یورپی یونین نے روسی صدر کے دو قریبی رفقاءپر پابندیاں عائد کر دیں

یورپی یونین نے روسی صدر کے دو قریبی رفقاءپر پابندیاں عائد کر دیں ...

                           بر سلز (آن لائن)یورپی یونین نے روسی صدر ولادیمر پوٹن کے دو قریبی رفقاء کے خلاف بھی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ جسکے بعد یو رپی پا بندیو ں کی زد میں آ نے والے روسی عہدیداروں کی مجمو عی تعداد 31 ہو گئی ہے غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق یورپی پابندیوں کی زد میں آنے والے ان مزید دو روسی عہدیداروں میں ایک صدر پوٹن کے مشیر اور دوسرے روسی پیرا ملٹری دستوں کے کمانڈر ہیں۔ صدر پوٹن کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف ویاچیوسلوف ولودِن اور ملٹری کمانڈر ولادیمر شامانوف کے خلاف سفری پابندیوں عائد کرنے کے علاوہ ان کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔ شامانوف ان روسی فوجیوں کے کمانڈر ہیں، جنہوں نے مارچ میں یوکرائن کے علاقے کریمیا میں داخل ہو کر وہاں کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا۔ یورپی یونین نے پیر کے روز ان دو اعلیٰ روسی عہدیداروں کے علاوہ مزید 13 روسی شہریوں کو اپنے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔روسی صدر کے قریبی ساتھی ولودِن ایک سابقہ وکیل اور سینیئر سیاستدان ہیں اور ان پر پہلے ہی امریکی پابندیاں عائد ہیں۔ یورپی پابندیوں کی فہرست میں 13 نئے افراد شامل کیے جانے کے بعد اب ان پابندیوں کی زد میں آنے والے روسی عہدیداروں کی تعداد 31 ہو گئی ہے۔ یورپی یونین نے پہلی مرتبہ اپنی پابندیوں کی فہرست میں دو روسی کمپنیوں کو بھی شامل کیا ہے۔یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں روس کے خلاف پابندیوں کے دائرے کو وسیع کرنے اور یوکرائن کے تنازعے کو ہوا دینے والی روسی کمپنیوں کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کو آسان بنانے اتفاق کیا گیا۔پابندیوں کی زد میں آنے والی ان دو روسی کمپنیوں میں سے ایک کریمیا کے علاقے میں قائم چیرنومورنیفٹے گیس کمپنی اور دوسری کریمین آئل سپلائی کمپنی فیوڈوسیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق کریمیا پر روسی قبضے کے بعد ان دونوں کمپنیوں کا مکمل انتظام و انصرام نئی انتظامیہ سنبھال چکی ہے۔

 واضح رہے کہ چیرنومورنیفٹے گیس کمپنی پر امریکا نے اپریل کی گیارہ تاریخ کو پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...