بلوچستان میں قوم پرستوں کے لئے آخری موقع!

بلوچستان میں قوم پرستوں کے لئے آخری موقع!
بلوچستان میں قوم پرستوں کے لئے آخری موقع!

  


بلوچستان میں ایک طویل عرصے کے بعد قوم پرستوں کو حکومت ملی ہے ان کے ساتھ مسلم لیگ (ن) شریک ہے، نواز شریف نے اپنی پارٹی کی خواہشات کے باوجود حکومت نیشنل پارٹی اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کو دے دی مسلم لیگ کے صوبائی صدر نواب ثناءاللہ زہری خواہش مند تھے کہ انہیں وزیراعلیٰ بنایا جائے مسلم لیگ میں نوابزادہ جنگیزمری بھی اس دوڑ میں شریک تھے۔ یوں مسلم لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ 16اپریل 2013ءکو نواب ثناءاللہ زہری پر اسوقت حملہ ہوا جب وہ اپنے آبائی علاقہ کو لوٹ رہے تھے اور اس حملے میں ان کا بیٹا،بھتیجا اوربھائی جاں بحق ہو گئے۔ انہوں نے بعد میں ایف آئی آر درج کرائی اور اس میں نواب خیربخش مریِ، سردار عطاءاللہ مینگل، جاوید مینگل وغیرہ کو نامزد کیا ان حالات نے نواز شریف کے ذہن کو مضطرب کیا اور پھر وہ دوسری طرف چلے گئے، اس کے علاوہ اور بھی وجوہات تھیں، جس کی وجہ سے انہوں نے صوبہ بلوچستان میں بلوچ اور پشتون قوم پرستوں کو حکومت دینے کا فیصلہ کیا اور یوں اقتدار کا ہما نیشنل پارٹی کے قائد ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے سر پر جا بیٹھا۔ بلوچستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اقتدار پشتون اور بلوچ قوم پرست پارٹیوں کے حوالے کیا گیا۔

صوبے کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بلوچ اور پشتون قوم پرست اپنے تمام تر اختلافات اور تضادات کے باوجود ایک ہو گئے ہیں اور ایک اتحاد نظر آ رہا ہے۔ بلوچ اور پشتون قوم پرستوں میں 1954ءسے لے کر 1969ءتک اتحاد تھا،بلکہ یہ تمام نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم پرمتحد تھے اور پھر ان میں اختلافات پیدا ہوئے اور راستے جدا ہو گئے بلوچ قوم پرستوں اور خان عبدالصمد خان میں اس وقت اختلافات پیدا ہو گئے، جب ون یونٹ کو جنرل یحییٰ خان نے ختم کر دیا، تو عبدالصمد خان اور نیپ کے راستے جُدا ہو گئے۔ طویل عرصے تک یہ کشمکش چلتی رہی جمعیت علماءاسلام ہر قوم پرست وزیراعلیٰ کے ساتھ قدم ملا کر چلتی رہی خواہ قوم پرست وزیراعلیٰ روس نواز ہو یا امریکن نواز رہا یہ اس کے ساتھ 1972ءسے2013ءتک چلتی رہی اور ہر حکومت میں اپنی عددی برتری کی وجہ سے اپنی مرضی کی وزارتیں بھی حاصل کرتی رہی، لیکن 2014ءمیں پہلا موقع آ گیا کہ بلوچستان میں ان کی مرضی اور خواہشات کے برعکس حکومت بن گئی۔ بلوچ اور پشتون قوم پرستوں کے اتفاق نے حکومت ان کی جھولی میں ڈال دی پشتونخوا اور نیشنل پارٹی ایک عرصے تک ایک دوسرے کے مخالف رہی ہےں، لیکن اب دونوں بالکل قریب آ گئی ہیں اور جمعیت کی تمام سیاسی چالوں کو محمود خان اچکزئی کی سیاست نے ناکام بنا دیا اور پشتونخوا نے جمعیت کو اقتدار سے باہر کر دیا۔ جمعیت نے مسلم لیگ سے قریب آ کر مسلسل کوشش کی کہ مسلم لیگ اور قوم پرستوں میں اختلافات پیدا کرے، لیکن ناکامی ہوئی دوسری جانب نواب ثناءاللہ زہری بھی کوشش میں رہے کہ علیحدہ ہو جائیں، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ جمعیت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ان کے ساتھ مل جائے گی، مگر نواز شریف قوم پرستوں سے دوری نہیں چاہتے تھے۔ افغانستان میں بدلتے ہوئے حالات میں انہیں محمود خان کا تعاون درکار ہے اور بلوچستان میں مسلح مزاحمت کاروں سے مذاکرات کا عمل شروع کرنا چاہتے ہیں اس لئے بلوچ قوم پرستوں کی قربت ان کی اولین ترجیح ہے۔

نیشنل پارٹی کے تمام قائدین کل تک آزاد بلوچستان اور مسلح جدوجہد کے حامی رہے ہیں اور بلوچ نوجوانوں کو یہ سبق آج کے بلوچ قوم پرست لیڈروں نے سکھایا تھا خود عبدالمالک بلوچ اسی خیال کولئے جنرل نجیب کے دور حکومت میں افغانستان میںموجود تھے نواب خیر بخش مری اوراجمل خٹک بھی وہاں مہمان بنے ہوئے تھے اور آزاد بلوچستان اور آزاد پشتونستان کا خواب لئے کشمکش میں مصروف تھے۔ جنرل ضیاءالحق کے حادثہ کے بعد بلوچستان لوٹ آئے۔ اجمل خٹک اور ولی خان کی موت کے بعد سیاست کا رخ بالکل بدل گیا پاکستان میں بلوچ اور پشتون قوم پرست سیاست پر سب سے زیادہ اثرات افغانستان کے حالات نے ڈالے ہیں اور یہ بھی اس کے تحت بدلتے رہے اور نئے رجحانات کو قبول کرتے رہے۔ پشتون اور بلوچ قوم پرستوں کا سیاسی قبلہ روس نواز اور امریکن نواز کی گردش میں سفر کرتا رہا۔ افغانستان میں تبدیلیوں نے ان کی سوچ میں بہت کچھ تبدیلی پیدا کی اب یہ دونوں افغانستان کی طرف دیکھنے کی بجائے پاکستان کے اندر سیاست کی طرف دیکھنے لگے ہیں اور صوبہ سرحد کا نام تبدیل ہوا تو پشتون قوم پرستوں کاقبلہ بھی اسلام آباد کی طرف مڑ گیا اور اب اے این پی فوج اور اسلام آباد کی اسیر ہوئی اس تبدیلی میںتمام کریڈٹ طالبان کو جاتا ہے، جنہوں نے انہیں پاکستان کے قریب کردیا اور ان کی سوچ کو تبدیل کر دیا۔

قارئین محترم! قوم پرستوں کی سیاست کا تجزیہ بڑا دلچسپ ہے اور ان کے تضادات اور انحرافات بھی بڑے دلچسپ ہیں ان کے سیاسی رجحانات افغانستان میں قائم حکمرانوں کے ساتھ چلتے رہے اور تبدیل ہوتے رہے۔ افغانستان روس نواز تھا تو بلوچ اور پشتون قوم پرست روس نواز تھے اور جب افغانستان کے حکمران امریکہ نواز بن گئے، تو یہ دونوں قوم پرست امریکہ نواز بن گئے۔ روس نواز حکومت تھی اور مجاہدین کمیونسٹ افغانستان کے ساتھ متصادم تھے تو یہ دونوں حکومت کے ساتھ تھے اور مجاہدین کے مخالف تھے اور جب افغانستان میں طالبان کی حکومت بن گئی تو امریکہ ان کا مخالف تھا، تو یہ بھی مخالف بن گئے اور جب افغانستان مکمل امریکہ کی گرفت میں آگیا، تو یہ دونوں اس کے حامی بن گئے اور طالبان کے مخالف بن گئے۔ اب افغانستان ایک اور تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور یہ اس کو بڑی دلچسپی اور گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں طالبان اور موجودہ افغانستان میں نئی حکومت کے درمیان ایک اور کشمکش شروع ہونے والی ہے اس کے اثرات بلوچستان پر بھی پڑیںگے اس کاپاکستان کی حکومت بھی گہری نظر سے مطالعہ کر رہی ہے اور دیکھ رہی ہے۔

بلوچستان میں ایک طویل عرصہ کے بعد بلوچ اور پشتون اقتدار میں شریک سفر بن گئے ہیں۔ سابقہ کرپٹ حکومت نے بلوچستان کے تمام نظام کونیست ونابود کر کے رکھ دیا تھا کرپشن اپنے عروج پر تھی اس کو درست کرنا ہو گا۔ سردار اختر مینگل اور جمعیت علمائے اسلام دونوں باہر ہیں۔ اخترمینگل انتخابات مےں ناکام ہو گئے ہیں، اس لئے وہ اس حکومت کے مخالف ہیں اور انہوں نے اس کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے جلسے کر رہے ہیں پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں، لیکن نیشنل پارٹی اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے نیشنل پارٹی اور پشتونخوا خوش قسمت ہےں کہ وفاق ان کے ساتھ ہے اور فوج بھی چاہتی ہے کہ بلوچستان میں مسلح جدوجہد کو اپنے دائرہ میں لا کر اس کی جدوجہد کو ختم کردے یا اتنا کمزور کر دے کہ وہ بے اثر ہو جائیں، اس کے لئے نیشنل پارٹی سب سے موزوں تھی اور اس کی حمایت بھی اسی حوالے سے کر رہی ہے تاکہ افغانستان اور بلوچستان کا بارڈر خاموش ہو جائے اس حوالے سے بلوچ اور پشتون قوم پرست پارٹیاں خوش قسمت ہیں کہ انہیںوفاق اور فوج کی مکمل تائید حاصل ہے اس خوش قسمت حمایت کے باوجود اگر یہ ناکام ہو گئے، تو پھر بلوچستان میں قوم پرستوں کی سیاست اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گی اور اس کے بعد کوئی نیا نقشہ بن جائے گا اور بلوچستان میں تمام مسلح جدوجہد کا انحصار افغانستان میں حالات پر ہے وہاں جو تبدیلی آئے گی وہ اس جدوجہدکو متاثر کرے گی اب یہ طے ہو گیا ہے کہ افغانستان میں صدر عبداللہ عبداللہ یا اشرف غنی میں سے کوئی ایک ہو گا اور دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ نے جو معاہدہ لوئی جرگہ سے منظور کرایا ہے اس پر کتنی جلدی صدر افغانستان دستخط کرتا ہے اس کے بعد امریکن فوج کتنا عرصہ ٹھہرتی ہے یہ سب جلد معلوم ہو جائے گا اور مسلح جدوجہد بلوچستان میں چل رہی ہے وہ کہاں جاکر ٹہرے گی، اس کا بھی فیصلہ ہو جائے گا۔

قارئین محترم! نواز شریف آخری حدتک ان قوم پرستوں کی حکومت کے ساتھ تعاون اور امداد جاری رکھےں گے، جہاں تک اس کا بس چلے گا اور وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کریں گے، جو وہ ماضی میں کر چکے ہیں ۔انہوں نے خود برملااعتراف کیا ہے اور سب چھپ چکا ہے کہ انہوں نے سردار اختر مینگل کی حکومت ختم کی اب انہیں اس کا احساس ہے، اس لئے وہ بلوچستان مسلم لیگ حکومت کی خواہش پر دوبارہ اتنی بڑی غلطی نہیں کریں گے،جو انہوں نے ماضی میں کی تھی۔ اب بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ کو بھی احتیاط کرنا ہو گی کہ وہ کوئی بھی بھیانک غلطی نہ کر بیٹھیں کہ ان کی حکومت کا چراغ گل ہو جائے۔ ٭

مزید : کالم


loading...