جیوکیخلاف 65,000سے زائد شکایات پیمراکو موصول ، ایک نکتے پر ڈس کوالیفائی ہوسکتاہے: رکن پیمرا

جیوکیخلاف 65,000سے زائد شکایات پیمراکو موصول ، ایک نکتے پر ڈس کوالیفائی ...
Geo

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) جیونیوز کو تین برس میں 36شوکاز نوٹس اور چھ باروارننگ جاری کی گئی ، رکن پیمرااسرارعباس کاکہناتھاکہ پیمرا کے پاس سندھ حکومت کی ”جیو“ کیخلاف 34 کروڑ روپے کا نادہندہ ہونے کی درخواست بھی موجود ہے جبکہ سابق وفاقی وزیراطلاعات جاوید جبار نے کہاہے کہ اُن کے وقت کے چیئرمین پیمرا نے میڈیاکمشن کے سامنے ”جیو“ کے پروگراموں کو غیرملکی فنڈ کا بیان دیا تھا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اپریل کے آخری 10 روز سے 7 مئی تک صرف ویب سائٹ کے ذریعے درج کرائی گئی شکایات کی تعداد 65 ہزار 957 ہے جبکہ فون، ایس ایم ایس اور فیکس کے ذریعے شکایات اس سے زیادہ ہیں۔ پیمرا ذرائع کے مطابق جیو نیوز کو تین سالوں میںچھ بار وارننگ دی گئی۔دوسری طرف پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے رکن اسرار عباسی نے بتایا کہ ”جیو“ کیخلاف بدعنوانی اور دیگر الزامات کے حوالے سے ہزاروں شکایات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی چند ہفتے قبل جیو نے پیمرا کو درخواست دی تھی کہ وہ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تبدیلی چاہتے ہیں، جب تک کوئی چینل کسی کا ڈیفالٹر ہو اور جن اداروں سے ملکر کام کررہا ہو، انکی طرف سے این او سی نہ لے آئے، بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کی یہ شکایات موجود ہے کہ ”جیو“ سندھ حکومت کا 34 کروڑ روپے کا نادہندہ ہے، جب وہاں سے این او سی کا کہا گیا تو ہمیں بتایا گیا کہ لے لیا گیا ہے لیکن سندھ حکومت سے پوچھنے پر معلوم ہوا این او سی نہیں لیا گیا، غلط بیانی پر ہم نے جیو کو شوکاز نوٹس بھیجا۔ اسرار عباسی نے بتایا کہ اس ایک نکتے پر بھی چینل کو ڈس کوالیفائی کیا جاسکتا ہے۔اُدھرسابق وفاقی وزیر اطلاعات جاوید جبار نے کہا ہے کہ پیمرا کے اس وقت کے چیئرمین چودھری رشید احمد نے میڈیا کمشن کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ ”جیو“ اپنے پروگراموں ”ذرا سوچئے“ اور ”امن کی آشا“ کیلئے غیرملکی فنڈ حاصل کرتا ہے، میڈیا کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد اور سیکرٹری سلیم گل بھی اس کے گواہ ہیں تاہم بعد میں کسی نامعلوم وجہ کی بنیاد پر پیمرا کے ارکان اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے لیکن ہم نے تحریری طور پر عدالت میں بیان دیا کہ پیمرا ارکان نے ہمارے سامنے بیان دیا تھا۔ یادرہے کہ جیو دعویٰ کرتاہے کہ اُن کے خلاف الزامات کو ثابت کیاجائے۔

مزید : لاہور /اہم خبریں


loading...