غداری کیس :سیکریٹری داخلہ 22مئی کو بطور گواہ طلب، حکومت نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ خصوصی عدالت میں پیش کر دی

غداری کیس :سیکریٹری داخلہ 22مئی کو بطور گواہ طلب، حکومت نے ایف آئی اے کی ...
غداری کیس :سیکریٹری داخلہ 22مئی کو بطور گواہ طلب، حکومت نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ خصوصی عدالت میں پیش کر دی

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)غداری کیس کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو بطور شکایت کنندہ 22مئی کو طلب کر لیا ہے ،عدالت کا کہنا تھا کہ کیس کے گواہوں میں پہلا بیان شکایت کنندہ سیکریٹری داخلہ کا ریکارڈ ہوگا، اگر وہ پیش نہ ہوئے تو مقدمہ خارج بھی ہوسکتا ہے ، اس سے قبل کے حکم پر وفاقی حکومت نے غداری کیس میں ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت کو پیش کی، رپورٹ 237صفحات پر مشمل ہے جس میں 24گواہوں کے بیانات 94صفحات پر مشتمل ہیں ، جس کے مطابق سابق صدر کے ساتھ شریک ملزموں نے صحت جرم سے انکار کرد یا ، رپورٹ میں غداری کیس کی تفتیش سے متعلق دیگر دستاویزات بھی شامل ہیں ،بیا نات کے علاوہ دیگر دستاویزات 125صفحات پر مشتمل ہیں ، شہادتوں کا خلاصہ 6صفحات پر مشتمل ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق پر ویز مشرف غداری کیس کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو بطور شکایت کنندہ 22مئی کو طلب کر لیا ہے ،عدالت کا کہنا تھا کہ کیس کے گواہوں میں پہلا بیان شکایت کنندہ سیکریٹری داخلہ کا ریکارڈ ہوگا، اگر وہ پیش نہ ہوئے تو مقدمہ خارج بھی ہوسکتا ہے ، عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے باقی گواہان پیش ہوںاو ر شکایت کنندہ ہی نہ آئے،قانون کے مطابق بیان قلم بند کروانے کے لیے گواہ عدالت طلب کیے گئے ،اس موقع پر بیرسٹر اکرم شیخ نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ قانون میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ شکایت کنندہ کا بھی بطور گواہ پیش ہونا ضروری ہے ، اکرم شیخ کا مزید کہنا تھا کہ شکایت کنندہ کا صرف درخواست دینا ہی کافی ہوتا ہے ۔ اس سے قبل عدالت نے استعاثہ اور وکلائے صفائی سے کہا کہ آپ دونوں مل کر آپس یں طے کریں گے کہ پہلے کس کو طلب کرنا ہے ، وکلا صفائی نے سیکریٹری داخلہ کا نام گواہوں کی فہرست میں داخل کرنے کا مطالبہ کیا تھا ، جبکہ پراسیکیوٹر اکرم شیخ کی جانب سے عدالت کو دس افراد کی فہرست فراہم کی گئی ۔علاوہ ازیں خصوصی عدالت کے حکم پر وفاقی حکومت نے غداری کیس میں ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت کو پیش کر دی، رپورٹ کل 237صفحات پر مشمل ہے جس میں 24گواہوں کے بیانات 94صفحات پر مشتمل ہیں ، رپورٹ میں غداری کیس کی تفتیش سے متعلق دیگر دستاویزات بھی شامل ہیں ،بیا نات کے علاوہ دیگر دستاویزات 125صفحات پر مشتمل ہیں ، شہادتوں کا خلاصہ 6صفحات پر مشتمل ہیں ۔ میڈیا کے نمائندوں کے مطابق اس رپورٹ میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے شریک ساتھیوں نے تین نومبر 2007ءکے اقدام سے شرکت جرم کرنے سے انکار کیا ہے ۔پر ویز مشرف کے ان قریبی ساتھیوں سابق اٹارنی جنرل شریف الدین پیر زادہ ،سابق اٹارنی جنر ل ملک قیوم ،سابق گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد مقبول ،گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے اپنے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ سابق صدر کے 3نومبر کے اقدام میں وہ شریک جرم نہیں ہیں ۔ ان کا کہنا ہے سابق صدر کے دعووں کے برعکس 2نومبر 2007ءکو کوئی اعلی سطح اجلاس نہیں ہوا ۔ حکومت کی جانب سے اس رپورٹ کی نقول وکلائے صفائی کو دی جائے گی ، کیس کی سماعت اب 22مئی کو ہوگی ،سماعت کے موقع پر شہادتیں ریکارڈ کروانے کا عمل شروع ہوگا ۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...