ترکی:کوئلے کی کان میں دھماکہ،238 کان کن ہلاک، درجنوں ملبے تلے دب گئے

ترکی:کوئلے کی کان میں دھماکہ،238 کان کن ہلاک، درجنوں ملبے تلے دب گئے
ترکی:کوئلے کی کان میں دھماکہ،238 کان کن ہلاک، درجنوں ملبے تلے دب گئے

  


استنبول (نیوز ڈیسک)ترکی کے مغربی علاقے سوما میں واقع کوئلے کی کان میں دھماکے اور آتشزدگی سے کم از کم 238 ہلاکتوں کے بعد امدادی کارکن کان میں پھنسے درجنوں کان کنوں کی تلاش کر رہے ہیں۔کان سے درجنوں افراد بچ نکلے تھے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 120 افراد ابھی تک کان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے علاقے کا دورہ کیا اور لوگوں کے ساتھ اظہارِ تعزیت کیا۔ان کا کہنا تھا کہ امدادی کاموں کے لیے تمام دستیاب وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔اس سے قبل وزیرِاعظم نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔جس وقت ایمبیولینس ہلاک شدگان کی لاشیں لے جا رہی تھی تو ان کے رشتے دار آہ و زاری اور غم سے نڈھال نظر آئے۔کان میں پھنسے لوگوں کے اہلِ خانہ موقع پر جمع ہو گئے ہیں۔اس وقت کان اور مقامی ہسپتال کے باہر لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہے۔ہسپتال کے باہر لوگوں کا کہنا ہے کہ جب تک وہ اپنے عزیزوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں سن لیتے وہ وہاں سے نہیں جائیں گے۔دریں اثنا اس حادثے پر استنبول اور انقرہ میں لوگ احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔پولیس نے مظاہرین پر اشک بار گولوں کا استعمال کیا۔ترکی کے وزیرِ توانائی تانر یلدیز نے ٹیلی ویژن پر ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے وقت کان میں 780 سے زیادہ کان کن موجود تھے۔انھوں نے کہا کہ کان میں بجلی کی ترسیل کے نظام میں خرابی کی وجہ سے دھماکہ ہوا اور اس کے نتیجے میں کان میں نصب لفٹیں اور تازہ ہوا پہنچانے کا نظام بند ہو گیا۔امدادی کارکن کان میں اب بھی پھنسے ہوئے سینکڑوں کان کنوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کان میں آکسیجن پمپ کی جا رہی ہے۔دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں تاہم جس جگہ یہ کان کن پھنسے ہوئے ہیں وہ زمین سے دو کلومیٹر نیچے اور کان کے منہ سے چار کلومیٹر دور ہے۔مقامی اہلکار محمد بہتن آتچی نے بتایا کہ اس نجی ملکیتی کان میں دھواں بھر گیا ہے جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ایک نجی ٹی وی کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیرِ توانائی تانر یلدیز نے امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے سوما روانگی سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہلاکتوں کے بارے میں مختلف اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں۔ میں کوئی تعداد نہیں بتانا چاہتا۔ ہمیں پہلے زیرِ زمین پھنسے کان کنوں تک پہنچنا ہوگا۔‘تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیشتر صنعتی ممالک کے مقابلے میں ترکی میں کوئلے کی کانوں کا حفاظتی ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں۔ترکی میں کان کنی کا بدترین حادثہ 1992 میں پیش آیا تھا جب بحیرہ اسود کے قریب واقع ایک کان میں حادثے سے 270 کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...