وفاق اور صوبے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے آئین پر عمل کریں ،سپریم کورٹ

وفاق اور صوبے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے آئین پر عمل کریں ...

                                     اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے آٹے سمیت اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں روزافزوں اضافہ کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دور ان سیکرٹری فوڈسیکورٹی کو چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعدعوام کیلئے غذائی تحفظ کے حوالے سے اقدامات پرمبنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ملک میں آٹے کی فراہمی کادعویٰ درست نہیں، وفاق اورصوبے بنیادی انسانی حقوق کویقینی بنانے کیلئے آئین پرعمل کریں جبکہ جسٹس جوادایس خواجہ نے کہا ہے کہ عوام کے ساتھ کیاہورہاہے، ہمارآئین لوگوں کی جان ومال کی خفاظت کویقینی بناتاہے اورجب کسی کوروٹی نہیں ملے گی تولوگوں کی جان کس طرح محفوظ ہوسکتی ہے۔ ۔ منگل کوجسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی تو جسٹس جواد ایس خوا جہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ساتھ کیاہورہاہے، ہمارآئین لوگوں کی جان ومال کی خفاظت کویقینی بناتاہے اورجب کسی کوروٹی نہیں ملے گی تولوگوں کی جان کس طرح محفوظ ہوسکتی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب کچھ آئین اورقانون کے مطابق ہورہاہے اورآئین کہتا ہے کہ ہرشہری کوبلاامتیاز رنگ ونسل اورمذہب کے بنیادی اشیاءضروریہ ملنی چاہئے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ عوام کی غذائی ضروریات پوری کرنا اوربنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہداری ہے، اگر وہ پوری نہیں کر سکتی تو بتادے، یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، سب کو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آٹا47 کی بجائے 147روپے کلوکابھی ملے توخریدسکتے ہیں تاہم غریب کاکیابنے گا۔ سماعت کے دوران سیکرٹری فوڈ سیکورٹی نے عدالت کو بتایا کہ ملک میں اجناس کی پیداوارکے پیش نظر تمام پہلوﺅ ں کاجائزہ لینے کے بعد تقسیم کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں ارب پتی اور غریب سبسڈی کی گندم کھاتے ہیں۔اس سلسلے میں ٹارگٹڈ سبسڈی کےلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ جسٹس جوادایس خواجہ نے ان سے کہا کہ عدالت نے صرف یہ دیکھناہے کہ لوگوں کومناسب قیمت پرآٹا مل رہاہے یا نہیںہم اناج کاضیاع قبول نہیں کریں گے، ہمیں بتایاجائے کہ تھرپارکر جیسے علاقے جہاں گندم نہیں ہوتی کیاایسے علاقوں میں فوڈ سیکورٹی کاادارہ گندم پہنچاتاہے، ہم نے آٹے کی قلت کے معاملے پرچاروںصوبوں میں کمیٹیاں بنائیں، وہ بھی کوئی حل نہیں نکال سکیں، راولپنڈی میں مہنگا مل رہا ہے توپنجگور، پشین اورتربت میں کیاحال ہوگا، آٹا افغانستان اورایران میں بھی سمگل کیا جا رہا ہے۔ سیکرٹری فوڈ سیکورٹی نے بتایاکہ پیداوارنہ ہونے کی صورت میں وہاں لوگوں کیلئے غدائی ضروریات اورجانوروں کیلئے چارے کاانتظام کرنا متعلقہ ڈی سی کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اصل معاملہ خوراک کی اشیاءکی قلت کانہیں تقسیم کا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ ایک ماں بھوک کے باعث اپنے تین بچوں کونہرمیں ڈبودیتی ہے۔ سیکرٹری نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جس میں ارب پتی اوردوسوروپے دیہاڑی کمانے والا دونوں رعایتی نرخوں پرگندم خریدتے ہیں۔ اس صورتحال کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ یہ معاملہ سابق چیف جسٹس نے اٹھایاتھا تاہم اب کہا جارہا ہے کہ عدالت اختیارات سے تجاوزکررہی ہے، ہمیں وہ کچھ بتایاجائے جوحکومت نے کیااورجس سے عوام کوکچھ ریلیف ملاہو، یہ انسانی حقوق کامعاملہ ہے، سارے لاءافسران عدالت کوبتائیں کہ جب بنیادی حقوق نہ ملیں تواس کاکیانتیجہ نکلتاہے۔ جسٹس گلزارنے کہا کہ یہ اداروں کی لاپرواہی ہے جس کا کوئی حل بھی ہوناچاہئے، ہمیں تویہ لگتاہے کہ مصنوعی قلت پیداکرکے اشیاءضروریہ کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں، بتایاجائے کہ جب ہماری اپنی ضرورت پوری نہیں ہوتی تو اشیاءخورونوش کیوں برآمد کی جاتی ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے قراردیاکہ ملک میں آٹے کی یکساں دستیابی کے دعوے درست نہیں حالانکہ عوام کیلئے بنیادی اشیاءخورونوش کی دستیابی حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت آئین کے آرٹیکل 9 ، 14 اور38پرعمل کر کے بنیادی حقوق کی فراہمی کویقینی بنائے۔ بعدازاں عدالت عدالت عظمیٰ نے چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل سے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 20 مئی تک ملتوی کر دی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...