بھارت میں نریندر مودی کی متوقع فتح، مشکل وقت!

بھارت میں نریندر مودی کی متوقع فتح، مشکل وقت!
بھارت میں نریندر مودی کی متوقع فتح، مشکل وقت!

  


تجزیہ: چودھری خادم حسین

ہمسایہ ملک بھارت میں طویل انتخابی عمل مکمل ہوگیا اور ایک ماہ تک جاری رہنے والی رائے شماری پیر کو مکمل ہوگئی اب گنتی کا عمل مکمل ہوگا اور 16 مئی کو برسراقتدار آنے والی جماعت کا حتمی اعلان کردیا جاے گا، بھارت کی لوک سبھا کی 543 نشستوں کے ایوان میں برتری کے لئے 272 نشستوں کی ضرورت ہے، رائے شماری کا عمل مکمل ہوتے ہی بھارت کے پورے کے پورے میڈیا نے اپنے تجزئیے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اقتدار سونپ دیا ہے اور یہ رائے دی ہے کہ بی جے پی اتحاد کو بڑی آسانی کے ساتھ اکثریت حاصل ہوجائے گی اور اب تک کے اندازے کے مطابق اسے 280 نشستیں مل چکی ہیں۔ دوسری بڑی جماعت کانگرس ہی ہوگی جس کی نشستوں کا تخمینہ 125 بتایا گیا ہے یوں اس مرتبہ بی جے پی کو انتخابات کے بعد ایوان میں جوڑ توڑ کی ضرورت نہیں ہوگی اور وہ آسانی سے اکثریت حاصل کرکے حکومت بنالے گی یوں نریندر مودی پر لگایا جانے والا جوا کامیاب ہوا اور وہ وزیراعظم ہوں گے۔ من موہن سنگھ جمعرات کو پردھان منتری بھون خالی کردیں گے یہاں اب نریندر مودی براجمان ہوں گے۔

بھارت کے یہ انتخابات سخت انتخابی مہم کے بعد مکمل ہوئے جس میں دونوں طرف سے پاکستان ہی کو ہدف بنایا گیا اگرچہ پاکستان کی طرف سے ہمسایہ والے تعلقات کی پیشکش مسلسل کی جاتی رہی، کانگرس کی نسبت بی جے پی اور خصوصاً نریندر مودی بہت شدت سے پاکستان مخالف موقف کا اظہار کرتے اور ان کی انتخابی مہم تفرت انگیز تھی جبکہ مسلمان ووٹوں کے لئے بھارتی مسلمانوں کے پاﺅں تک چھولئے تھے۔

بھارتی انتخابات سے قبل کنٹرول لائن پر چھیڑ چھاڑ شروع کردی گئی تھی جو شدت بھی اختیار کرگئی اور اعلیٰ سطحی مداخلت پر اعلیٰ اختیاراتی اجلاس ہوئے اور فائرنگ رک گئی تھی یہ سلسلہ گزشتہ کچھ دنوں سے پھر شروع کیا گیا اور مبصرین اس صورت حال کو بھی انتخابی عمل سے ہی جوڑ رہے ہیں، بہرحال حتمی فیصلے میں اب صرف دو روز رہ گئے اور اقتدار نریندر مودی سے اب دو قدم کے فاصلے پر ہے۔

بھارتی عام انتخابات شروع ہونے سے قبل بھارت سے آنے والے صحافیوں سے بات ہوتی رہی تو ان کے خیال میں بی جے پی کو بالا دستی تو حاصل تھی لیکن وہ ایسی کامیابی کی توقع نہیں کرتے تھے، ان کے خیالمیں علاقائی جماعتیں زیادہ مضبوط ہوئی ہیں اور ہر دو بڑی جماعتوں کو مشکل پیش آئے گی لیکن بی جے پی نے ابتدا ہی سے اتحاد کی سیاست کی اور اب سروے کے مطابق اس اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوجائے گی۔

نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریات اور خیالات ڈھکے چھپے نہیں، اس لئے پاکستان کے لے اس محاذ پر بھی سخت وقت آنے والا ہے، اگرچہ ماضی کے ریکارڈ میں بی جے پی کے پردھان منتری (وزیراعظم) واجپئی کی لاہور آمد مثبت ثابت ہوئی تھی اس لئے بعض مبصر یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد جب حالات اس انتہا پسند مسلم دشمن نریندر مودی کے سامنے آئیں گے تو اسے اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی کہ انتخابی سیاست اور اقتدار کی سیاست الگ الگ حقیقتیں ہیں۔ بہرحال پاکستان حکومت کو کافی محتاط رہنا ہوگا۔

جہاں تک کسی تنازعہ یا جنگی جھڑپ کا مسئلہ ہے تو اس کی راہ میں ایٹم حائل ہے، پاکستان کے سپہ سالار نے حال ہی میں واضح کیا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج دفاع وطن کی اہل ہیں۔ اب دونوں طرف سے نئی ڈپلومیسی کا آغاز ہوگا، بہرحال کشمیری مسلمانوں کے لئے یہ جیت صدمے کا باعث ہے۔

پاکستان ان دنوں اندرونی خلفشار سے دوچار ہے، اب افغانستان کے بعد یہ نئی صورتحال ہے اس میں ہمیں اپنے ذاتی اور گروہی اختلافات کو بھلا کر قومی مفاد کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا، پاکستان کی قوم ہر مشکل گھڑی میں ثابت قدم ثابت ہوئی۔

مزید : تجزیہ


loading...