ملزموں کی شناخت اور مختلف گروپوں کے ٹکراﺅ کے سد باب کی خاطر لگائے گئے 55 فیصد کیمرےنا کارہ

ملزموں کی شناخت اور مختلف گروپوں کے ٹکراﺅ کے سد باب کی خاطر لگائے گئے 55 فیصد ...

                       لا ہو ر (شعیب بھٹی)شہر لاہور میں سنگین جرائم کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کی شناخت اور مختلف لسانی گروپوں کے ٹکراﺅ کے سدباب کے لئے لگائے گئے 55فیصد خفیہ کیمرے ناکارہ نکلے،متعدد کیمروں کو جرائم پیشہ افراد نے پولیس کی ملی بھگت سے اتار کر غائب کردیا ،خفیہ کیمروں کی خریداری کی مد میں بھی صر ف40فےصد ر قم خرچ کی گئی ،دیگررقم کی مبینہ طور پر بندر بانٹ کرکے افسران بالا کو” سب اچھا“ کی رپورٹ ارسال کردی گئی ۔تفصیلات کے مطابق صو با ئی دا را لحکو مت میں روزبروز بڑ ھتی ہوئی جرا ئم کی  وا ر دا توں اور د ہشت گر د ی سمےت مختلف لسا نی گرو پوں کے ٹکراﺅ کے سدباب اور مجر مو ں تک پہنچنے کے لئے لا ہور میں لگا ئے گئے سینکڑوںخفےہ کےمرو ں میں سے پولیس ذرائع کے مطابق 55فےصد کےمر ے خراب ہیں جبکہ متعدد کو لا ہور پو لےس کی ملی بھگت سے جرائم پیشہ عناصر نے غائب کردیا ہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ خفیہ کیمروں کوپو لےس کی نگرا نی میں چلا نے کی ذ مہ دا ر ی محکمہ پولیس نے خود لی تھی جس میں یہ بات طے کی گئی تھی کہ خفیہ کیمرے لگائی جانے والی جگہوں کا پولیس کے علاوہ کسی کو بھی علم نہیں ہوگا لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے متعدد کیمرے لگائی جانے والی جگہوں سے یا تو غائب کردیئے گئے ہیں یا پھر جو موجودہ ہیں ان میں سے 55فیصد خراب ہو چکے ہیںجس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرائم پیشہ افراد اپنی وارداتیں کرنے میں مصروف ہیں جبکہ حکام بالا اور پولیس نے سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود چپ سادھ رکھی ہے ۔ایک پولیس افسر نے نا م نہ ظاہر کرنے کی شرط پر نمائندہ "پاکستان "کو بتایا کہ سی سی ٹی وی کےمرو ں کے لئے حکو مت پنجا ب کی جانب سے لا کھو ں رو پے کے فنڈ زدیئے گئے تھے تاہم خفیہ کیمروں کی مد میں صر ف40فےصد ر قم ادا کی گئی باقی رقم کی آ پس میں بندر بانٹ کرلی گئی ۔واضح رہے کہ پنجا ب حکو مت کی جانب سے ملنے والے فنڈز کی بدولت لگائے گئے خفےہ کےمرو ں کی حفا ظت و نگرا نی کے لئے ڈ ی آ ئی جی آ فس میں ایک ما نےٹر نگ سنٹر بھی قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد شہر کی سےکیو ر ٹی اوران خفےہ کےمرو ں سے مجرمو ں تک پہنچنے میں مددحاصل کرنا ہے لیکن موجودہ صورتحال کے پیش نظر مذکورہ خفیہ کیمروں سے وہ نتائج حاصل نہیں کئے جاسکے ہیں جس کی حکومت پنجاب نے پولیس سے توقعات وابستہ کررکھی تھیں۔

 

مزید : علاقائی


loading...