آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے،صدر ممنون حسین

آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے،صدر ممنون حسین

                              اسلام آباد(اے این این ) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئینی مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، مسلمان عائلی زندگی کے مسائل کا حل دینی تعلیمات کی روشنی میں نکالیں، معاشرے میں امن و ہم آہنگی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، خاندان معاشرے کی اہم ترین اکائی ہے جو معاشرتی استحکام و پائیداری کی اساس ہے اوراسلام میںاس پہلو پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، پاکستان کا آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور غیر مسلم شہری اپنے اپنے عائلی قوانین کے تابع ہیں،عصر حاضر کا تقاضا ہے کہ مسلمان عائلی زندگی کے مسائل کا حل دینی تعلیمات کی روشنی میں نکالیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف شریعہ و قانون کے زیر اہتمام ”شریعت اور قانون کی روشنی میں مسلم عائلی قوانین کے جدید مباحث کے موضوع پر پہلی فقہی تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں مصر ، عمان، کویت ، سعودی عرب، برطانیہ ، بحرین، موریطانیہ سمیت دیگر ممالک کے فقہائ، سکالرز ، دانشوروں سمیت جامعہ کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی ، صدر ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش ، نائب صدر تدریسی امور ڈاکٹر محمد بشیر خان، ڈائریکٹر جنرل انتظامی و مالیاتی امور گلزار احمد خواجہ، کلیہ شریعہ و قانون کے ڈین ڈاکٹر طاہر حکیم، ڈینز، ڈائریکٹرز دیگر اعلیٰ عہدیداران اور اساتذہ و طلباءکی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ ممنون حسین نے کہا کہ عائلی زندگی کے مسائل و قوانین کے حوالے سے منعقدہ حالیہ کانفرنس کا نفاذ اہم ترین عصری تقاضوں میں سے ایک ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کانفرنس کے اختتام پر پیچیدہ مسائل بارے اہم سفارشات مرتب ہوں گی، جو اسلامی ممالک کی حکومتوں کو اس زمرے میں قانون سازی و پالیسیاں مرتب کرنے میں رہنمائی کریں گی۔ انہوںنے کہاکہ بہت سے چیلنجوں کے باوجود حکومت حقیقی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قوانین میں اصلاحات متعارف کرانے کے لیے اپنی ذمہ دارویوںسے بخوبی آگاہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں امن و ہم آہنگی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ انہوںنے کہا کہ معاشرہ اس وقت اہم موڑ پر ہے اور صورتحال مسلم عائلی قوانین کے اطلاق کی متقاضی ہے اور حکومت اس حوالے سے دانشوروں ،ماہرین قانون اور علماءسے اس زمرے میں استفادہ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عائلی قوانین میں طلاق جیسے مسئلوں پر مجتہدین کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے اور طلاق کے مسئلے پر اختلافات کے حوالے سے متفقہ طور پر تجاویز مرتب کی جائیں۔ صدر مملکت نے عائلی قوانین میں خواتین کی اہمیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر باعث مسرت ہے کہ کانفرنس خواتین کی نمائندگی کے لیے بھی شرکاءموجود ہیںجو قابل ستائش ہے کیونکہ خواتین ملکی ترقی میں اہم کردار کی متحمل ہیں۔ آخر میں ریکٹر جامعہ ، صدر جامعہ ، نائب صدر جامعہ اور ڈی جی انتظامیہ و مالیاتی امور کی موجودگی میں صدر پاکستان کو یونیورسٹی کی مطبوعات اور یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

مزید : صفحہ اول


loading...