سائنسدانوں نے تعلیمی نظام کا پول کھول دیا

سائنسدانوں نے تعلیمی نظام کا پول کھول دیا
سائنسدانوں نے تعلیمی نظام کا پول کھول دیا

  


 
نیویارک (نیوز ڈیسک) کالج یا یونیورسٹی میں جب پروفیسر صاحب لیکچر دے رہے ہوتے ہیں تو بعض طلباءکو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا سب کچھ اوپر سے گزرتا جارہا ہے اور لیکچر کے بعد کوئی قابل ذکر بات یاد نہیں ہوتی۔ اگر آپ کو بھی کبھی ایسا لگا ہے تو گھبرائیے نہیں اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں بلکہ آپ کے استاد کے پڑھانے کا طریقہ ہی ٹھیک نہیں۔ امریکہ میں ”پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز“ کے تحت شائع ہونے والی فری مین اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ لیکچر دینے کا روایتی طریقہ جس میں استاد صاحب کھڑے ہوکر بولتے رہتے ہیں اور طلباءبیٹھے سنتے رہتے ہیں پڑھانے کا ایک غیر موثر طریقہ ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے لیکچر کی بجائے اگر طلباءکو پڑھائی کے عمل میں شامل کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے جسے ”ایکٹو لرننگ“ کہا جاتا ہے، تو اس سے پاس ہونے والے طلبا کی تعداد میں 6 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے اور B- والے طلباءکا گریڈ B ہوسکتا ہے۔ ”ایکٹولرننگ“ کے طریقوں میں طلباءکے ساتھ سوال جواب، بحث مباحثہ، عملی سرگرمیاں اور گروپ بنا کر دئیے گئے موضوع پر بحث اور تحقیق کرنا شامل ہے۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی


loading...