مصری عوام جنرل السیسی کو ووٹ نہ دیں!

مصری عوام جنرل السیسی کو ووٹ نہ دیں!

مصری نژاد قطری عالم دین علامہ یوسف القرضاوی نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک کانفرنس کے اختتام پر فتویٰ جاری کیا ہے کہ مصر میں فوج نے منتخب حکومت کو شب خون مار کر ختم کیا اور اس لئے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنا حرام ہے۔ عبدالفتاح السیسی نے منتخب حکومت کو شب خون مار کر ختم کیا اور پھر اقتدار پر قابض ہوگئے، ایسے امیدوار کو ووٹ دینا حرام ہے اس لئے مصری عوام ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کریں۔ وہ ہر اس اقدام کے حامی ہیں جو مصر میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کا مخالف اور اس سلسلے میں تمام کوششوں کو مجتمع کرنے کے خواہاں ہیں۔

علامہ یوسف القرضاوی مصری نژاد عالم دین ہیں، تاہم ان کے پاس اس وقت قطری شہریت ہے۔ وہ عرب دنیا میں اخوان المسلمون کے پرجوش حامی سمجھے جاتے ہیں، ان ہی کی وجہ سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر میں تعینات اپنے سفرا کو واپس بلا لیا تھا۔

اخوان سیاسی جدوجہد کے ذریعے مصر میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کوشاں تھی،لیکن جب جمال عبدالناصر کے دور میں اخوان پر پابندی لگائی گئی، تو اس پابندی نے بہت سے پرامن اخوانیوں کو مصر میں حکومت کی تبدیلی کے لئے اخوان نے جمہوری طریقے سے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔ اخوان نے کئی بار انتخابی عمل کا حصہ بننے کی کوشش کی، حکمرانوں نے مختلف حیلے بہانوں سے اخوان کو انتخابی عمل سے دور رکھا۔

فوجی آمر حسنی مبارک کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد عام انتخابات کا اعلان ہوا تو عوامی جوش وجذبے کے پیش نظر اخوان کو انتخابی دوڑ سے باہر رکھنا ممکن نہیں تھا۔ انتخابات ہوئے تو حسب توقع اخوان نے میدان مار لیا اور اخوان کے امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی مصر کے صدر منتخب ہو گئے، لیکن صرف ایک سال کے بعد ہی فوجی آمر نے ان کی منتخب جمہوری حکومت کو ملیامیٹ کر دیا۔ مصری فوج کے اس عمل سے دنیا بھر کے اسلام پسندوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مصری منتخب حکومت کو اس وجہ سے ختم نہیں کیا گیا کہ مرسی حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اُتر سکی، بلکہ حکومت کو اسلام پسند ہونے کی سزا دی گئی ہے۔ ورنہ جمہوریت میں تو حکومت ووٹ کے ساتھ آتی ہے، تو جاتی بھی ووٹ کے ساتھ ہے۔ کتنے ممالک ہیں، جہاں حکومتیں پانچ سال میں بھی عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتیں، اس کے باوجود ان کی حکومت پر شب خون نہیں مارا جاتا۔

مرسی حکومت کا معاملہ باقی حکومتوں سے جدا ہے۔ اگر مصر میں اسلام پسندوں کی حکومت نہ ہوتی اور پھر منتخب جمہوری حکومت کا تختہ فوجی بغاوت کے ذریعے الٹ دیا جاتا، تو صرف اتنا کہا جاتا کہ آمریت نے جمہوریت کو شکست دے دی ہے، لیکن یہاں معاملہ جمہوریت اور آمریت کا نہیں، بلکہ اسلام پسندوں اور جمہوریت کا ہے۔ اسلام پسند پاکستان، ترکی، سوڈان، لیبیا، صومالیہ، تیونس، الجزائر، یمن، کویت، عراق، اردن، شام، بحرین، موریطانیہ اور انڈونیشیا سمیت کئی ممالک میں جمہوری طریقے سے حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ مرسی حکومت کے خاتمے سے تو وہ یہی سمجھیں گے کہ اگر ہم بھی جمہوری طریقے سے اقتدار حاصل کر لیتے ہیں، تو ہمیں بھی حکومت نہیں کرنے دی جائے گی۔ جب الاخوان المسلمون جس نے مصر کی قومی اسمبلی کے انتخابات میں 70 فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ سینیٹ کے انتخابات میں84 فیصد نشستوں پر فتح حاصل کی اور صدارتی انتخابات میں52 فیصد ووٹوں سے اکثریت اور آئینی مسودے کے حق میں 64 فیصد ووٹ حاصل کئے ان کو حکومت نہیں کرنے دی گئی، تو ہمیں کیونکر حکومت کرنے دی جائے گی؟

مصری فوج نے اسلام پسندوں کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر جہادیوں کے اس موقف کو سچا ثابت کر دیا کہ جمہوریت کے ذریعہ تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔

جنرل السیسی نے صرف مصر ہی نہیں، بلکہ تمام اسلامی ممالک کے اسلام پسندوں کو جہادیوں کے حوالے کر دیا ہے، اب وہ اسلام پسندوں سے کوئی بھی قدم اٹھوا سکتے ہیں۔ پوری دنیا سے صرف ایک القاعدہ کا مقابلہ کرنا مشکل ہے اور اگر السیسی کے منتخب اسلامی جمہوری حکومت پر شب خون مارنے کی وجہ سے ہر اسلامی ملک میں نئی القاعدہ جنم لے لیتی ہے، تو اس کا ذمے دار کون ہوگا؟ ٭

مزید : کالم


loading...