مخالفین توانائی کے شعبہ میں ہمارے منصوبوں کا موازنہ 12 سالہ کار گردگی سے کر لیں عابد شیر

مخالفین توانائی کے شعبہ میں ہمارے منصوبوں کا موازنہ 12 سالہ کار گردگی سے کر ...

                لاہور(کامرس رپورٹر)وزیر مملکت برائے پانی وبجلی عابد شیر علی نے مخالفین کو چیلنج کیا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کی توانائی کے شعبہ میں اےک سال کی کارکردگی کا موازنہ گزشتہ 12 سالوں کی کارکردگی سے کر لےں، حکومت کو اس بات پر فخر ہے کہ اس کا مےکنزم شفاف ہے، سڑکوں پر نکلنے اور فالیں نکالنے والے ےہ بتائیں کہ جب وہ مشرف کے ساتھ 8 سال تک بیٹھے رہے انہوںنے اس وقت ملک کیلئے کیا کیا، حکومت کا عزم ہے کہ وہ اپنا موجودہ دور ختم ہونے سے پہلے بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کرےگی۔ وہ منگل کولیسکو ہیڈ کوارٹر میں وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹو لیسکو ارشد رفیق بھی موجود تھے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ موجودہ حکومت نے500 ارب سرکلر ڈیٹ کی مد میں ادا کئے اس سے بجلی کا بڑا منصوبہ لگ سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بجلی کے شعبہ میں بے پناہ کرپشن کی گئی اور رینٹل جنازے نکالے گئے تاہم وزیراعظم نواز شرےف کی طرف سے کنڈا کلچر ¾ بجلی چوری کی روک تھام ¾ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرنے ¾ پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈسکوز میں اوور بلنگ ،انڈر بلنگ کے علاوہ بجلی چوری ہوتی ہے جبکہ کئی علاقوں میں لوگوں مےں بجلی کا بل ادا کرنے کا رجحان نہیں ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اوور بلنگ کے ذمہ دار، بجلی چوری کرنے اور کروانے والے سب کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اس سلسلہ مےں ملک کے دےگر علاقوں کی طرح شےخوپورہ اور لاہور مےں کئی اہلکاروں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ لیسکو انتظامیہ کو 30 جون سے قبل 100 فیصد ریکوری یقینی بنانے کا ہدف دیدیا گیا ہے۔ انہوںنے پنجاب حکومت سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وزےر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب حکومت کے ذمہ واجب الادا رقم 5.5 ارب روپے اسی ہفتے دینے کا وعدہ کیا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلی سندھ سے بھی ان کے ذمہ 56 ارب روپے کے واجبات، بلوچستان حکومت سے بھی 75 ارب روپے کے زرعی ٹیوب ویلوں اور 100 ارب روپے دیگر مدات میں واجب الادا رقم کیلئے بات چیت کی گئی ہے علاوہ ازےں آزاد کشمیر حکومت سے بھی واجبات کی وصولی کیلئے 6 رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے ۔ عابد شیر علی نے کہا کہ 747میگا واٹ کے گدو پاور پراجیکٹ کے مقررہ مدت سے پہلے سسٹم میں آنے سے قومی خزانے کو 60 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ اسی طرح 402 میگا واٹ کے اوچ پاور پراجیکٹ ¾ 100 میگا واٹ کے سولر پراجےکٹ ¾ 1320 میگا واٹ کے تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے جاری ہیں جبکہ 425 میگا واٹ کے نندی پور پاور پلانٹ سے 96 میگا واٹ بجلی اسی ماہ سسٹم میں آ جائے گی ۔ وزیر مملکت نے بتایا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف رواں سال نومبر میں داسو ڈیم کا سنگ بنیاد رکھیں گے جبکہ دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے بھی 25 ارب روپے کے فنڈز جاری ہو چکے ہیں، وزیر مملکت نے کہا کہ تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو یہ ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ فیڈر کے حساب سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کریں اور ہائی لاسز فیڈرز کو پبلش کریں ان کے علاوہ فیڈرز پر لوڈشیڈنگ 6 سے 7 گھنٹے سے زیادہ نہ کی جائے۔ وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ بجلی بحران کے خاتمہ کیلئے 2 مراحل پر مشتمل حکمت عملی ترتیب دی گئی جس کے پہلے مرحلے میں انفرانسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور سیاسی عزم شامل تھا جبکہ دوسرے مرحلے میں شفافیت اور بجلی چوری کی روک تھام شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ پہلے مرحلے پر عمل کرتے ہوئے ہم نے سیاسی عزم کے ساتھ ساتھ 8500 فیڈرز پرالیکٹرانک میٹر نصب کئے جس سے یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس فیڈر کو کتنی بجلی دستیاب ہے اور وہ کتنی عوام کو فراہم ہو رہی ہے،اسی طرح دوسرے مرحلے مےں شفافےت اور بجلی کی روک تھام کےلئے اقدامات کئے جا رہے ہےں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ لیسکو کے اندر اس کے 20 فیصد بجلی کے کوٹہ میں سے 20 سے 25 ارب روپے کی سالانہ بجلی چوری ہو رہی ہے اورہمارا یہ عزم ہے کہ اس بجلی چوری کو ختم کرکے دم لیں گے۔

عابد شیر

 

مزید : علاقائی


loading...