دوران حراست لاپتہ کشمیریوں کے اہلخانہ کا برستی بارش میں احتجاجی دھرنا

دوران حراست لاپتہ کشمیریوں کے اہلخانہ کا برستی بارش میں احتجاجی دھرنا


سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں دوران حراست لاپتہ کشمیریوں کے والدین کی تنظیم (اے پی ڈی پی ) کے اراکین نے برستی بارش کے دوران اپنے جگرگوشوں کی بازیابی کیلئے پریس کالونی سرینگرمیں احتجاجی دھرنا دیا اوربھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں کوانسانی حقوق کی پامالیوں پر جوابدہ بنانے اورکالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کی منسوخی ک مطالبہ کیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس موقعہ پراے پی ڈی پی کی رہنماء پروینہ آہنگر نے انکشاف کیا کہ بھارتی پولیس نے ایک اور کشمیری نوجوان کو حراست کے دوران لاپتہ کردیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ 3ماہ قبل 29اور 30جنوری کی درمیانی شب کو سوپور میں حیدر کالونی کے علاقے آرمپورہ میں بھارتی فوج کی ٹاسک فورس کے اہلکاوں نے مشتاق احمد چنگا کو اسکے گھر سے گرفتار کیا تھا ۔

جس کے بعد اسے حراست کے دوران لاپتہ کردیاگیا۔ انہوں نے کہامشتاق احمد کی اہلیہ نے اس موقع پر مزاحمت کی کوشش کی اور پولیس کے تشددکی وجہ سے وہ زخمی ہوگئی۔پروینہ آہنگر نے کہاکہ بعد ازاں مشتاق احمد کے اہلخانہ نے اس سلسلے میں مقامی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی درج کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس اہلکار اسکی گرفتاری سے ہی مکر گئے۔ انہوں نے کہا کہ مشتاق کی تلاش میں اس کے اہلخانہ نے مختلف جیلوں اور انٹیروگیشن سینٹرز کا رخ کیا تاہم خاک چھاننے کے باوجود بھی ابھی تک اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ کشمیری جوانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ نہیں کر سکتی اور اس طرح کے واقعات ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے مشتاق احمد چنگا کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا ۔دھرنے کے دوران خواتین نے اپنے لخت جگروں کی تصاویر اور پلے کارڈ ہاتھوں میں اٹھارکھے تھے جن پر ان کی بازیابی کا مطالبہ درج تھا۔

مزید : عالمی منظر


loading...