کسی بھی مذہب کی بیحرمتی پر توہین مذہب کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے،چیف جسٹس

کسی بھی مذہب کی بیحرمتی پر توہین مذہب کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے،چیف جسٹس

                                   اسلام آباد (این این آئی)سپریم کور ٹ آف پاکستان نے پشاور چرچ حملہ اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں سے متعلق کیس میں سندھ اور پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمہ میں مخدوم علی خان ، حسن اورنگزیب اور خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقرر کر دیا جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان پینل کوڈ کے آرٹیکل 295 کے تحت کسی بھی مذہب پر حملہ، توہین یا بے حرمتی پر بھی توہین مذہب کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔۔ منگل کوچیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میںتین رکنی بنچ نے پشاور چرچ پرخودکش حملہ اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں سے متعلق کیس کی سماعت کی اس موقع پر اقلیتوں کے نمائندے رمیش کمار نے پیش ہوکرعدالت کو بتایا کہ اقلیتوں کوبدستورمشکلات کا سامنا ہے۔ عدالت کے استفسار پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے عدالت کو بتایا کہ ایسے کیسز کے حوالے سے کئی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ بہت اہم ایشو ہے اوراس کیس میں معاونت کیلئے تین عدالتی معاون مقرر کئے گئے ہیںجو مندروں اور گرجا گھروں کو محفوظ بنانے کےلئے تجاویز دیں گے اور اقدامات کریں گے۔ اس کے ساتھ اس بات کا جائزہ بھی لیاجائے گا کہ کیا اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے الگ فورس بھی بنائی جا سکتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اقلیتوں کے نمائندے ان تمام شقوں کی نشاندہی کریں جنہیں اقلیتوں کی توہین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ اس بات کی بھی نشاندہی کریں کہ کن کن جگہوں پر قانون نافذ کرنے والے ادارے اقلیتوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔اس موقع ہر چیف جسٹس نے سندھ میں مندر جلانے کے واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس تصدق جیلانی نے کہا کہ عدلیہ اقلیتوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور اقلیتی برادری کے تحفظ کے لیے نئی فورس کے قیام کا بھی عندیہ دیا۔ڈاکٹر رمیش کمار عدالت کو بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران ہندو برادری کے ساتھ چھ ناخوشگوار واقعات پیش آئے ہیں جہاں ناصرف ان کے مندروں کو نذرآتش کیا گیا بلکہ نہ ان کے مذہب کی عزت کی گئی اور نہ ہی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان میں سے چھ واقعات توہین مذہب کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سندھ پولیس علی شیر جھاکرانی نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے اقلیتوں کے ہراساں کرنے میں ملوث پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے تاہم ان کے خلاف مقدمات توہین مذہب کے قانون کے تحت درج نہیں کیے گئے۔چیف جسٹس نے اس سلسلے میں پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائی کی تفصیلی رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو ضلع کرک میں ہندو سمادھی پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔جسٹس ہیلپ لائن کے رکن سلیم مائیکل نے عدالت کو بتایا کہ ینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن ممتاز ادارہ ہے جسے کراچی سے چلایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے کی عمارت کا کچھ لوگ غلط استعمال کر رہے ہیں اور اس کا مقدمہ کچھ عرصہ عدالت میں زیر سماعت بھی رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے آخری فیصلہ آنے تک کلب کے معاملے کی دیکھ بھال کے لیے ایک ناظر بھی تعینات کیا تھا۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے عدلیہ کو بتایا کہ لیاقت نہرو معاہدے کے تحت اس پراپرٹی کا چیئرمین ہندو ہو گا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں قوموں کے درمیان سیاسی معاملات زیادہ اچھے نہیں رہے جس کے باعث دونوں فریقین نے اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا لیکن اعلیٰ عدلیہ انہیں انسانی بنیادوں پر سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔اس موقع پر جسٹس تصدق جیلانی نے ہندوستانی میں اقلیتوں کے تحفظ پر انڈین سپریم کورٹ کے کردار کو سراہتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...