لوڈشیڈنگ یوں بھی کم کی جا سکتی ہے

لوڈشیڈنگ یوں بھی کم کی جا سکتی ہے
لوڈشیڈنگ یوں بھی کم کی جا سکتی ہے

  


بجلی کی قلت دور کرنے کے بڑے بڑے نادر نسخے پیش کئے جا رہے ہیں۔ کچھ منصوبوں پر کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ ادنیٰ قلم کار بھی ایک مدت سے کہتا چلا آ رہا ہے کہ بے تحاشا ٹی وی چینلوں کو لائسنس جاری کرنے کے بجائے صرف چند معیاری چینلوں کو کام کرنے کی اجازت دی جائے اور انہیں رات کے کسی حصے میں (مثلاً 12بجے) اپنا تام جھام بند کر کے گھر کی راہ لینے کا پابند کر دیا جائے، تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ بجلی کی 30 یا 40 فیصد بچت ہو سکتی ہے، لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے اتنی ہی بجلی درکار ہے۔ بھانت بھانٹ کے ٹی وی چینلوں کے عناصر ترکیبی کا جائزہ لیاجائے، تو خبروں، تبصروں اور تجزیوں کے بعد سارا زور جرائم کی کہانیاں پیش کرنے، فحش فلموں کے مناظر دکھانے، بے مقصد اور بے ہودہ ڈرامے اور گانے نشر کرنے اور خوف و دہشت کے جھوٹے سچے واقعات کی ڈرامائی تشکیل کر کے پہلے سے خوف و ہراس میں مبتلا لوگوں کی نیندیں اڑانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ بطور تبرک کبھی دینی پروگرام بھی پیش کئے جاتے ہیں، لیکن اس قدر بے دلی اور غیر سنجیدگی کے ساتھ کہ ناظرین فوراً چینل بدلنے پر مجبور ہو جائیں۔

ایک زمانہ تھا جب صرف پی ٹی وی ہوتا تھا، مقابلے کی فضا بھی نہیں تھی، اس کے باوجود خاص مذہبی دنوں پر اپنے پاس معیاری پروگرام نہ ہوتے تو بیرونی چینلوں کے منتخب پروگرام اردو زبان میں ڈب کر کے پیش کئے جاتے تھے۔ ان کی دلکشی ناظرین کو وہ پروگرام دیکھنے کی ترغیب دیتی تھی۔ اب تو چینلوں کی بھرمار ہے، جنہیں اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کام کرنے کی اجازت ملی ہوئی ہے، لیکن ڈھنگ کے دینی پروگرام شاید ہی کہیں نظر آئیں، جعلی ڈگریوں یا بغیر استاد والے افراد ڈرامے کر کے دین کا مذاق اڑاتے اور جاہلوں سے واہ واہ کراتے نظر آتے ہیں۔ ٹی وی پر اپنا چہرہ دکھانے کے لئے بڑے بڑے جبہ و دستار کے حامل اور فرضی عامل ان پروگراموں میں شرکت کر کے داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے ہیں۔ ہمارے بچپن کے دوست کئی علوم و فنون کے ماہر تعلیم فضل الرحمن ناصر نے کسی ٹی وی سٹیشن پر مذہبی پروگرام کی ریکارڈنگ کا حال سناتے ہوئے بتایا کہ ریکارڈنگ کی طویل مدت کے دوران اذانیں ہوتی رہیں،لیکن بعض علماءنے اپنی نشستیں اس ڈر سے نہ چھوڑیں کہ نماز سے واپسی پر انہیں پچھلی نشستوں پر بیٹھنا پڑے گا اور کیمرے کی آنکھ انہیں پوری طرح فوکس نہیں کر سکے گی۔

ٹی وی کی آزاد پالیسی کے نام پر نئے چینلوں کو دھڑا دھڑ لائسنس جاری کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، تو انہوں نے بھاری مشاہروں اور پُرکشش مراعات کا لالچ دے کر اخبارات و جرائد کے صحافیوں کو بھرتی کرنا شروع کر دیا۔ دولت بُری چیز اور لالچ بُری بلا ہے۔ اچھے خاصے جمے جمائے صحافی اخباری دنیا سے ٹوٹ ٹوٹ کر ٹی وی چینلوں کی جھولی میں گرنے لگے۔ ٹی وی کی رونقوں کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے والے چینلوں کو حسب ضرورت اشتہار نہ ملے تو کچھ چینل بند ہو گئے۔ بعض نے عملے کی چھانٹی شروع کر کے صحافیوں کو بے روزگار کیا اور چند تو اتنے ظالم ثابت ہوئے کہ کئی کئی ماہ کی تنخواہیں ہڑپ کر کے ملازموں کو جانے پر مجبور کر دیا۔ ایک بڑے مشہور چینل میں ہمارے ایک دوست کام کرتے تھے، وہ اور ان کے ساتھی اس چینل سے کئی ماہ کی تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے مستعفی ہو کر دوسرے چینلوں میں چلے گئے ہیں۔ سابقہ مالکان نے ان کے واجبات آج تک ادا نہیں کئے، اب وہ عدالت سے رجوع کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ ایسے نہ جانے کتنے چینل ہوں گے، جن کی وجہ سے خاندان کے خاندان فاقے کر رہے ہیں۔

ٹی وی نے نوجوانوں کو سب سے زیادہ ناچ گانے کی جانب راغب کیا ہے۔ اکثر پروگرام اچھل کود و الے گانوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ٹی وی والوں کو قوم کے بچوں کو بہتر تعلیم و تربیت دینے والے استاد یاد آتے ہیں، نہ دُکھی انسانیت کی خدمت کرنے والوں کا انہیں کوئی خیال رہتا ہے، چوبیس گھنٹے کے اکثر اوقات نغمے نشر کرنے اور ڈانس دکھانے میں ضائع کئے جاتے ہیں۔ ان میں موبائل کے اشتہارات نے سب سے زیادہ غضب ڈھایا ہے۔ کوئی موبائل، چائے کا کوئی پیکٹ، حتیٰ کہ شیونگ بلیڈ، ٹوتھ پیسٹ اور ٹوتھ برش بھی فروخت کرنے کے لئے نیم برہنہ لڑکیوں کا سہارا لیا جاتا ہے، آرائشی مصنوعات اور صابن وغیرہ کا تو ذکر ہی کیا کہ انہیں پیش کرنے والی خواتین کا لباس دیکھ کر گھر میں بیٹھے سمجھ دار بچے بھی ماں باپ سے نظریں چرانے لگتے ہیں۔ ستم در ستم یہ کہ اس قسم کے اشتہارات مذہبی پروگراموں اور خبروں کے درمیان بھی نشر ہوتے ہیں۔ خبروں کے ہر بلیٹن کے آخر میں کسی فلم کا ٹریلر یا فیشن شو کی کیٹ واک دکھانا ضروری ہو گیا ہے، جس میں فحاشی اپنے عروج پر دکھائی جاتی ہے۔

 کوئی گلوکار، گلوکارہ، اداکار یا اداکارہ بیس تیس سال قبل بھی دنیا چھوڑ گیا، گئی ہو تو اس کی فلموں کے فحش مناظر دکھا کر اسے ”ثواب“ پہنچایا جاتا ہے، جرائم کی داستانوں کو عبرت کے انداز میں پیش کرنے کے بجائے اس طرح دکھایا جاتا ہے کہ نوجوان جرائم کے نت نئے طریقے سیکھ سکیں۔ ان کی ڈرامائی تشکیل کے وقت اتنے وحشت ناک مناظر فلمائے جاتے ہیں کہ بچوں، خواتین اور کمزور دل والوں کی چیخیں نکل جائیں۔ بعض ٹی وی چینل بڑے اہتمام سے جنوں، بھوتوں اور آسیب کی فرضی یا اصلی کہانیاں بڑے اہتمام اور تسلسل کے ساتھ پیش کرنا اپنا فرض منصبی تصور کرتے ہیں۔ توہمات پر مبنی جھوٹے سچے واقعات دیکھنے والی اکثر خواتین اور بچے اب سائے سے بھی ڈرنے لگے ہیں.... اپنے گھروں اور محلوں میں پہلے سکون کی زندگی گزارنے والوں کو اب اپنے اردگرد آسیب کا وہم ہونے لگا ہے۔ قبرستان اور زمین میں گڑھی ہوئی اشیاءدکھا کر کن لوگوں کی کیا خدمت کی جا رہی ہے، ان ٹی وی چینلوں سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔

میاں بیوی کے جھگڑوں پر مبنی پروگرام پیش کر کے کئی پُرسکون گھرانے تباہ کئے جا چکے ہیں ۔ ان کرداروں کے لباس، رہن سہن اور طرز کلام کی نقل دولت مند گھرانوں ہی کے نہیں، غریب خاندانوں کے لڑکے لڑکیاں بھی کرنے لگے ہیں....آخر میں کچھ تذکرہ بریکنگ نیوز، یعنی فوری اور اہم ترین خبروں کا.... کہیں آگ لگ جائے، حادثہ ہو جائے یا قتل، ڈکیتی، خود کش دھماکہ وغیرہ جیسی کوئی واردات وقوع پذیر ہو تو ٹی وی چینل زور دار موسیقی کے ساتھ ان کے مناظر بار بار دکھا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے یہ خبر دے رہے ہیں۔ پہلے ان میں سے بعض خبریں اخبارات کی چند سطروں کے ذریعے لوگوں کو معلوم ہوتی تھیں، لیکن اب ٹی وی کے ناظرین انہیں متعدد بار دیکھ کر اور گھسے پٹے جملے سن کر عاجز آ جاتے ہیں، انہیں اپنے وقت کے ضائع ہونے کا شدید احساس ہوتا ہے۔ ٹی وی چینلوں کی ان ”خدمات“ کا سب سے زیادہ نقصان بجلی کے ضیاع کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ فضول غیر ضروری اور مکرر سکرر پروگرام پیش کرنے والے ٹی وی چینلوں کو چوبیس گھنٹوں کی بجائے پندرہ سولہ گھنٹوں تک محدود کر دیا جائے، جیسے کہ ماضی میں رات12بجے کے بعد نشریات ختم کر دی جاتی تھیں، صرف اسی ایک اقدام سے اتنی بجلی بچائی جا سکتی ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مکمل طور پر خاتمہ ہو سکے۔ ٭

مزید : کالم


loading...