مقبوضہ کشمیر میں درجنوں حریت رہنما ، کارکن بغیر کسی جواز کے مسلسل ظربند

مقبوضہ کشمیر میں درجنوں حریت رہنما ، کارکن بغیر کسی جواز کے مسلسل ظربند

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں پچھلے ہفتے ڈھونگ انتخابات ختم ہونے کے باوجود متعدد حریت رہنما اور کارکن بغیر کسی وجہ کے مختلف پولیس تھانوں اور جیلوں میں نظر بند ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکومت اور مقبوضہ علاقے میں اسکی قابض انتظامیہ نے نام نہاد انتخابات کے دوران حریت رہنماؤں کو تھانوں اور انکے گھروں میں نظربند کرکے انکی سرگرمیوں پر پابندی عائدکردی تھی۔

ایک حریت رہنما نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ حریت رہنماؤں شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، ظفر اکبر بٹ، مشتاق الاسلام، ایاز اکبر، الطاف احمد شاہ، غلام محمد گنائی،میر حفیظ اللہ، سراج الدین میر،محمد جمال، سلمان یوسف، امیر حمزہ اوربہت سے دوسرے رہنماؤں اور کارکنو ں کی نظربندی غیر قانونی اور جابرانہ کاروائی ہے۔ ادھرحاجن سے تعلق رکھنے والے حمیداللہ پرے، اسداللہ پرے، معراج الدین اور پلوامہ کے وسیم بشیرپر قابض انتظامیہ نے کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگوکر کے انہیں بالترتیب کٹھوعہ، ادھمپور، کپوارہ اور کٹھوعہ کے جیلوں میں منتقل کردیا ہے۔ دریں اثناء بزرگ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی نے کہا کہ قابض انتظامیہ نے شوپیان کے مختلف تھانوں اور جیلوں میں 25،بانڈی پورہ میں 19،حاجن میں 12 ،سنبھل میں 5،پلوامہ میں 22 ، کپواڑہ میں 5،کاکہ پورہ میں6 اور سوپور کے مختلف تھانوں میں ایک درجن نوجوانوں کو نظربند کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نظربند نوجوانوں پر دوران حراست تشدد کیا گیا ہے جبکہ سوپور میں دو درجن کے قریب نوجوانوں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں جسکی وجہ سے وہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...