پیپلز موومنٹ کی گول گجرال جموں میں پولیس کارروائی کی مذمت

پیپلز موومنٹ کی گول گجرال جموں میں پولیس کارروائی کی مذمت


جموں (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں مسلم ایکشن کمیٹی نے جموں میں گول گجرال کی گوجر بستی پر فرقہ پرست انتظامیہ، پولیس اورسی آر پی ایف کی طرف سے 100سے زائدمہاجرگوجر خاندانوں کو بے گھر کرنے کی شدید مذمت کرتے ہو ئے کہا ہے کہ جموں سے مسلمانوں کوبے دخل کیا جارہا ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسلم ایکشن کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس محمدشریف سرتاج کی صدارت میں جموں میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں قابض انتظامیہ کی اس کارروائی پر شدید تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ جموں میں جہاں بھی مسلمانوں کی زمینیں ترقی کے نام پر قابض انتظامیہ نے زبر دستی چھین لی ہیں۔

اور اثرورسوخ والے غیر ریاستی باشندوں کوالاٹ کردی گئی اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ گاندھی نگر رکھ باہو ، ترکوٹہ نگر، چھنی ہمت،ریلوے اسٹیشن، نروال، سنجواں،جوادی،گریٹرکیلاش،سینک کالونی،سدھرہ،بترہ، ریگوڑہ،بجالیا،جانی پورہ،بن تالاب،کوٹ بلوال، چنور، ٹھٹھر،اورایسے ہی درجنوں علاقوں میں مسلمانوں کی زمینیں غیر ریاستی باشنوں کو الاٹ کر دی گئی ہیں۔محمدشریف سرتاج نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں عدالتیں بھی انتظامیہ کے زیر اثر ہیں اور ان سے انصاف کی کوئی توقع نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خانہ بدوش گوجر مہاجرین 1988ء سے یہاں مستقل طور پر آباد ہیں اور یہ زمین1947ء سے قبل بھی گوجروں کی تھی۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی یہ دوغلی پالیسی آج ایک بار پھر عیاں ہو گئی ہے کہ ایک طرف کشمیری پنڈتوں کو ہرطرح کی مراعات دی جارہی ہیں اور دوسری طرف بے بس گوجر مہاجرین کو کھلے آسمان تلے زمین پر بھی برداشت نہیں کیا جا رہا ہے۔شریف سرتاج نے کہا کہ ایک طرف فرقہ پرست انتظامیہ مقبوضہ علاقے میں غیر ریاستی باشندوں کو مسلسل آبادکر رہی ہے اور دوسری جانب مقامی باشندوں کوبے گھر کیا جارہا ہے ۔مسلم ایکشن کمیٹی نے انتظامیہ پر زور دیا کہ مسلمانوں کو بے گھر کرنے کاسلسلہ فوراً بندکیا جائے ورنہ اسے زبردست احتجاج کا سامنا کرناپڑے گا۔دریں اثناء جموں وکشمیر پیپلز مومنٹ کے ایک وفد نے سینئر وائس چیرمین میر شاہد سلیم کی قیادت میں گول گجرال کا دورہ کر کے واقعے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ پیپلز مومنٹ کے وفد سے باتیں کرتے ہوئے 78سالہ عبداللہ اور 70سالہ طفیل نے بتایا کہ جس انداز سے پولیس نے کارروائی کی اس سے جنگ کا سماں پیدا ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا پولیس نے خواتین اور بچوں کو بھی اپنے غیض و غضب کا نشانہ بنایا۔

مزید : عالمی منظر


loading...