ہسپتالوں میں بورڈ آف مینجمنٹ مریضوں پر بوجھ ،چیئرمین پروٹوکول تک محدود

ہسپتالوں میں بورڈ آف مینجمنٹ مریضوں پر بوجھ ،چیئرمین پروٹوکول تک محدود

لاہور( جنرل رپورٹر) صوبائی دارالحکومت کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں قائم کئے گئے بورڈ آف مینجمنٹس کے چیرمینوں نے خود کو پروٹوکول لینے تک محدود کر لیا ہے چیئر بتایا گیا ہے کہ بورڈ آف مینجمنٹ کے ممبران کی اکثریت اجلاسوں سے غیر حاضر رہتی ہے اور جو میٹنگ منٹس پرنسپلز اپنی نگرانی میں تیار کراتے ہیں ان کو بغیر کسی گفت و شنید اور بحث کے منظور کر دیتے ہیں جس سے ہسپتالوں کا نظم و نسق بربادی کی طرف بڑھ رہا ہے بتایا گیا ہے کہ ٹیچنگ ہسپتالوں کے بورڈ آ ف مینجمنٹ اپنے ٹاسک اور ذمہ داریاں پوری کرنے میں مکمل ناکام ہو رہے ہیں ان بورڈز کا سب سے بڑا ٹاسک ہسپتالوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے ’’ فنڈز ‘‘ جمع کرنا تھا پرنسپل اور ایم ایس کے درمیان ’’تعلقات‘‘ اور رابطے بڑھانے میں ’’پل‘‘ کا کردار ادا کرنا تھا مریضوں کے مسائل حل کرنے کے لئے مریضوں سے رابطے میں رہنا تھا مگر چند سالوں سے بورڈز کے چیرمینوں نے مریضوں سے کنارا کشی اختیار کر رکھی ہے ماہانہ اجلاسوں میں شرکت کے وقت خود کو پرنسپلز کے دفاترز تک محدود کرکے رہ گئے ہیں اجلاسوں میں پک اینڈ ڈراپ کے لئے ایم ایس کی گاڑیاں استعمال کی جاتی ہیں گزشتہ چند سالوں میں یہ بورڈز مریضوں کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کی بجائے ان پر بوجھ بنتے جا رہے ہیں مریضوں کو ہسپتالوں میں ڈسپرین بھی نہیں ہے اور بورڈز کے چیرمینوں ان کے عزیز و اوقارب دوست احباب کے علاج معالجہ کی مفت سہولیات کے ساتھ ساتھ پرایؤٹ کمرے بھی دستیاب کر دئیے جاتے ہیں پروٹوکول ایسا کہ چیئرمین کی آمد کے وقت جس طرف چیئرمین ہو اسی طرف مریضوں کا داخلہ بند کر دیا جاتا ہے اس حوالے سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سلیمان کا کہنا ہے کہ بورڈز مریضوں کو ریلیف دلوانے سمیت اپنے ذمہ داریاں پوری کرنے میں عملا ناکام ہو چکے ہیں انہوں نے خود کو پر وٹوکول لینے یا پرنسپلز کے لئے ربڑ سٹیمپ کا کردار ادا کرنے تک محدود کر لیا ہے یہ ہسپتالوں پر بوجھ ہیں ان کو فارغ کیا جائے اس حوالے سے خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ جائزہ لیا جا رہا ہے بورڈ آف مینجمنٹ کے قوانین میں ترامیم کرنا پڑی تو کریں گے ایم ایس کو زیادہ با اختیار بنایا جائے گا ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...