پاکستانی قبائلی علاقوں میں 72 فیصد بچے سکول چھوڑ گئے : فرانسیسی میڈیا

پاکستانی قبائلی علاقوں میں 72 فیصد بچے سکول چھوڑ گئے : فرانسیسی میڈیا
پاکستانی قبائلی علاقوں میں 72 فیصد بچے سکول چھوڑ گئے : فرانسیسی میڈیا

  


نیویارک،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )فرانسیسی میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران دہشت گردوں نے قبائلی علاقوں میں481 سکول تباہ کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ان سکولوں میں سے 158 کی بحالی ممکن ہوسکی جبکہ فنڈز کی کمی کے باعث 323 سکول ابھی تک ویران پڑے ہیں۔ وفاقی حکومت کی طرف سے قبائلی علاقوں کے معاملات کو چلانے کے لیے قائم فاٹا سیکرٹریٹ کے سال 2013ءکے اعداد و شمار کے مطابق سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے نرسری سے پانچویں تک 60 فیصد سے طلبہ سکول چھوڑ چکے ہیں جبکہ چھٹی کلاس سے دسویں تک ایسے طلبہ کی تعدد 72 فیصد سے زائد ہے۔پشاور سے متصل خیبر ایجنسی میں تباہ شدہ سکولوں کی وجہ سے ایک لاکھ 40 ہزار بچے تعلیم کے حق سے محروم ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد میں بچے دہشت گردوں کی کاروائیوں اوران کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن کی وجہ سے اپنے والدین کے ساتھ نقل مکانی کرچکے ہیں۔ وزیرستان سٹوڈنٹس سوسائٹی کے صدر ہاشم اللہ داوڑ کے مطابق قبائلی علاقوں میں تعلیمی اداروں کا کوئی انفراسٹرکچر نہیں۔ ہفتے میں دو دن علاقے میں کرفیو ہوتا ہے اور ایک بڑا مسئلہ غیر مقامی اساتذہ کی تعیناتی بھی ہے۔ باہر سے یہاں آنیوالے اساتذہ ڈیوٹی کے لیے تیار نہیں ہیں ۔

مزید : قومی


loading...