لاہور ہائی کورٹ ہنگامہ: فاضل چیف جسٹس نے معاملہ نمٹا دیا

لاہور ہائی کورٹ ہنگامہ: فاضل چیف جسٹس نے معاملہ نمٹا دیا

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس عطا بندیال نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی طرف سے عدالت میں ہنگامے کے حوالے سے وضاحت پر معاملہ نمٹا دیا اور ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت اس مسئلے کو ایشو نہیں بنانا چاہتی۔ تاہم سیاسی جماعتوں کے قائدین کو چاہئے کہ وہ اپنے کارکنوں کو سمجھائیں، دوسری صورت میں عدالت کو پابندیاں لگانا پڑیں گی۔ فاضل چیف جسٹس نے اس امر کا نوٹس لیا تھا کہ جس روز عمران خان انتخابی درخواست کے حوالے سے خود عدالت میں پیش ہوئے اس روز تحریک انصاف کے کارکن بھاری تعداد میں ہائی کورٹ پہنچ گئے اور کمرہ عدالت میں داخل ہوتے وقت دروازے اور کھڑکی کو نقصان پہنچا۔ یوں چیف جسٹس کو سماعت ملتوی کرنا پڑی، اس کے بعد انہوں نے نوٹس لیا اور عمران سے وضاحت طلب کر لی تھی۔ تحریک انصاف کے سربراہ کے وکیل اویس شیخ نے جواب جمع کرایا جس میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کا ہنگامے سے تعلق نہیں اور تحریک انصاف عدلیہ کا پورا پورا احترام کرتی ہے۔ گزشتہ روز یہ معاملہ چیف جسٹس کے روبرو پیش ہوا تو انہوں نے ایک منصف جیسے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ وضاحت اپنے، ریمارکس کے ساتھ قبول کر لی اور نوٹس نمٹا دیا۔

جہاں تک فاضل چیف جسٹس کے ریمارکس اور اویس شیخ کی طرف سے جمع کرائے گئے جواب کے ایک حصے کا تعلق ہے ،تو اس میں عدلیہ کے احترام کا ذکر ہے اور یقینا عدلیہ کو تقدس حاصل ہے جسے برقرار رہنا چاہئے۔ یوں بھی جو عدلیہ سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں ان کو حقیقی احترام بھی کرنا چاہئے۔ فاضل چیف جسٹس نے وضاحت کے بعد معاملے کو نمٹا کر اچھا اقدام کیا اب نہ صرف تحریک انصاف اور عمران خان بلکہ دوسری تمام سیاسی جماعتوں سے بھی یہی توقع کرنا چاہئے کہ اگر کبھی کوئی مقدمہ پیش ہو اور سیاسی قائدین کو آنا پڑے تو ان کو یہ بھی چاہئے کہ وہ ایسے اقدامات بھی کریں کہ اس نوعیت کا کوئی واقع ہی پیش نہ آئے۔ ماضی میں بھی مختلف جماعتوں کے اہم رہنماﺅں کی آمد اور مقدمات کی سماعت کے وقت اس نوع کے ہنگامے ہوتے رہے ہیں، لیکن یہ کوئی اچھی مثال نہیں، بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ گزرے وقت میں ہوئے غلط کام کو پیش نظر رکھا جائے اور آئندہ غلطی نہ کی جائے۔ فاضل چیف جسٹس کی تنبیہہ بہتر اور بروقت ہے اور ان کا اقدام بھی قابل تعریف ہے۔ سیاسی جماعتوں کو عمل کرنا چاہئے۔   ٭

مزید : اداریہ


loading...