یمن میں القاعدہ کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے،وزارت داخلہ

یمن میں القاعدہ کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے،وزارت داخلہ

صنعا(ثناءنیوز)یمن کی وزارت داخلہ نے انکشاف کیا ہے کہ القاعدہ ملک کے پانچ علاقوں میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے القاعدہ نے اپنی منتشر قوت کو مجتمع کرنا شروع کر دیا ہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے بیان میںبتایا گیا ہے کہ ابین اور شبوہ گورنریوں کے آب، البیضا، مآرب، لحج شہر اور دارالحکومت سیکرٹریٹ القاعدہ کی ہٹ لسٹ پر ہیں، جہاں سرکاری فوج اور سرکاری تنصیبات پر حملے کیے جا سکتے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن میں پے در پے کاری ضربیں کھانے کے بعد القاعدہ اپنی منتشر قوت مجتمع کر رہی ہے۔

 مفرور عناصر کو بھی واپس بلایا جا رہا ہے تاکہ ان پانچ گورنریوں پر تباہ کن حملے کیے جا سکیں۔ القاعدہ کی منصوبہ بندی میں صرف اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا ہی شامل نہیں بلکہ اہم حکومتی اور عسکری قائدین کی ٹارگٹ کلنگ بھی شامل ہے۔القاعدہ کے ممکنہ حملوں کی نشاندہی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پانچوں اضلاع میں اہم مقامات میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور مختلف سیکیورٹی ادارے ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں ہیں۔وزارت داخلہ نے ساحلی شہروں تعز، الحدیدہ، حضرت موت، لحج، ابین اور حجہ کی سیکیورٹی انتظامیہ اور پولیس کو بھی الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بحری راستے سے صومالی عسکریت پسندوں کو در اندازی سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ وزارت داخلہ کو سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ القاعدہ کے صومالی شدت پسند سمندری راستے سے ابین اور شبوہ کے علاقوں میں کارروائیوں کے لیے یمن میں داخلے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...