قومی اسمبلی ،پولیو کے خاتمے اور سرکاری ادروں سے ملازمین کو نکالنے کی قرار داد دیں متفقہ طور پر منظور

قومی اسمبلی ،پولیو کے خاتمے اور سرکاری ادروں سے ملازمین کو نکالنے کی قرار ...

                                   اسلام آباد(مانٹیرنگ ڈیسک +آن لائن +اے این این)قومی اسمبلی کے اجلاس میں پولیو کے خاتمے اور سرکاری اداروں سے ملازمین کو نہ نکالنے کی قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کر لی،تمام ایم این ایز کو اپنے حلقوں میں پولیو مہم کی نگرانی کی تجویز دی گئی ہے جبکہ الطاف حسین کے شناختی کارڈ کے تنازعہ پر ایم کیو ایم کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا،اراکین کا اسمبلی سے واک آو¿ٹ اور دھرنا،حکومت نے واضح کیا ہے کہ الطاف حسین کا معاملہ شناختی کارڈ کا نہیں نئی شہریت کا ہے جس میں وقت لگے گا،الطاف حسین نے پاکستان کی شہریت خود ترک کی تھی۔منگل کو سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو تواسپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو متحد قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر عبدالرشید گوڈیل نے نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے پاکستانی پاسپورٹ کے لئے برطانوی ہائی کمشنر سے رابطہ کیا تھا تاہم انہیں کہا گیا کہ پاسپورٹ کے اجرا کے لئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کا اجرا ضروری ہے اس لئے انہوں نے پہلے شناختی کارڈ کے لئے درخواست جمع کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ایک عام آدمی کو بھی ڈیٹا فراہم کئے جانے کے بعد مقررہ مدت میں قومی شناختی کارڈ جاری کردیا جاتا ہے لیکن ایم کیو ایم کے قائد کو اب تک شناختی کارڈ جاری نہیں کیا گیا جو متعصبانہ رویہ ہے، جس کے بعد ایم کیو ایم کے ارکان ایوان سے واک آٹ کرگئے اور پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیا۔ پختنوخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود اچکزئی نے کہا کہ الطاف حسین کراچی ائیرپورٹ سے پاکستانی پاسپورٹ پر بیرون ملک گئے۔اب ان کو پاسپورٹ نہ دینے کے فیصلے سے وزارت داخلہ اور خارجہ ملک کی جگ ہنسائی کروارہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈرطارق اللہ اورپی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمودقریشی نے بھی الطاف حسین کو پاسپورٹ اورشناختی کارڈ فراہم کرنے کی حمایت کی اور کہا کہ پاسپورٹ حاصل کرنا الطاف حسین کا قانونی حق ہے، بعض نادان لوگ حکومت کو غلط مشورہ دے رہے ہیں، معاملہ الجھانے کے بجائے حکومت اپنے رویئے پر نظرثانی کرے۔پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ الطاف حسین کو شناختی کارڈ کے اجرا کا معاملہ انتہائی چھوٹا ہے حکومت اسے بڑا نہ بنائے۔وزیر مملکت برائے داخلہ انجینئر بلیغ الرحمان نے ایوان کو بتایا کہ الطاف حسین سے لیا گیا ڈیٹا محفوظ نہیں کیا جا سکا محفوظ نہ ہونے والا ڈیٹا دوبارہ حاصل کیا جاتا ہے۔ الطاف حسین کو بھی اپنے کوائف دوبارہ درج کرانے کا کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واجد شمس الحسن نے خلاف قواعد نادرا اہلکاروں کو الطاف حسین کے گھر بھیجا، پاسپورٹ کے حصول کیلئے ہر شہری کو پاسپورٹ آفس جانا پڑتا ہے۔بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کا ڈیٹا کل تک اپ لوڈ نہیں ہوا تھاکوئی بھی ڈیٹا تیس روز میں اپ لوڈ ہونا ضروری ہوتا ہے گھر پر جا کر الطاف حسین کا ڈیٹا اپ لوڈ کرنے سے کوالٹی میں فرق آیا ہے۔ ایم کیو ایم کے اراکین نے وزیر مملکت کے بیان پر ایوان میں احتجاج کیا گیا۔ رشید گوڈیل کا کہنا تھا کہ ڈیٹا ضائع ہونے کا کہہ کر کس کو پاگل بنایا جا رہا ہے۔ الطاف حسین کو پاسپورٹ جاری نہ کیا گیا تو احتجاج کرینگے اور دھرنا دینگے۔ جس پر مسلم لیگ (ن)کے روحیل اصغر نے کہا کہ الطاف حسین نے ماضی میں پاکستانی شہریت ترک خود ترک کر دی تھی،اب ان کا معاملہ شناختی کارڈ کے اجراءکا نہیں نئی شہریت کا ہے اس میں وقت لگے گا۔نئی شہریت کے لئے دوبارہ دستاویزات تیار کرنا ہونگی جلد ہی ایم کو ایم کے قائد کو شناختی کارڈ جاری کردیا جائے گا،الطاف حسین کو دستاویزات جاری نہ کرنے کا کبھی نہیں کہا، ایشو نہ بنایا جائے۔بعد میںزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض پیرزادہ کی یقین دہانی کے بعد ناراض ایم کیو ایم اراکین ایوان میں واپس آ گئے۔ اجلاس میں پولیو کی صورتحال پر بحث کرتے ہوئے عبدالرحیم مندوخیل نے کہا کہ پولیو کے قطرے نہ پلانا جرم ہے، مولانا جمال الدین نے کہا کہ ڈرون میزائل کے اندر پولیو وائرس کی موجودگی کی اطلاعات ہیں حکومت اس بارے میں تحقیقات کرے۔ نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پولیو کا خاتمہ نہ ہونا دشمن کا پروپیگنڈہ ہے، پولیو کا مسئلہ کسی وزارت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہے، حکومت ملک سے پولیو کے خاتمے پر توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو بس کے 40 ارب روپے بھی پولیو خاتمے کیلئے خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ طالبان سے مذاکرات میں سب سے پہلے پولیو ٹیموں کا محفوظ رہنا اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ وزیر مملکت برائے قومی اسمبلی سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے سفری پابندیوں کی تجویز آئی، پابندی نہیں لگی، عالمی ادارہ صحت خود انسداد پولیو پروگرام چلا رہا ہے، انسداد پولیو سیل وزیراعظم کے ماتحت کام کرتا ہے، پولیو کے حوالے سے صوبوں نے ہمیشہ غلط اعداد و شمار پیش کیے، سمجھ نہیں آتا کہ صوبے غلط بیانی سے کیوں کام لیتے ہیں۔ وزیر قومی صحت نے کہا کہ پولیو کی وجہ سے حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام متاثر ہوا، پاکستان پر سفری پابندیوں کیلئے جال بنا گیا ، ہم نے ان پابندیوں کے خلاف سفارتی سطح پر کوششیں کیں۔ سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تقریریں کرنیوالے بتائیں کتنے اراکین قومی اسمبلی نے اپنے حلقوں میں پولیو مہم کی نگرانی کی۔ انہوں نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ پولیو کے خلاف آگاہی مہم میں کردار ادا کریں۔ سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ میٹرو بس کی رقم پولیو پر خرچ کرنے کی تجویز دینے والوں کو سوچنا چاہیے کہ سب کام ساتھ ساتھ چلتے ہیں، سابقہ دور حکومت میں وزرائے اعظم نے ایک ایک حلقے میں اربوں روپے لگائے۔ وزیر قومی صحت نے کہا کہ سندھ حکومت گڈاپ میں پولیو مہم تیز کرے، خیبرپختونخوا حکومت مردان اور صوابی میں پولیو مہم پر توجہ دے۔ انہوں نے پولیو کے خاتمے کیلئے قرارداد ایوان میں پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ تمام اراکین قومی اسمبلی اپنے حلقوں میں پولیو مہم نگرانی کا عہد کریں۔ وزیر مملکت شیخ آفتاب نے ایوان کو بتایا کہ طلبہ میں مفت کتب کی تقسیم کا عمل جاری ہے، جو افسران کسی بے قاعدگی میں ملوث ہیں ان کیخلاف کارروائی کی جاتی ہے، ورنہ ادارے نہیں چل سکتے۔ پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے سرکاری اداروں سے ملازمین کو نہ نکالنے کی قرارداد ایوان میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قومی اسمبلی نے سیالکوٹ میں انجینئرنگ یونیورسٹی کے قیام کیلئے قرارداد بھی منظور کر لی۔ وزیر مملکت شیخ آفتاب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف ملک سے بیروزگاری کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کسی بھی محکمے میں ضرورت سے زیادہ بھرتیاں نہیں کی جانی چاہئیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح دس بجے دوبارہ ہو گا۔

مزید : صفحہ اول


loading...