارکن کا ذکر بھی سنا ہے، جو بھنڈی خریدنے کے لئے گھر سے نکلے اور غائب ہو گئے۔ بیوی کو شوہر کے ایک آدھ ہفتے کے لئے غائب ہونے کی عادت ہو چکی تھی، مگر جب یہ معاملہ ایک ماہ سے تجاوز کر گیا تو وہ تھانے پہنچی اور اس نے ایس ایچ او کو بتایا کہ ان کے شوہر ایک ماہ پہلے بھنڈی لینے کے لئے گھر سے نکلے، مگر واپس نہیں آئے۔ ایس ایچ او ان کے شوہر کو جانتے تھے۔ انہوں نے خاتون کو تسلی دیتے ہوئے کہا: ”میرا خیال ہے کہ آپ اپنے شوہر کا انتظار نہ کریں اور بھنڈی کی بجائے کوئی دوسری سبزی پکا لیں“۔

ہمارے ایک رن مرید قسم کے دوست کا خیال ہے کہ عوامی تحریک کے جلسے میں شرکت کرنے والے صاحب سیاسی کارکن نہیں تھے، بلکہ ایسے سمجھ دار شوہر تھے، جنہوں نے بیوی کو پہلے دن ہی بتا دیا تھا کہ ان سے ذمہ داری کی توقع نہیں رکھنی چاہئے، کیونکہ ہمارے ہاں ذمہ دار شوہر ہی زیادہ ذلیل ہوتے ہیں۔ ہمارے ایک قریبی دوست اکثر بتاتے ہیں کہ ان کی شادی تقریب میں جب مولوی صاحب ان کا نکاح پڑھانے لگے تو ان کے قریبی دوست ان کے پاس آئے اور ان کے کان میں آ کر کہنے لگے ”اب بھی وقت ہے بھاگ جاﺅ“۔ وہ صاحب اب بھی اس پرخلوص نصیحت کو نظر انداز کرنے پر پچھتاتے ہیں۔

سیاسی لیڈر شکایت کرتے ہیں کہ انہیں مخلص کارکن نہیں ملتے، مگر سیاسی کارکن اکثر سراپا احتجاج ہوتے ہیں کہ لیڈروں میں صرف خود غرضی اور منافقت نظر آتی ہے اور وہ ہمہ وقت اپنے مفاد کے لئے کسی کو بھی قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اکثر سیاسی راہنما تو موسم کے تبدیل ہونے سے پہلے پہلے اپنی پالیسی تبدیل کر لیتے ہیں۔سیاسی کارکنوں اور عوام کو سیاست دانوں کی خود غرضی اور نالائقی کا چہرہ دکھانے میں میڈیا نے زبردست کردار ادا کیا ہے۔ چند عشرے قبل اخبارات میں بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ لیڈروں کے بیانات شائع ہوا کرتے تھے اور لوگ ان کی سیاسی بصیرت اور انداز بیان سے متاثر ہوتے تھے، مگر اب الیکٹرانک میڈیا نے سب کچھ بے نقاب کر دیا ہے۔ آج جب کچھ لیڈر قومی معاملات پر اظہار خیال کر رہے ہوتے ہیں، تو ان کے الفاظ اور چہرہ کچھ دوسری داستان سنا رہا ہوتا ہے اور اس سپیچ رائٹر پر غصہ آ رہا ہوتا ہے، جس نے سیدھے سادے سیاستدان کو مشکل الفاظ لکھ کر اچھی خاصی مصیبت میں ڈال دیا ہوتا ہے اور شیدا بیچارہ جنٹری میں پھنسا ہوا نظر آتا ہے۔ اخبارات میں ایک خاص تعداد سے زائد خبریں شائع نہیں ہو سکتیں، مگر الیکٹرانک میڈیا کو ہر وقت خبر کی بھوک ہوتی ہے۔ اس لئے چینل کے رپورٹر اگر کسی سیاست دان کو مخالف کو غصے یا مسکرا کر بھی دیکھتے ہوئے دیکھ لیں تو اسے بھی خبر بنا دیتے ہیں۔ اس لئے سیاست دانوں کی اکثر حرکات و سکنات کارکنوں کے علم میں ہوتی ہیں۔

 ماضی میں کبھی سیاست دانوں نے میک اپ کرنے پر توجہ نہیں دی ہو گی، مگر آج کل سیاست دان اکثر کسی نہ کسی بیوٹی پارلر پر نظر آتے ہیں۔ عوام سے اپنا اصلی چہرہ چھپانے کے لئے وہ خوشی خوشی چینلوں پر بھی میک اپ کراتے نظر آتے ہیں۔ بعض سیاست دانوں کا خیال ہوتا ہے کہ وہ میک اپ کے بعد ریما یا میرا کی طرح خوبصورت نظر آتے ہیں، مگر ناظرین پر اکثر اس دولہا جیسی کیفیت طاری ہوتی ہے، جس نے بڑے شوق سے دلہن کا گھونگھٹ اٹھایا ہو اور اسے اپنے سامنے شفقت چیمہ کا زنانہ ماڈل نظر آیا ہو۔ ایک میک اپ مین کے مطابق میک اپ چہرے کو بہتر تو بنا سکتا ہے، مگر اس پھٹکار کو نہیں چھپا سکتا، جو بہت سے چہروں پر ان کے ظلم اور بددیانتی کی وجہ سے ہوتی ہے۔طاہر القادری صاحب اپنی تقریروں میں انقلاب لانے کا تذکرہ بڑے خضوع و خشوع سے کرتے ہیں۔ سیاسی کارکن نے بارات کے ساتھ جلسے میں شامل ہو کر جو حرکت کی ہے اسے انقلاب کا نقطہ آغاز بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ امید ہے کہ عوامی تحریک کے دلہے اسی طرح اپنی بارات کے ساتھ جلسوں میں شریک ہو کر اپنی زندگی کے انقلابی دور کا آغاز کرتے رہیں گے۔ ٭

مزید : کالم


loading...