عوام کو آن لائن زندگی کا کنٹرول مل گیا

عوام کو آن لائن زندگی کا کنٹرول مل گیا
عوام کو آن لائن زندگی کا کنٹرول مل گیا

  


لندن (نیوز ڈیسک) انٹرنیٹ پر ہمیں دنیا جہاں کی معلومات تو دستیاب ہیں لیکن اب یہ ایک ایسے بے قابو جن کی صورت اختیار کرگیا ہے کہ جس پر کسی کا کنٹرول نہیں۔ جہاں ایک طرف یہ مفید معلومات کا سمندر ہے تو وہیں افراد اور اداروں کے متعلق اس پر ایسی معلومات بھی دستیاب ہیں جو کہ ان کی پرائیویسی اور مفادات کیلئے نقصان دہ ہیں۔ کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ اگر کوئی گوگل پر آپ کا نام لکھ کر سرچ کرے تو اس کو کیا کیا دیکھنے کو ملے گا۔ اسی مسئلہ کے حل کیلئے یورپین یونین کورٹ آف جسٹس نے گوگل اور اس جیسے دوسرے سرچ انجنوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسا نظام کریں کہ لوگوں کے بارے میں انٹرنیٹ پر ایسی معلومات دستیاب نہ ہوں جو کہ وہ عام نہیں کرنا چاہتے۔ عدالت کا یہ حکم ایک سپینی باشندے کی درخواست پر آیا۔ ماریوگونزالیز نامی اس شخص نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ گوگل کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ ان اخباری رپورٹوں کی انٹرنیٹ پر دستیابی کو ختم کرکے جن میں اس کے 1998ءکے سوشل سیکیورٹی قرضوں کی بات کی گئی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کے قرضوں کا تنازعہ کئی سال پہلے حل ہوچکا ہے مگر انٹرنیٹ پر اب بھی پرانی معلومات دستیاب ہیں۔ دوسری طرف گوگل نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے سرچ انجنوں کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی


loading...