ایرانی خواتین ’بے حجاب‘ ہو گئیں

ایرانی خواتین ’بے حجاب‘ ہو گئیں
ایرانی خواتین ’بے حجاب‘ ہو گئیں

  


 لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)  ایران میں عورتوں کیلئے حجاب پہننا قانوناً لازمی ہے لیکن ایسا طبقہ بھی پایا جاتا ہے جو اس پابندی سے خوش نہیں . ایسی ہی عورتوں کی ایک بڑی تعداد آج کل ”سٹیلتھی فریڈم آف ارینین ویمن“ نامی فیس بک پیج پر اپنی حجاب کے بغیر تصاویر دھڑا دھڑ بھیج رہی ہیں، لندن میں مقیم ایرانی خاتون صحافی مسیح النجاد نے  حال ہی میں اس پیج کا آغاز کیا ۔ اب بے شمار عورتوں نے اس پیج پر اپنی تصاویر بھیجی ہیں جن میں وہ مختلف جگہوں پر حجاج کے بغیر نظر آرہی ہیں۔ خاتون صحافی نے برطانیہ کے  اخبار گارڈین کو بتایا کہ وہ حجاب کے خلاف نہیں ہیں لیکن اس کے زبردستی نفاذ کے خلاف ہیں۔ ان کی والدہ اور بہن بھی حجاب پہنتی ہیں اور وہ خود بھی 30 سال تک حجاب پہنتی رہی ہیں۔ان کے مطابق مقصد صرف یہ ہے کہ عورت کیلئے آزادی ہونی چاہیے کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ اس نے حجاب پہننا ہے یا نہیں۔ جو خواتین حجاب پہننا چاہتی ہیں اُن کو آزادی ہونی چاہیے اور جو نہیں پہننا چاہتی انہیں بھی اس کی آزادی ہونا چاہیے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی عورتوں کا فیس بک پر حجاب کے بغیر تصویریں بھیجنا ان کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ماضی میں ایرانی حکومت اس جرم کی پاداش میں خواتین کو بھاری جرمانے، جیل اور کوڑوں کی سزا دے چکی ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...