مشتاق احمدکا تقرر، جسٹس قیوم کمیشن کی رپورٹ نظر انداز

مشتاق احمدکا تقرر، جسٹس قیوم کمیشن کی رپورٹ نظر انداز
مشتاق احمدکا تقرر، جسٹس قیوم کمیشن کی رپورٹ نظر انداز

  


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وقار یونس کی طرح مشتاق احمد کی تقرری کرتے ہوئے بھی جسٹس قیوم کمیشن کی رپورٹ نظر انداز کردی گئی، موجودہ چیف سلیکٹرمعین خان، ہیڈ کوچ وقار یونس اور اسپن بولنگ میں معاون مشتاق احمد طویل عرصے تک ایک ساتھ ملک کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ 1996ءمیں سابق اسٹارز راشد لطیف اور باسط علی نے دورہ جنوبی افریقہ میں ساتھی کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کرکے پنڈروباکس کھول دیا، بعد ازاں بھی کئی میچز مشکوک ہونے کی اطلاعات مسلسل گردش میں رہنے پر بالآخر جسٹس قیوم کمیشن نے 9 ستمبر 1998ءکو انکوائری شروع کی، سماعت مکمل ہونے پر سلیم ملک اور عطاءالرحمان تاحیات پابندی کا شکار ہوئے جبکہ مشتاق احمد، وقار یونس، وسیم اکرم، انضمام الحق، سعید انور اور اکرم رضا کو جرمانے بھرنا پڑے۔ لیگ اسپنر پر الزام تھا کہ انہوں نے دورہ سری لنکا میں مشترکہ طور پر کپتان سلیم ملک کے ہمراہ 66 ہزار 5 سو ڈالر میچ فکسنگ کیلئے وصول کئے، واضح ثبوت نہ ہونے پر انہیں 3 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی۔ مشتاق احمد کا نام بھی ان کرکٹرز کی فہرست میں شامل تھا جن پر آئندہ کڑی نظر رکھنے، بورڈ اور ٹیم میں سلیکشن یا قیادت کی ذمہ داری سونپنے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ جسٹس قیوم نے 2006ءمیں انہیں اسسٹنٹ کوچ بنائے جانے پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”حیرت ہے بورڈ نے ان کی سفارشات کے بر خلاف قدم کیسے اٹھایا“۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ نے 2009ءمیں انگلش بورڈ کو خط میں یاد دلایا تھا کہ لیگ اسپنر کا نام جسٹس قیوم رپورٹ میں شامل ہے، کمیشن کی ہدایات کے باوجود وقار یونس کو تیسری بار کوچ مقرر کیا گیا جبکہ انگلینڈ نے مشتاق احمد کے تجربے کا 6 سال تک بھرپور فائدہ اٹھایا، ہیڈ کوچ کی حمایت نے ان کے اکٹھے کام کرنے کی راہ ہمواری کردی، دونوں ملتان اور یو بی ایل ٹیم کی بھی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ 1993ءمیں بطور کپتان وسیم اکرم کے پہلے ویسٹ انڈین ٹور میں گرینیڈا کے ساحل پر مقامی پولیس نے وسیم، وار یونس اور عاقب جاوید کے ساتھ مشتاق احمد کو بھی مبینہ طور پر ”ماری جوانا“ پیتے ہوئے دھر لیا تھا، کرکٹرز 4 گھنٹے تک حراست میں رہے، ضمانت پر رہائی ہوئی، منیجر خالد محمود کی طرف سے ٹور ختم کرنے کی دھمکی اور وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پانچیوں روز کیس سے گلوخلاصی ہوئی تھی۔

مزید : کھیل


loading...